باب چہاردہم(14)
امامِ اعظم کے تلامذہ:
علامہ ابن حجر رحمہ ﷲ فرماتے ہیں کہ جن حضرات نے امامِ اعظم سے علم حدیث وفقہ حاصل کیا ان کا شمار ناممکن ہے۔ بعض آئمہ کا قول ہے کہ کسی کے اتنے اصحاب اور شاگرد نہیں ہوئے جتنے کہ امامِ اعظم کے ہوئے اور علماء اور عوام کو کسی سے اس قدر فیض نہ پہنچا جتنا کہ امامِ اعظم اور ان کے اصحاب سے مشتبہ احادیث کی تفسیر اخذ کردہ مسائل، جدید پیش آنے والے مسائل اور قضا و احکام میں فائدہ پہنچا۔خدا ان حضرات کو جزائے خیر دے۔ بعض متاخر محدثین نے امام ابوحنیفہ کے تذکرہ میں ان کے شاگردوں کی تعداد تقریباً آٹھ سو لکھی ہے اور ان کے نام و نسب بھی لکھے ہیں ۔ طوالت کے خوف سے ہم اسے حذف کرتے ہیں ۔
حافظ ابوالمحاسن شافعی رحمہ ﷲ نے ۹۱۸ لوگوں کے نام بقید نام و نسب لکھے ہیں جو امام صاحب کے حلقۂ درس سے مستفید ہوئے۔
اب امامِ اعظم کے چند مشہور شاگردوں کے مختصر احوال تحریر کیے جارہے ہیں، بعد ازاں آپ کے اُن چالیس مشہور شاگردوں کی فہرست تحریر کی جائے گی جنہوں نے تدوینِ فقہ کے کام میں حصہ لیا تھا۔
1۔امام ابو یوسف:
آپ کا نام یعقوب اور کنیت ابویوسف ہے۔ ۱۱۳ ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ امامِ اعظم نے اپنی بصیرت و فراست سے آپ کی پیشانی پر علم و فضل کے آثار دیکھے اورپھر آپکے علم حاصل کرنے کا شوق ملاحظہ کیا تو آپ کے اخراجات اپنے ذمے لے لیے۔ آپ نے علم فقہ و حدیث امامِ اعظم سے حاصل کیا نیز اس زمانے میں کئی اکابر محدثین سے بھی استفادہ کیا۔
امام ابن جریر طبری رحمہ ﷲ فرماتے ہیں،
امام ابو یوسف قاضی، فقیہ، عالم اور حدیث کے حافظ تھے۔ حدیث حفظ کرنے میں مشہور تھے۔ آپ پچاس ساٹھ حدیثیں سنتے اور پھر کھڑے ہوکر دوسروں کو لکھوا دیتے تھے۔ آپ کثیر الحدیث تھے۔ آپ تین عباسی خلفاء مہدی، ہادی اور ہارون رشید کے عہد میں قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس کے عہدے پر فائض رہے۔
امامِ اعظم ص کا ارشاد ہے:
’’میرے شاگردوں میں جس نے سب سے زیادہ علم حاصل کیا وہ ابو یوسف ہیں ‘‘۔ آپ نے کئی کتابیں تصنیف کیں جن میں سے بیس کتابوں کے نام علامہ ابوالحسن زید فاروقی رحمہ ﷲ نے تحریر کیے ہیں ۔
علامہ ذہبی رحمہ اللّٰہ نے امام ابویوسف کو حفاظِ حدیث میں شمار کیا ہے جبکہ جرح و تعدیل کے نامور امام یحییٰ بن معین رحمہ اللّٰہ نے آپ کو ’’صاحبِ حدیث و صاحبِ سُنۃ‘‘ فرمایا ہے۔
شیخ ابو زہرہ مصری رحمہ ﷲ کے بقول امام ابویوسف رحمہ ﷲ، امام ابو حنیفہ رحمہ ﷲ کے اصحاب میں سب سے بڑے حافظِ حدیث تھے۔ آپ نے چالیس گرانقدر کتب تصنیف کیں۔
ایک موقع پر امامِ اعظم نے اپنے خاص شاگردوں کے متعلق فرمایا،
’’یہ میرے ۳۶ اصحاب ہیں جن میں سے ۲۸ میں قاضی بننے کی پوری اہلیت ہے اور چھ افراد میں فتویٰ دینے کی صلاحیت ہے جبکہ میرے دو شاگرد امام ابویوسف اور امام زُفریہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ قاضیوں اور مفتیوں کو مہذب اور مؤدب بنائیں ‘‘۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ کا ارشاد ہے،
جب کسی مسئلہ میں یہ تین حضرات متفق ہوں تو ان کی مخالفت نہیں کی جا سکتی۔ پوچھا گیا، وہ تین حضرات کون ہیں ؟فرمایا، امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد ابن الحسن ۔
امام ابوحنیفہ قیاس میں بہت بصیرت رکھتے ہیں ،
امام ابویوسف آثار پر وسیع نظر رکھتے ہیں۔
اور امام محمد عربیت میں تمام لوگوں سے زیادہ مہارت رکھتے ہیں (رضی اللّٰہ عنہم) ‘‘۔

