امام وکیع رحمہ اللّٰہ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ تدوینِ فقہ میں جو لوگ شریک تھے وہ سب علم و فضل کے اعتبار سے استادِ زمانہ اور رہبر و راہنما کی حیثیت کے حامل تھے۔ ان اکابرینِ امت نے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی فقہی بصیرت اور مجتہدانہ راہنمائی میں فقہ حنفی کی تدوین کرکے اسے مذاہبِ ثلاثہ ( مالکی، شافعی اور حنبلی مذاہب) کے لیے نشانِ راہ اور سنگِ میل بنادیا۔
فقہاء نے کیا خوب فرمایا ہے، ’’فقہ کا کھیت حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے بویا، حضرت علقمہ رضی اللّٰہ عنہ نے اسے سیراب کیا ،حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ نے اسے کاٹا، حضرت حماد رضی اللّٰہ عنہ نے اس کا اناج جدا کیا، امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ نے اسے پیسا، امام ابو یوسف رضی اللّٰہ عنہ نے اسے گوندھا اور امام محمد رضی اللّٰہ عنہ نے اس کی روٹیاں پکائیں جبکہ باقی لوگ اس کے کھانے والے ہیں ‘‘۔
کتبِ فقہ کی تدوین:
امتِ مسلمہ کی سہولت اور علماء کی آسانی کے لیے سب سے پہلے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے تدوینِ کتب کی ضرورت محسوس کی اور علمِ شریعت کی تدوین فرمائی۔
امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمہ اللّٰہ رقم طراز ہیں،
’’امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے مناقب میں یہ صفت منفرد اور خاص ہے کہ آپ ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے علمِ شریعت کی تدوین کی اور اسے ابواب میں تقسیم فرمایا پھر اس کی پیروی امام مالک نے ’’ موطا‘‘ کی ترتیب میں کی۔ امام صاحب سے پہلے کسی نے ایسا نہ کیا کیونکہ صحابہ کرام اور تابعین نے علمِ شریعت کو نہ تو ابواب میں تقسیم کیا اور نہ ہی کوئی کتاب مرتب کی بلکہ وہ اپنے حافظہ کی قوت پر اعتماد کرتے تھے۔
جب امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے دیکھا کہ علم منتشر ہوتا جارہا ہے تو انہیں اس کے ضائع ہو نے کا خوف ہوا تو آپ نے اسے مدون کر کے ابواب میں تقسیم کیا۔ آپ نے علم الفقہ کو باب الطہارۃ سے شروع کیا پھر باب الصلوٰۃ، پھر تمام عبادات پھر معاملات اور آخر میں وراثت کا باب مرتب کیا‘‘۔’’امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ سے پہلے مسائل بیان کیے جاتے تھے مگر جس ترتیب اور ضبط سے امام صاحب نے تدوین فرمائی وہ آپ ہی کی اولیت ہے‘‘۔
علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں،
’’آپ سب سے پہلے وہ شخص ہیں جس نے علمِ فقہ کی تدوین کی اور اس کو ابواب میں مدون کیا اور اس کی کتابیں مرتب کیں جیسا کہ آج کل موجود ہیں ۔ امام مالک رحمہ اللّٰہ نے اپنی کتاب ’’موطا‘‘ میں انہیں کی پیروی کی ۔ اس سے قبل لوگ اپنی یاد داشت پر اعتماد کرتے تھے۔ آپ ہی سب سے پہلے شخص ہیں جس نے کتاب الفرائض اور کتاب الشروط وضع کی‘‘۔
’’تعجب ہے کہ جن لوگوں کو امام صاحب سے ہمسری کا دعویٰ تھا وہ بھی (امامِ اعظم کی) اس کتاب سے بے نیاز نہ تھے۔ امام سفیان ثوری نے بڑے لطائف الحیل سے کتاب الرہن کی نقل حاصل کی اور اس کو اکثر پیشِ نظر رکھتے تھے۔ زائدہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن سفیان کے سرہانے ایک کتاب دیکھی جسکا وہ مطالعہ کررہے تھے۔ ان سے اجازت مانگ کر میں اس کو دیکھنے لگا تو وہ امام ابوحنیفہ کی کتاب الرہن نکلی۔ میں نے تعجب سے پوچھا، کہ آپ ابوحنیفہ کی کتابیں دیکھتے ہیں ؟، بولے،’’ کاش ان کی سب کتابیں میرے پاس ہوتیں ‘‘۔ یہ بھی کچھ کم تعجب کی بات نہیں کہ اس وقت بڑے بڑے مدعیانِ فن موجود تھے اور ان میں بعض امام ابوحنیفہ کی مخالفت بھی رکھتے تھے تاہم کسی کو اس کتاب کی رد و قدح کی جرأت نہیں ہوئی۔

