Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 131 of 168
حنفی فقہ جس میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے علاوہ ان کے نامور شاگردوں کے مسائل بھی شامل ہیں ، دنیائے اسلام کا بہت بڑا مجموعۂ قوانین تھا۔ اگرچہ بعد میں علمائے حنفیہ نے اس میں بہت سا اضافہ کیا ، لیکن امام ابو یوسف و امام محمدرحمہما اللہاور آپکے دیگر شاگرد آپکے طریقۂ اجتہاد کی پیروی کرتے ہوئے اور آپکے مرتب کردہ فقہی قواعد و اصول کے مطابق ہی قرآن و حدیث سے مسائل اخذ کرتے رہے۔ اسی بناء پر امامِ اعظم رضی اللہ عنہ ’’ مجتہدفی الشرع‘‘ ہیں اور آپکے ان شاگردوں کو ’’مجتہد فی المذہب‘‘ کا درجہ حاصل ہے اور وہ اصول میں امامِ اعظم رضی اللہ عنہ ہی کے مقلد ہیں ۔
امام ابو یوسف اور امام محمدرحمہما اللہ نے کئی مسائل میں امام ِ اعظم رضی اللہ عنہ کی رائے سے اختلاف کیا ہے۔ بعض لوگ اس وجہ سے امامِ اعظم رضی اللہ عنہ پر طعنہ زنی کرتے ہیں ۔ حالانکہ اس حقیقت کو خود امام ابویوسف، امام زفر اور امام محمد رحمہم اللہنے بیان کیا۔ ان کے بقول، ہم نے جو اقوال بظاہر امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہے وہ بھی دراصل امامِ اعظم رضی اللہ عنہ ہی کے اقوال ہیں کیونکہ بعض مسائل میں امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے مختلف اور متعدد آراء ظاہر کی تھیں ۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہنے فرمایا،’’ میں نے امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کے کسی قول کی سوائے ایک قول کے مخالفت نہیں کی‘‘۔ ()
اس طرح امام زفررحمہ اللہ کا ارشاد ہے،
ما خالفت ابا حنیفۃ فی قول الا وقد کان ابوحنیفۃ یقول بہ۔
’’ میں نے کسی قول میں امام ابوحنیفہ کی مخالفت نہیں کی مگر یہ کہ وہ بھی امامِ اعظم رضی اللہ عنہ ہی کا ایک قول ہوتا تھا‘‘۔()
امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کا فقہی مجموعہ جو کتب فقہ ابی حنفیہ کے نام سے موسوم ہے ، اس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے ،اسے امام ابو یوسف رحمہ اللہاور امام محمد رحمہ اللہنے مرتب کیا ہے۔
1 ۔کتب ظاہر الروایۃ: اس میں چھ کتابیں ہیں ۔ جامع صغیر، جامع کبیر، مبسوط، زیادات، السیر الصغیر، السیر الکبیر۔
امام ابو الفضل محمد بن احمد مروزی رحمہ اللہ نے ظاہر الروایۃ کی تمام کتب کے مسائل پر مشتمل ایک کتاب ’’ کافی‘‘ لکھی ۔ امام سرخسی رحمہ اللہنے اس کتاب کی تیس (۳۰)جلدوں میں شرح لکھی جو ’’ مبسوط‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔
2 ۔کتب نوادر:
کتب ظا ہرالروایۃ کے علاوہ جو دیگر کتب امام محمد رحمہ اللہنے تصنیف فرمائیں انہیں نوادرات کہتے ہیں ۔ اس میں کیسانیات، جرجانیات، ہارونیات، امالی امام محمد، نوادر ابن رستم وغیرہ شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ حدیث و فقہ میں امام محمد اور امام ابو یوسف رحمہمااللہکی دوسری کتب مثلاً کتاب الحج، کتاب الآثار، کتاب الخراج، اختلاف ابی حنفیہ و ابن ابی لیلیٰ، الرد علی سیرالاوزاعی اور موطا امام محمد وغیرہ پر بھی کتب نوادر کا اطلاق ہوتا ہے۔
تصانیفِ امامِ اعظم :
صحابہ کرام اور تابعین عظام کے زمانے میں کتابیں لکھنے کا باقاعدہ رواج نہیں تھا۔ لوگ اپنے حافظے اور یادداشت پر اعتماد کرتے۔ دوسری صدی ہجری میں تصنیف و تالیف کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا۔ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے تدوینِ فقہ کے لیے کوفہ میں مجلسِ فقہ قائم کی جس میں آپ اپنے شاگردوں کو احادیث اور فقہ کا املا کراتے تھے۔
اس علمی ذخیرہ کو آپ کے تلامذہ نے اپنے اپنے حلقوں میں بیان کیا اس طرح یہ روایات انہی کی طرف منسوب ہو گئیں ۔ گویا آپ کے تلامذہ کی طرف منسوب تصانیف درحقیقت امامِ اعظم ہی کی تصانیف ہیں ۔
Share:
keyboard_arrow_up