امام احمد بن حنبل رحمہ ا ﷲ فرماتے ہیں ، عبداللہ بن مبارک رحمہ ا ﷲکے زمانے میں ان سے بڑھ کر کسی نے حدیث کے حصول کی کوشش نہیں کی۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں آپ کی روایت سے سینکڑوں حدیثیں مروی ہیں ۔
آپ امامِ اعظم کی مجلسِ فقہ اور اس کی ذیلی بارہ رکنی خصوصی کمیٹی کے بھی رکن تھے۔آپ نے امامِ اعظم سے بھی حدیثیں روایت کی ہیں ۔ امامِ اعظم کی شاگردی پر آپ کو اس قدر فخر تھا کہ آپ علانیہ فرماتے، ’’اگر اللہ تعالیٰ نے امام ابوحنیفہ اور سفیان ثوری کے ذریعہ سے میری دستگیری نہ کی ہوتی تو میں عام آدمیوں جیسا ہوتا‘‘۔() آپ ہی کا ایک اور ارشاد گرامی ہے، ’’کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ یہ کہے کہ یہ میری رائے ہے لیکن امامِ اعظم ابوحنیفہ کو زیبا ہے کہ وہ یہ کہیں کہ یہ میری رائے ہے‘‘۔()
امام یحییٰ بن معین رحمہ ا ﷲ فرماتے تھے،’’ میں نے کسی کو امام ابوحنیفہ کے اوصاف اس طرح بیان کرتے ہوئے نہ پایا جیسا کہ ابن مبارک ان کے اوصاف بیان کرتے اور ان کو بھلائی کے ساتھ یاد کرتے تھے‘‘۔()
ایک موقع پر آپ نے فرمایا، امامِ اعظم ابوحنیفہص اﷲکی آیات (نشانیوں ) میں سے ایک آیت(نشانی) ہیں ۔کسی نے سوال کیا،آیت خیر ہیں یاآیت شر؟ فرمایا،تم قر آن کی رو شنی میں آ یت کا لفظ تلا ش کرو۔ وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ۔ ترجمہ:’’اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کوآیت کیا‘‘۔() (المومنون:۵۰) کیاآیت شرسے بھی بن سکتی ہے؟()
سیدناامامِ اعظم صکے علم وفضل کے متعلق آپ کا ارشاد ہے، اگر امام ابوحنیفہ تابعین کے ابتدائی دور میں ہوتے جب صحابَۂ کرام کی کثرت تھی تو کئی تابعین بھی آپ کے علوم سے بہرہ و ر ہوتے۔ امامِ اعظم صکا قیاس در اصل حدیث کی تفسیر و تشریح تھا ۔ () آپ کا وصال ۱۸۱ھ میں ہوا۔
7۔ امام وکیع بن الجراح:
آپ امامِ اعظم ص کے خاص شاگرد اور تدوینِ فقہ کی مجلس کے رکن تھے۔فنِ حدیث ورجال کے متعلق آپ کی روایات اور آراء معتمد ومستند سمجھی جاتی ہیں ۔ امام بخاری اور امام مسلم نے آپ کی روایت سے کئی حدیثیں صحیحین میں درج کی ہیں ۔بلکہ امام بخاری نے تو امام عبداللہ بن مبارک ،امام وکیع اور امامِ اعظم کے دیگر شاگردوں کی کتابیں حفظ کر رکھی تھیں ۔ ()
امام ذہبیرحمہ ا ﷲ نے تذکرۃ الحفاظ میں امام وکیع کا تعارف ان القابات سے کرایا ہے، الامام الحافظ الثبت محدث العراق احد الائمہ الاعلام وکیع بن الجراح۔ آپ کے علم وفضل کے متعلق امام یحییٰ بن معین رحمہ ا ﷲ کا ارشاد ہے،’’میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جسے امام وکیع پر ترجیح دوں ‘‘۔
امام احمد بن حنبل رحمہ ا ﷲ آپ کے ممتاز شاگرد تھے۔انہیں آپ کی شاگردی پر اس قدر ناز تھا کہ جب وہ آپ کی روایت سے کوئی حدیث سناتے تو سننے والوں سے فرماتے، ’’یہ حدیث مجھ سے اس شخص نے بیان کی کہ تمہاری آنکھوں نے اس جیسا کوئی دوسرا نہیں دیکھا ہوگا‘‘۔()
امام وکیع رحمہ ا ﷲ اکثر مسائل میں امامِ اعظم کی تقلید کیا کرتے اور انہی کے فتوے کے موافق فتویٰ دیا کرتے۔
امام یحییٰ بن معین رحمہ ا ﷲ فرماتے ہیں ، ویفتی بقول ابی حنیفۃ۔ یعنی امام وکیع امام ابوحنیفہ کے قول کے موافق فتوے دیا کرتے تھے۔() امام وکیع رحمہ ا ﷲ نے امامِ اعظم سے کثیر حدیثیں سنیں اور روایت کیں ۔ () خطیب بغدادی نے بھی تاریخِ بغداد میں اس کی تصدیق کی ہے۔
یہ مشہور واقعہ پہلے تحریر ہو چکا کہ ایک شخص نے امام وکیع رحمہ اللہ سے کہا، ’’ امام ابوحنیفہ سے غلطی ہوئی‘‘۔ تو آپ نے فرمایا، جو لوگ یہ کہتے ہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے زیادہ گمراہ ہیں ۔ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ غلطی کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ امام ابو یوسف اور امام زفر جیسے فقہ کے امام تھے اور یحییٰ بن زکریا بن زائدہ، حفص بن غیاث، امام حبان، امام مندل جیسے محدثین تھے اور قاسم بن معن جیسے لغت و عربیت کے ماہر تھے اور داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسے زہد و تقویٰ کے امام موجود تھے۔ تو جس کے ساتھی ایسے لوگ ہوں اس سے خطا کیونکر ممکن ہے، کیونکہ اگر وہ غلطی کرتے تویہ لوگ ان کو حق کی طرف لوٹادیتے‘‘۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین()
Page 137 of 168

