ایک شخص امام مزنی رحمہ ﷲ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے دریافت کیا، امام ابوحنیفہ کے متعلق آپکی کیا رائے ہے؟ فرمایا، اہلِ عراق کے سردار، پھر پوچھا، امام ابو یوسف رحمہ ﷲ کے متعلق کیا رائے ہے؟
فرمایا، وہ سب سے زیادہ حدیث کا اتباع کرنے والے ہیں۔ اس نے پھر پوچھا، امام محمد رحمہ ﷲ کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ فرمایا، وہ تعریفات میں سب پر فائق ہیں ۔ وہ بولا ،امام زفر رحمہ ﷲ کے متعلق فرمائیے۔ فرمایا، وہ قیاس و اجتہاد میں سب سے زیادہ تیز ہیں‘‘۔
امامِ اعظم نے ان کا نکاح پڑھایا تو خطبہ کے دوران فرمایا،
’’اے حاضرین! یہ زفر ہیں جو مسلمانوں کے اماموں میں سے ایک امام اور شرافت و علمیت کے لحاظ سے مسلمانوں کی عظمت کا ایک نشان ہیں ‘‘ ۔ امام زفر زہد و تقویٰ میں بھی بے مثال تھے۔ دو مرتبہ حکومت نے آپ کو قاضی بننے پر مجبور کیا مگر دونوں مرتبہ آ پ نے اپنے استاد امامِ اعظم ابوحنیفہ کی طرح انکار کردیا اور گھرچھوڑ کر رو پوش ہوگئے۔ غصہ کے باعث دونوں بار حکومت نے آپ کا مکان گرادیا۔ چنانچہ آپ کو دو مرتبہ اپنا مکان تعمیر کرنا پڑا۔ علوم القرآن، معرفتِ حدیث اور فنِ رجال کے علاوہ قیاس واستنباط میں آپ کی حد درجہ مہارت کے باعث امامِ اعظم آپ کو امام ابو یوسف اور امام محمد پر ترجیح دیتے تھے۔
دیگر اصحاب کے مقابلے میں کم عمری میں آپ کا انتقال ہو گیا اس لیے آپ تصنیف و تالیف کا کام نہیں کر سکے۔آپ امامِ اعظم کے وصال کے بعد ان کی جگہ تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ۱۵۸ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
4۔ امام مالک بن انس:
چالیس اراکینِ شوریٰ کے علاوہ امامِ اعظم کے دیگر اصحاب میں امام مالک سرِ فہرست ہیں ۔ آپ ۹۵ ھ میں پیدا ہوئے۔جب بھی امامِ اعظم مدینہ منورہ میں حاضری دیتے تو امام مالک آپ سے استفادہ کرتے۔ یہ بھی پہلے بیان کیا گیا کہ امام مالک نے موطا کی تصنیف میں امامِ اعظم کی کتب سے استفادہ کیا۔ امام مالک اکثر امام ابوحنیفہ کے اقوال کو بیان فرمایا کرتے تھے اور آپکے اقوال کی تلاش میں رہتے تھے۔
اسحاق بن محمد رحمہ ﷲ فرماتے ہیں کہ:
مسائلِ دینیہ میں امام مالک، امامِ اعظم کے اقوال کو معتبر سمجھتے تھے۔
اس سے یہ معلوم ہوا کہ آپ دینی مسائل میں امامِ اعظم کے اقوال کو معتبر سمجھتے تھے۔ یہ بھی واضح رہے کہ امام مالک کے نزدیک بھی نماز میں رفع یدین منسوخ ہے۔ آپ امامِ اعظم کا بہت ادب کیا کرتے ۔
محمد بن اسمٰعیل رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ:
ایک بار میں نے دیکھا کہ امام مالک امامِ اعظم کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جارہے تھے جب مسجد کے دروازے پر پہنچے تو امام مالک نے امام ابوحنیفہ کو آگے کردیا۔
ایک مرتبہ مسجد نبوی میں عشاء کے بعد امام مالک اور امام اعظم کی علمی گفتگو شروع ہوئی۔ راوی کہتے ہیں کہ امامِ اعظم بات کرتے تو امام مالک ادب اور خاموشی سے سنتے اور اس پر اعتراض نہ کرتے اور جب امام مالک بات کرتے تو امامِ اعظم خاموشی سے سنتے۔ اس طرح یہ سلسلہ فجر کی اذان تک جاری رہا۔
امام شافعی کا قول ہے،
اگر امام مالک اور ابن عیینہ نہ ہوتے تو حجازیوں کا علم نیست و نابود ہو جاتا۔ بعض لوگ امام مالک کو اما م اعظم کا شاگرد ماننے کی بجائے ان کا استاد قرار دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امامِ اعظم سے امام مالک کی روایتِ حدیث ثابت ہے مگر امام مالک سے امامِ اعظم کی روایت ثابت نہیں۔
چنانچہ حافظ ابن حجر شافعی رحمہ ﷲ فرماتے ہیں کہ:
امامِ اعظم کی روایت امام مالک سے ثابت نہیں اور دارقطنی نے جو روایتیں ذکر کی ہیں وہ محلِ نظر ہیں کیونکہ وہ بطور مذاکرہ تھیں نہ کہ تحدیث بالقصدِ روایت۔

