قرآن وحدیث میں تطبیق:
’’ احناف کے اصولِ فقہ کا مشہور کلیہ ہے کہ جب قرآن و حدیث میں تعارض ہو تو پہلے تطبیق کی کوشش کی جائے۔ تطبیق ہو جائے تو بہترورنہ بدرجۂ مجبوری کتابُ اﷲ کے مقابلہ میں خبر آحاد ضرور متروک ہوں گی ۔
بات یہ ہے کہ جب قرآن مجید کے قطعی الدلالت معنی کے معارض کوئی روایت ہے تو وہ حدیث ہی نہیں اگرچہ وہ سب طرح سے درست ہو۔ یہ قاعدہ بھی احناف کا تراشیدہ نہیں ، صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے منقول ہے۔ حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں کسی نے کہا کہ ابن عمر رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ :
ان المیت یعذب ببکاء الحی۔() زندہ کے رونے سے میت پر عذاب ہوتا ہے۔
ام المؤمنین رضی اﷲ عنہا نے فرمایا، اﷲ عزوجل ابو عبدالرحمٰن رضی اﷲ عنہ پر رحم فرمائے ۔یہ یقین ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولے مگر بھول گئے یا چوک گئے۔ قصہ یہ ہے کہ رسول اﷲﷺ کے سا منے ایک یہودی عورت کا جنازہ گزرا۔ فرمایا، یہ لوگ اس پر رورہے ہیں حالانکہ اس پر قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ حضرت ام المؤمنین رضی اﷲ عنہا کی یہ تنقید اس حدیث کے قرآن کی اس آیت کے معارض ہونے کی وجہ سے تھی کہ فرمایا: وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَاُخَرَیٰ۔()
کوئی دوسرے کا وبال نہیں اٹھائے گا۔
قرآن و احادیث دونو ں پر احناف کبھی کبھی ایسے اہم نازک موقعوں پر عمل کر لیتے ہیں کہ ہر منصف ،دیانت داراور ذی فہم داد دیے بغیر نہیں رہ سکے گا ۔اس کی مثال قرأت خلف امام ہے جس کی قدرے تفصیل یہ ہے:
احناف کا مسلک یہ ہے کہ جب جماعت سے نماز پڑھی جائے تو مقتدی قرأت نہیں کرے گا، خاموش رہے گا، خوا ہ نماز سرّی ہو یا جہری ۔
غیر مقلدین یہ کہتے ہیں کہ مقتدی سورۃ فاتحہ ضرور پڑھے گا ان کی دلیل یہ حدیث ہے : لاصلوٰۃالا بفاتحۃ الکتاب او کما قال۔()سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
احناف کی دلیل قرآن مجید کا یہ ارشاد ہے :
وَاِذَا قُرِیَٔ القُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْن۔()
’’اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنواور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘۔
یہ آیت نماز ہی میں قرآن مجید پڑھنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس لئے یہ اپنے مورد کے اعتبار سے نماز میں قرآن پڑھے جانے کے بارے میں اور قطعی ہو جاتی ہے۔اور اگر نماز کے بارے میں نہ بھی ہوتی جیسا کہ معاندینِ احناف کی ضد ہے تو بھی اذا قریٔ القرآنکاعموم نماز میں قرآن پڑھے جانے کو بھی بلا شبہ شامل ہے۔اس لئے نماز میں قرآن مجید پڑھے جانے کے وقت استماع اور سکوت بنصِ قراٰنی ثابت ہے۔اور حکم صرف بغور سننے کا نہیں بلکہ خاموش رہنے کا بھی ہے۔حالانکہ بغور سننے کے لئے خاموش رہنا لازم ہے جو خاموش نہ رہے اور خود بولے جائے وہ کیا سنے گا۔ بغور سننے کے بعد خاموش رہنے کو علیحدہ ذکر کرنے کا سبب یہ ہے کہ کچھ نمازوں میں قرآن مجید بلند آواز میں پڑھا جاتا ہے ،اور کچھ میں آہستہ جن میں بلند آواز سے پڑھا جاتا ہے ان میں بغور سننے کے ساتھ خاموش رہنا پایا ہی جائے گا۔جن نمازوں میں آہستہ پڑھا جاتا ہے ان میں چونکہ سنائی نہیں دیتا توبغور سننا تو نہ ہو گا مگر چپ رہنا ضروری ہوگا۔اس لئے نماز خواہ سرّی ہو خواہ جہری ،امام جب قرأت کرے تو مقتدی پر چپ رہنا بہرحال ضروری ہے،کچھ پڑھنے کی اجازت نہیں ۔
اس پر ایک اعتراض امام بخاری نے جزء القرأۃ میں یہ کیا کہ یہ آیت خطبے کے وقت نماز پڑھنے کے بارے میں نازل ہو ئی۔یعنی جب خطبہ ہو رہا ہو اور کوئی آئے تو دو رکعت نماز پڑھے،اس نماز میں یہ قرآن پڑھ رہا ہے اور حاضرین خاموش ہیں ۔مگر اس کے متعلق وہ کوئی سند نہیں پیش کر سکے ۔ان کے برخلاف امام بخاری رحمہ اللہکے استاذ امام احمدرحمہ اللہ نے فرمایا، اس پر اجماع ہے کہ یہ آیت مطلقاً نماز میں قرأت کے بارے میں نازل ہوئی ۔اسی بناء پر وہ جہری نمازوں میں مقتدی کو قرأت کی اجازت نہیں دیتے ۔اس سے قطع نظر نص جب عام ہو تو حکم مورد کے ساتھ خاص نہیں رہتا، عام ہی رہتا ہے۔
Page 127 of 168

