امام بخاری ،امام مسلم ،امام ابو داؤد کے اساتذہ امام احمد بن حنبل اور امام یحییٰ بن معین نیز امام بخاری کے شیخ علی بن مدینی یہ تینوں امام ابویوسف ہی کے مشہور شاگرد ہیں ۔ رحمہم ا ﷲ تعالیٰ()آپ کا وصال ۱۸۲ھ میں ہوا۔
2۔ امام محمد بن حسن:
امام محمد بن حسن ص ۱۳۲ ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے ۔آپ کوعلم حاصل کرنے کا شوق اس قدر تھا کہ والد کی میراث سے آپکو تیس ہزار درہم ملے۔ نصف رقم علم نحو، لغت اور ادب وغیرہ کی تحصیل پر خرچ کی اور بقایا نصف حدیث و فقہ کا علم حاصل کرنے میں خرچ کیے۔ رب تعالیٰ نے آپ کو خاص صلاحیتوں سے نوازا تھا اسی بناء پر آپ نے صرف ایک ہفتہ میں قرآن کریم حفظ کرلیا۔ ()
گمان یہ ہے کہ علم نحو اور عربی زبان وادب میں مہارت کے باعث آپ کو امامِ اعظم نے کم عمری ہی میں اپنی مجلس کا رکن بنا لیا تھا۔بعد ازاں آپ نے دو سال تک امامِ اعظم صسے درس لیا پھر ان کے وصال کے بعد امام ابو یوسف، مسعر بن کدام، سفیان ثوری، امام مالک اور امام اوزاعی وغیرہ رحمہم ا ﷲ تعالیٰ سے اکتسابِ فیض کیا۔اس طرح آپ کم عمری ہی میں عالم وفقیہ بن گئے۔امامِ اعظم کے پوتے اسماعیل بن حماد کی روایت کے مطابق، امام محمد کا حلقۂ درس کوفہ میں قائم ہو چکا تھا حالانکہ اس وقت وہ صرف بیس برس کے تھے۔ ()
آپ کے تلامذہ بیشمار ہیں جن میں امام شافعی، ابوحفص کبیر، محمد بن سماعہ، خلف بن ایوب، قاسم بن سلام، عیسیٰ بن ابان رحمہم ا ﷲ تعالیٰ زیادہ مشہور ہیں ۔ آپ نے نو سو سے زیادہ دینی کتب تصنیف فرمائیں ۔ آپ نے امام شافعی صکی والدہ سے نکاح کرلیا تھا۔ ()
آپ ہی نے امام شافعی ص کی دینی تربیت فرمائی جس کے باعث امام شافعیص کا ارشاد ہے کہ’’ علمِ فقہ میں مجھ پر سب سے بڑا احسان امام محمد رحمہ اﷲ کا ہے‘‘۔
ایک اور ارشاد ہے،’’میں نے ان سے زیادہ فصیح کوئی نہیں پایا، وہ جب گفتگو فرماتے تو یوں محسوس ہوتا کہ گویا قرآن انہی کی لغت میں نازل ہوا ہے‘‘۔ ()
امام شافعیص کا مشہور قول ہے کہ’’ میں نے امام محمد سے بڑھ کر کوئی قرآن مجید کا عالم نہیں دیکھا‘‘۔() ابراہیم حربی رحمہ اﷲ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل صسے پوچھا، کہ آ پ ایسے دقیق مسائل کہاں سے بیان فرماتے ہیں ؟ آپ نے جواب دیا ، یہ سب امام محمد ص کی کتابوں کا فیض ہے۔ ()
خلیفہ ہارون رشید نے آپ کو ’’رُقہ‘‘ کا قاضی مقرر کیا۔ آپ قاضی مقرر ہوئے اور کچھ مدت بعد بغداد چلے گئے۔ ۱۸۹ ھ میں وصال ہوا۔
ایک بار خلیفہ کے دربار میں بیٹھے تھے کہ خلیفہ کی آمد ہوئی سب لوگ کھڑے ہوگئے، لیکن آپ کھڑے نہ ہوئے۔ خلیفہ نے آپ کو خلوت میں بلاکر سبب پوچھا، توآپ نے فرمایا، آپ نے مجھے علماء کی صف میں شامل کیا ہے اس لئے میں نے آپ کے خادموں کی صف میں شامل ہونا پسند نہ کیا۔()
3۔ امام زفر بن ہذیل:
آپ ۱۱۰ ھ میں کوفہ میں پیدا ہوئے۔ امامِ اعظم صکے بہت محبوب و متعمد شاگرد ہیں ۔ امام صاحب کی مجلس میں سب سے آگے بیٹھتے اور امامِ اعظم صہر موقع پر آپکی تعظیم اور مدح و ثنا فرماتے۔ آپ کو حدیث میں امامت اور فقہ میں اجتہاد کا درجہ حاصل تھا۔امامِ اعظم صکے شاگردوں میں چار لوگ فقہ کے ایسے حافظ تھے جیسے قرآن کے حافظ ہوا کرتے ہیں ۔زفر، ابو یوسف، اسد بن عمرو، علی بن مسہر۔ رحمہم ا ﷲ تعالیٰ ()
جرح و تعدیل کے امام یحییٰ بن معین رحمہ ا ﷲ کا قول ہے، زفر صاحب الرایٔ ثقۃ مامون۔ امام زفر نے فقہ کی تحصیل سے پہلے اپنے دور کے نامور تابعین سے علم حدیث حاصل کیا اور اس میں اس قدر کمال حاصل کیا کہ لوگ آپ کو’’صاحبُ الحدیث‘‘ کہتے اور آپ کے پاس اکتسابِ علم کے لیے آتے۔ بعد ازاں آپ نے امامِ اعظم سے فقہ کا علم حاصل کیا۔ امام زفر صکا ارشاد ہے، امامِ اعظم ص کا ہر تربیت یافتہ شاگرد امت کا فقیہ ہے۔ ()
Page 134 of 168

