Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 136 of 167

آقا و مولیٰ سے آپ کو اس قدر محبت تھی کہ آپ ایک بار حج کے ایام کے سوا ساری عمر مدینہ منورہ میں رہے مگر زمانۂ بیماری کے سوا کبھی شہر مدینہ میں قضائے حاجت نہیں فرمائی بلکہ ہمیشہ حرم سے باہر تشریف لے جاتے۔ آپ مدینہ منورہ میں کبھی گھوڑے پر سوار نہیں ہوئے اور یہی فرماتے رہے کہ ’’مجھے شرم آتی ہے کہ میں اپنی سواری کے جانور کے سُموں سے اس زمین کو روندوں جس کے چپے چپے کو میرے آقا و مولیٰ کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے‘‘۔

5۔ امام مسعر بن کدام:

امامِ اعظم کے اصحاب میں ایک اہم نام امام مسعر بن کدام رحمہ ﷲ کا آتا ہے جو عظیم محدث تھے۔ آپ پہلے امامِ اعظم  سے حسد کرتے اور آپ کی غیبت بھی کرتے۔ ایک بار امامِ اعظم کی خدمت میں آئے تو آپ کا زہد و تقویٰ دیکھ کر سخت نادم ہوئے۔ (یہ واقعہ ’’ عبادت و ریاضت ‘‘ کے عنوان کے تحت مذکور ہوچکا ہے) چنانچہ توبہ کرکے آپ کی صحبت اختیار کرلی یہاں تک کہ آپ ہی کی مسجد میں حالتِ سجدہ میں انتقال کیا۔

سلیم بن سالم رحمہ ﷲ نے فرمایا،

ہم امام مسعر بن کدام رحمہ ﷲ کے درس میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہم ان سے سوال کرتے تو وہ امامِ اعظم  کے اقوال سے بات شروع کرتے۔ ایک شخص نے کہا، ہم آپ سے ﷲ اور رسول کی بات پوچھتے ہیں تو آپ بدعتیوں کی باتیں شروع کردیتے ہیں ۔ امام مسعر رحمہ ﷲ اس شخص سے بہت ناراض ہوئے اور فرمایا، تمہاری اس بیہودہ بات کا جواب صرف یہ ہے کہ تم میری مجلس سے اٹھ کر چلے جاؤ۔ تمہیں معلوم نہیں کہ امامِ اعظم رحمہ ﷲ کا چھوٹا سا شاگرد حج کے ایام میں خانۂ کعبہ کے پاس کھڑا ہوجائے تو ساری دنیا کے علماء اسے سنتے رہیں۔ اس کے بعد آپ نے یہ دعا مانگی، ’’اے ﷲ میں تیرا قرب چاہتا ہوں اور اس کے لیے امام ابوحنیفہ کا وسیلہ پیش کرتا ہوں ۔‘‘

جب امامِ اعظم  تشریف لاتے تو امام مسعر رحمہ ﷲ تعظیم میں کھڑے ہوجاتے اورجب ان کے سامنے بیٹھتے تو دو زانو بیٹھتے اور آپ کی رائے رد نہ کرتے۔ امامِ اعظم رحمہ ﷲ نے مسند میں کئی احادیث ان سے روایت کی ہیں۔

حضرت سفیان ثوری رحمہ ﷲ فرماتے ہیں،

جب کسی حدیث میں ہمارا اختلاف ہو جاتا تو ہم امام مسعر بن کدام سے پوچھتے تھے۔ وہ آپ کو حدیث کا’’ میزان‘‘ کہا کرتے تھے۔

امام مسعر رحمہﷲ سے پوچھا گیا ، آپ اصحابِ ابی حنیفہ کی رائے چھوڑ کر امامِ اعظم رحمہ ﷲ کی رائے کی طرف کیوں مائل ہوئے؟ فرمایا، اس کی صحت کی بنا پر۔ تو اب تم اس سے بھی زیادہ صحیح لاؤ تاکہ میں اسے اپناؤں ۔

حضرت عبداللّٰہ بن مبارک رحمہ ﷲ نے کہا،

’’میں نے امام مسعر رحمہ ﷲ کو امامِ اعظم سے سوال کرتے اور استفادہ کرتے ہوئے دیکھا ہے‘‘۔آپ کا وصال ۱۵۳ ھ یا ۱۵۵ میں ہوا۔

6۔ امام عبد اللّٰہ بن مبارک:

حضرت عبداللّٰہ بن مبارک رحمہ ﷲ، امامِ اعظم کے نہایت مشہور شاگردوں میں سے ہیں۔ حضرت داتا گنج بخش رحمہ ﷲ نے کشف المحجوب میں آپ کو ’’زاہدوں کا سردار، اوتاد کا پیش رو اور اہلِ طریقت و شریعت کا امام‘‘ فرمایا ہے۔آپ علمِ حدیث میں اس قدر بلند مقام کے حامل تھے کہ محدثین آپ کو ’’امیر المومنین فی الحدیث‘‘ کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے۔

امام نووی رحمہ ﷲ نے تہذیب الاسماء واللغات میں آپ کا ذکر یوں کیا ہے،

’’وہ امام جس کی امامت و جلالت پر ہر باب میں اجماع کیا گیا ہے، جس کے ذکر سے اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور جس کی محبت سے مغفرت کی امید کی جا سکتی ہے‘‘۔ ایک موقع پر انہیں کسی نے ’’عالمِ مشرق‘‘ کہہ دیا۔

تو امام سفیان ثوری رحمہ ﷲ نے فرمایا،

’’صرف مشرق کے عالم نہیں، وہ تو مشرق و مغرب کے عالم ہیں ‘‘۔آپ کا ارشاد ہے، میں نے چار ہزار مشائخ سے حدیث کا علم حاصل کیا اور ایک ہزار شیوخ سے احادیث روایت کیں ۔آپ نے فقہ و حدیث میں کئی کتب تصنیف فرمائیں ۔

Share:
keyboard_arrow_up