ایک دن امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کسی مسئلہ پر گفتگو فرما رہے تھے اور یہ سب حضرات خاموش بیٹھے سن رہے تھے۔ ایک شخص نے یہ منظر دیکھ کر کہا، ’’پاک ہے وہ ذات جس نے امام ابوحنیفہ کے لیے ان حضرات کو خاموش کرایا‘‘۔
امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کا یہ طریقہ تھا کہ آپ اپنے تلامذہ سے بحث کرتے۔ کبھی تو آپ کے اصحاب دلائل سن کر آپ کی بات مان لیتے اور کبھی آپ کے دلائل کے مقابل اپنے دلائل پیش کرتے۔ امام اعمش رحمہ اللّٰہ آپ کے طریقۂ کار پر یوں تبصرہ کرتے ہیں، ’’جب اس مجلس کے سامنے کوئی مسئلہ پیش ہوتا ہے تو اس کے اراکین اس مسئلے کو اس قدر گردش دیتے ہیں اور اس کے ہر پہلو کا اس قدر غور سے جائزہ لیتے ہیں کہ بالآخر اس حل روشن ہو جاتا ہے‘‘۔
صدر آلائمہ علامہ موفق رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں،
امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے مذہب کی اساس اپنے تلامذہ کی شوریٰ پر رکھی اور ان پر اپنی رائے مسلط نہ کی۔ اس سے آپ کا مقصد دین میں احتیاط اور خدا و رسول ﷺ سے پُر خلوص تعلق میں انتہائی حد تک کوشاں رہنا تھا۔ آپ ایک مسئلہ پیش کرکے اپنے تلامذہ کی رائے سنتے اور پھر اپنا نظریہ بیان فرماتے۔ ضرورت ہوتی تو ایک ماہ یا زیادہ عرصہ بحث ہوتی۔ حتیٰ کہ جب کسی ایک قول پر آکر بات ٹھہر جاتی تو امام ابو یوسف رحمہ اللّٰہ اسے اصول میں درج کرلیتے اس طرح انہوں نے سب اصول تحریر کرلیے۔
خطیب بغدادی رحمہ اللّٰہ نے لکھا ہے کہ:
اگر کسی مسئلہ میں بحث شروع ہوجاتی اور امام عافیہ رحمہ اللّٰہ اس وقت موجود نہ ہو تے تو امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ فرماتے، اس بحث کو عافیہ کے آنے تک ختم نہ کرو۔ جب عافیہ آجاتے اور وہ سب کی رائے سے متفق ہوجاتے تو امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ فرماتے، اب اس مسئلہ کو لکھ لو۔
ان چالیس میں سے دس یا بارہ آئمہ کی ایک اور خصوصی مجلس تھی جس میں امامِ اعظم کے علاوہ امام ابو یوسف ، امام زفر، داؤد طائی، عبدﷲ بن مبارک، یحییٰ بن زکریا، حبان بن علی، امام مندل بن علی، عافیہ بن یزید، علی بن مسہر، علی بن ظبیان، قاسم بن معن اور اسد بن عمرو شامل تھے جو فیصلہ کو حتمی شکل دیتی اور پھر اسے تحریر کردیا جاتا۔ رضی اللّٰہ عنہم اجمعین
دستورِ اسلامی کی تدوین کا یہ عظیم الشان کام ا۱۲ ھ میں شروع ہوا اور کئی سال جاری رہا حتیٰ کہ آپ کی اسیری کے ایام میں بھی یہ کام جاری تھا۔ اس دستور کے جتنے اجزاء تیار ہوجاتے، ساتھ ہی ساتھ انہیں شائع کردیا جاتا ۔ یہ مجموعہ ’’کتبِ فقہ ابی حنفیہ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔
محدث علی قاری رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، ’’ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے تراسی ہزار (83،000) مسائل طے کیے، ان میں سے اڑتیس ہزار(38،000)عبادات سے متعلق اور دیگر پینتالیس ہزار (45،000) مسائل معاملات سے متعلق تھے‘‘۔
آزاد خیال عالم شبلی نعمانی بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ:
’’امام ابوحنیفہ نے جس قدر مسائل مدوّن کیے ان کی تعداد بارہ لاکھ نوے ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔ شمس الائمہ کردری نے لکھا ہے کہ یہ مسائل چھ لاکھ تھے۔ یہ خاص تعداد شاید صحیح نہ ہو لیکن کچھ شبہ نہیں کہ ان کی تعداد لاکھوں سے کم نہ تھی۔ امام محمد کی جو کتابیں آج موجود ہیں ، ان سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے‘‘۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ نے اپنے شاگردوں کو تدوینِ فقہ کا اس قدر ماہر بنا دیا تھا کہ یہ کام آپ کے وصال کے بعد بھی جاری رہا۔
ایک شخص نے امام وکیع رحمہ اللّٰہ سے کہا،
’’امام ابوحنیفہ سے غلطی ہوئی‘‘۔ تو امام وکیع الجراح رحمہ اللّٰہ نے فرمایا، جو لوگ یہ کہتے ہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے زیادہ گمراہ ہیں ۔ امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ غلطی کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ امام ابو یوسف اور امام زفر جیسے فقہ کے امام تھے اور یحییٰ بن زکریا بن زائدہ، حفص بن غیاث، امام حبان، امام مندل جیسے محدثین تھے اور قاسم بن معن جیسے لغت و عربیت کے ماہر تھے اور داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسے زہد و تقویٰ کے امام موجود تھے۔ تو جس کے ساتھی ایسے لوگ ہوں اس سے خطا کیونکر ممکن ہے، کیونکہ اگر وہ غلطی کرتے تویہ لوگ ان کو حق کی طرف لوٹادیتے‘‘۔ رحمۃ اللّٰہ علیہم اجمعین

