Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 135 of 168
ایک شخص امام مزنی رحمہ اﷲکی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے دریافت کیا ، امام ابوحنیفہ صکے متعلق آپکی کیا رائے ہے؟ فرمایا ، اہلِ عراق کے سردار، پھر پوچھا، امام ابو یوسف رحمہ ا ﷲکے متعلق کیا رائے ہے؟ فرمایا، وہ سب سے زیادہ حدیث کا اتباع کرنے والے ہیں ۔
اس نے پھر پوچھا، امام محمد رحمہ ا ﷲکے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ فرمایا، وہ تعریفات میں سب پر فائق ہیں ۔ وہ بولا ،امام زفر رحمہ ا ﷲ کے متعلق فرمائیے۔ فرمایا، وہ قیاس و اجتہاد میں سب سے زیادہ تیز ہیں‘‘۔ ()
امامِ اعظم صنے ان کا نکاح پڑھایا تو خطبہ کے دوران فرمایا،’’ اے حاضرین! یہ زفر ہیں جو مسلمانوں کے اماموں میں سے ایک امام اور شرافت و علمیت کے لحاظ سے مسلمانوں کی عظمت کا ایک نشان ہیں ‘‘ ۔
امام زفرص زہد و تقویٰ میں بھی بے مثال تھے۔ دو مرتبہ حکومت نے آپ کو قاضی بننے پر مجبور کیا مگر دونوں مرتبہ آ پ نے اپنے استاد امامِ اعظم ابوحنیفہ صکی طرح انکار کردیااور گھرچھوڑ کر روپوش ہوگئے۔ غصہ کے باعث دونوں بار حکومت نے آپ کا مکان گرادیا۔ چنانچہ آپ کو دو مرتبہ اپنا مکان تعمیر کرنا پڑا۔
علوم القرآن، معرفتِ حدیث اور فنِ رجال کے علاوہ قیاس واستنباط میں آپ کی حددرجہ مہارت کے باعث امامِ اعظم ص آپ کو امام ابویوسف صاور امام محمدص پر ترجیح دیتے تھے۔دیگر اصحاب کے مقابلے میں کم عمری میں آپ کا انتقال ہو گیا اس لیے آپ تصنیف و تالیف کا کام نہیں کر سکے۔آپ امامِ اعظم ص کے وصال کے بعد ان کی جگہ تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ۱۵۸ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔ ()
4۔ امام مالک بن انس:
چالیس اراکینِ شوریٰ کے علاوہ امامِ اعظم صکے دیگر اصحاب میں امام مالکص سرِ فہرست ہیں ۔ آپ ۹۵ ھ میں پیدا ہوئے۔جب بھی امامِ اعظم ص مدینہ منورہ میں حاضری دیتے تو امام مالکص آپ سے استفادہ کرتے۔یہ بھی پہلے بیان کیا گیا کہ امام مالک صنے موطا کی تصنیف میں امامِ اعظم کی کتب سے استفادہ کیا۔ امام مالکص اکثر امام ابوحنیفہ ص کے اقوال کو بیان فرمایا کرتے تھے اور آپکے اقوال کی تلاش میں رہتے تھے۔ اسحاق بن محمدرحمہ ا ﷲ فرماتے ہیں کہ مسائلِ دینیہ میں امام مالکص، امامِ اعظم صکے اقوال کو معتبر سمجھتے تھے۔ ()
اس سے یہ معلوم ہوا کہ آپ دینی مسائل میں امامِ اعظم ص کے اقوال کو معتبر سمجھتے تھے۔ یہ بھی واضح رہے کہ امام مالکص کے نزدیک بھی نماز میں رفع یدین منسوخ ہے۔ آپ امامِ اعظم ص کا بہت ادب کیا کرتے ۔
محمد بن اسمٰعیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک بار میں نے دیکھا کہ امام مالکص امامِ اعظم صکے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جارہے تھے جب مسجد کے دروازے پر پہنچ تو امام مالک صنے امام ابوحنیفہص کو آگے کردیا۔ ()
ایک مرتبہ مسجد نبوی میں عشاء کے بعد امام مالکص اور امام ِ اعظمص کی علمی گفتگو شروع ہوئی۔ راوی کہتے ہیں کہ امامِ اعظم ص بات کرتے تو امام مالکص ادب اور خاموشی سے سنتے اور اس پر اعتراض نہ کرتے اور جب امام مالکص بات کرتے تو امامِ اعظم ص خاموشی سے سنتے۔ اس طرح یہ سلسلہ فجر کی اذان تک جاری رہا۔ ()
امام شافعی صکا قول ہے، اگر امام مالکص اور ابن عیینہص نہ ہوتے تو حجازیوں کا علم نیست و نابود ہو جاتا۔
بعض لوگ امام مالکص کو اما م اعظمصکا شاگرد ماننے کی بجائے ان کا استاد قرار دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امامِ اعظم ص سے امام مالک صکی روایتِ حدیث ثابت ہے مگر امام مالک صسے امامِ اعظم صکی روایت ثابت نہیں چنانچہ حافظ ابن حجر شافعیرحمہ ا ﷲ فرماتے ہیں کہ امامِ اعظم ص کی روایت امام مالک صسے ثابت نہیں اور دارقطنی نے جو روایتیں ذکر کی ہیں وہ محلِ نظر ہیں کیونکہ وہ بطور مذاکرہ تھیں نہ کہ تحدیث بالقصدِ روایت۔()
Share:
keyboard_arrow_up