جب آیت کا صریح مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی قرآن پڑھے تو تم لوگ بغور سنو اور خاموش رہو۔قرأت اور خاموش رہنے کی تاویل تو امام بخاری نے کر لی کہ آنے والا قرأت کر رہا ہے لوگ چپ ہیں ۔اگرچہ یہاں حاضرین کاچپ رہنا اس کی قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ خطبہ کی وجہ سے ہے ۔مگر بغور سننے کا یہاں کیا محل؟اسے امام بخاری نے نہیں بتایا ۔ یہ اشکال لاینحل ہے ۔لہٰذا اگر اس آیت کو خطبے کی حالت کے ساتھ خاص کریں تو لازم آئے گا کہ فاستمعوا لہ کا ارشاد حشو اور بے معنی ہو جائے ‘‘۔()
باب سیزدہم(13) فقہ حنفی کی تدوین
فقہ اپنی وسعت و جامعیت کے اعتبار سے زندگی کے تمام مسائل پر حاوی ہے۔ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانے تک اگرچہ فقہ کے بعض مسائل مدون ہوچکے تھے لیکن اسے باقاعدہ ایک کامل دستور اور جامع قانون کی حیثیت حاصل نہ تھی۔ اس وقت تک نہ تو استدلال و استنباطِ مسائل کے قواعد مقرر ہوئے تھے نہ ہی ایسے اصول و ضوابط طے ہوئے تھے جن کی روشنی میں احکام کی تفریع کی جاتی۔
بارہا امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے سرکاری قاضیوں اورحکام کو فیصلوں میں غلطیاں کرتے دیکھا، یہ بھی تدوینِ فقہ کا ایک سبب تھا۔ نیز تمدن میں وسعت کی وجہ سے روز بروز نئے مسائل پیدا ہوتے جارہے تھے۔ اطراف و بلاد سے آنے والے سینکڑوں استفتاء امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آنے لگے توآپ نے یہ ارادہ کیا کہ احکام و مسائل کے وسیع و کثیر جزئیات کو اصولوں کے ساتھ ترتیب دیکر ایک جامع فن کی شکل دیدی جائے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے اسلامی دستور مشعلِ راہ بن جائے۔
چنانچہ آپ نے تدوینِ فقہ کے عظیم کام کے لیے اپنے شاگردوں میں سے چالیس نامور افراد جو اپنے اپنے فن کے ماہر تھے، ان کا انتخاب کرکے ایک دستوری کمیٹی تشکیل دی۔ یہ سب ائمہ حضرات درجۂ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ ان اراکین ِکمیٹی میں امام ابویوسف،امام داؤد طائی،حضرت یحییٰ بن ابی زائدہ، حضرت حفص بن غیاث اور حضرت عبداﷲ بن مبارک کو روایت اور حدیث و آثار میں خاص کمال حاصل تھا۔ حضرت قاسم بن معن اور امام محمد عربیت اور ادب میں مہارت رکھتے تھے جبکہ امام زفر قوتِ استنباط میں مشہور تھے۔ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین
معروف دانشور ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ،’’امامِ اعظم ابوحنیفہ نے ایک کارنامہ انجام دیا جو اسلای قانون کی تاریخ میں سب سے زیادہ اہم اور یادگار کارنامہ ہے۔ اس زمانے میں امام مالک ، امام اوزاعی وغیرہ بڑے بڑے فقیہ موجود تھے۔ انہوں نے کتابیں بھی لکھیں لیکن ان کی کوششیں انفرادی تھیں ۔ امام ابوحنیفہ نے سوچا کہ انفرادی کوشش کی جگہ ، اسلامی قانون کی تدوین اگر اجتماعی طور پر کی جائے تو بہتر ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے بہت سے شاگردوں میں سے چالیس ماہرینِ قانون منتخب کر کے ایک اکیڈمی قائم کی۔
انتخاب میں اس بات کا خیال رکھا کہ جو لوگ قانون کے علاوہ دیگر علوم اور معاملات کے ماہر ہوں ، انہیں بھی اکیڈمی کا رکن بنایا جائے غرض مختلف صلاحیتوں کے ماہرین کو اس اکیڈمی میں جمع کیا گیا ‘‘۔()
چونکہ فقہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق مسائل پر مبنی ہے اس لیے امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے مختلف علوم وفنون کے ماہرین کو جمع کیا اور پھر ان کی معاونت سے اسلامی قوانین کو مرتب کرنے میں مصروف ہو گئے۔
تدوین کا طریقہ یہ تھا کہ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ اپنی مسند پر رونق افروز ہوتے، آپ کے سامنے کوئی مسئلہ پیش کیا جاتا اور پھر اس مسئلہ پر آپ کے تلامذہ گفتگو کرتے ۔ بعض اوقات بحث و تمحیص میں ان کی آوازیں بلند ہونے لگتیں اور دیر تک بحث ہوتی رہتی۔ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نہایت خاموشی سے ان کی گفتگو سنتے رہتے پھر جب آپ گفتگو شروع کرتے تو ہر طرف خاموشی چھا جاتی۔
Page 128 of 168

