Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 132 of 168
ان کے علاوہ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کی تصانیف کامختصر تعارف پیشِ خدمت ہے:
امامِ اعظم ابوحینفہرضی اللہ عنہ کی نہایت معروف تصنیف’’ فقہ اکبر‘‘ ہے جو کہ اہلسنت وجماعت کے عقائد پر مشتمل ایک رسالہ ہے۔اس کی متعدد شرحیں لکھی گئیں جن میں محدث علی قاری رحمہ اللہ کی شرح سب سے زیادہ مقبول ہے۔ اس کے علاوہ آپ کی دیگر تصانیف حسب ذیل ہیں :
کتاب السیر۔ الکتاب الاوسط۔ الفقہ الابسط۔ کتاب الرد علی القدریہ۔ العالم والمتعلم۔ کتاب الرائ۔ رسالۃ الامام ابی عثمان التیمی فی الارجاء۔ کتاب اختلاف الصحابہ۔ کتاب الجامع۔ مکتوب وصایا۔
امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ احادیث پر مشتمل کئی کتب تھیں جنہیں امام محمد بن محمود خوارزمی رحمہ اللہ نے یکجا جمع کردیا ہے۔ مقدمے میں انہوں نے ان سب کو جمع کرنے کا سبب یہ لکھا ، کہ بعض جاہلوں نے شام میں یہ مشہور کر رکھا ہے کہ امام ابوحنفیہ رضی اللہ عنہ کو حدیث میں زیادہ دخل نہیں اسی وجہ سے حدیث میں ان کی کوئی تصنیف نہیں ۔ اس پر مجھے غیرت آئی اور میں نے ان تمام مسانید کو جو علماء نے امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کی احادیث سے جمع کیے تھے، اکٹھا کردیا۔ ان کی تفصیل یہ ہے:
۱۔ مسند حافظ ابومحمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب الحارثی البخاری۔
۲۔ مسند امام ابوالقاسم طلحہ بن محمد بن جعفر الشاہد۔
۳۔ مسند حافظ ابوالحسن محمد بن المظفربن موسیٰ بن عیسیٰ۔
۴۔ مسند حافظ ابو نعیم الاصبہانی۔
۵۔ مسند شیخ ابوبکر محمد بن عبدالباقی محمد الانصاری۔
۶۔ مسند امام ابواحمد عبداللہ بن بن عدی الجرجانی۔
۷۔ مسند امام حافظ عمر بن حسن الاشنانی۔
۸۔ مسند ابوبکر احمد بن محمد بن خالد الکلاعی۔
۹۔ مسند امام قاضی ابویوسف یعقوب۔
۱۰۔ مسند امام محمد بن حسن الشیبانی۔
۱۱۔ مسند امام حماد بن امام ابوحنیفہ۔
۱۲۔ آثار امام محمد بن حسن۔
۱۳۔ مسند امام عبداللہ بن ابی العوام۔
امام خوارزمی ر حمہ اللہنے اپنی جامع المسانید میں ان مسانید کو جمع کیا ہے اوران کی اکابر محدثین تک اسناد بھی بیان کر دی ہیں ۔
ان کے علاوہ اور بھی مسانید ہیں مثلاً:-
۱۴۔ مسند حافظ ابوعبداللہ حسنین بن محمد بن خسرو بلخی۔
۱۵۔ مسند امام حصکفی، محدث علی قاری ر حمہ اللہ نے اس کی شرح لکھی ہے۔
۱۶۔ مسند امام ماوردی۔
۱۷۔ مسند ابن البزازی، ان دونوں کی بھی شرحیں لکھی گئی ہیں ۔
علامہ کوثری مصری ر حمہ اللہ نے ’’تانیب الخطیب‘‘ میں امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کے مسانید کی تعداد اکیس بتائی ہے جن کی سندیں متصل ہیں ۔حافظِ حدیث محمد بن یوسف صالحی شافعی ر حمہ اللہنے ’’عقود الجمان ‘‘ میں امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کی سترہ مسانید کا سلسلۂ روایت بالاتصال مسانید کے جامعین تک بیان کیا ہے۔
علامہ ذہبی ر حمہ اللہنے مناقب الامام الاعظم میں کہا، ’’امامِ اعظم رضی اللہ عنہ سے محدثین اور فقہاء کی اتنی بڑی جماعت نے حدیث کی روایت کی ہے کہ جن کا شمار نہیں ‘‘۔ علامہ مزنی ر حمہ اللہنے تہذیب الاکمال میں ایک سو کے لگ بھگ ایسے کبار محدثین کو شمار کیا ہے۔ جامع المسانید دیکھیں تو سینکڑوں محدثین کی امام صاحب سے روایات مذکور ہیں جن میں اکثر وہ ائمہ حدیث ہیں جو ائمہ ستہ اور ان کے بعد کے دوسرے محدثین کے شیوخ و اساتذہ بواسطہ یا بلاواسطہ ہیں ۔
ان مسانید کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں وہ احادیث بھی ہیں جو امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے براہ راست صحابہ کرام سے سنی ہیں اور ثلاثیات تو اکثر ہیں جن میں امامِ اعظم رضی اللہ عنہ اور حضور ﷺ تک درمیان میں صرف تین راوی ہیں ۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up