8۔ امام یحییٰ بن سعید قطان:
امامِ اعظم ص کی مجلسِ فقہ کے رکن، امام یحییٰ بن سعید رحمہ ا ﷲ وہ جلیل القدر محدث ہیں جن کے متعلق علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ فنِ رجال میں جس محدث نے سب سے پہلے لکھنے کا آغاز کیا وہ یحییٰ بن سعید القطان ہیں ، پھر آپ کے بعد آپ کے شاگردوں یحییٰ بن معین، علی بن المدینی اورامام احمد بن حنبل وغیرہ نے اس فن میں گفتگو کی اور ان کے بعد ان کے شاگردوں امام بخاری ، امام مسلم وغیرہ نے فنِ رجال میں کام کیا۔
امام احمد بن حنبل کا معروف قول ہے کہ ’’میں نے اپنی آنکھوں سے یحییٰ بن سعید جیسا کوئی دوسرا نہیں دیکھا‘‘۔ رحمہم اﷲ تعالیٰ ()
حدیث کے راویوں کی تحقیق وتنقید میں آپ کو اس قدر بلند مقام حاصل تھا کہ ائمہ حدیث عموماً کہا کرتے تھے،’’ یحییٰ جس راوی کو چھوڑ دیں گے ہم بھی اسے چھوڑ دیں گے‘‘۔ علم وفضل کے اس قدر بلند مقام پر فائز ہونے کے باوجود آپ امامِ اعظم کے حلقۂ درس میں شریک ہوتے، ان کی شاگردی پر فخر کرتے اور ان کے مخالفین کے پروپیگنڈے کا جواب دیتے۔
علامہ ذہبی نے لکھاہے کہ یحییٰ بن سعید القطان امامِ اعظم ہی کے قول پر فتویٰ دیتے تھے۔ ()
امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ میں نے امام یحییٰ بن سعید کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ’’ہم اللہ تعالیٰ سے جھوٹ نہیں بولتے۔ ہم نے امام ابوحنیفہ کے اجتہاد سے بہتر کسی سے نہیں سنا، اور ہم نے آپ کے اکثر اقوال اختیار کیے ہیں ‘‘۔ رحمہم ا ﷲ تعالیٰ()
آپ کا یہ ارشاد بھی خاص توجہ کے لائق ہے۔فرمایا،’’میں عمر بھر فقہی مسائل میں تمام لوگوں پر چھایا رہا مگر جب میں امامِ اعظم کے پاس پہنچا تو یوں محسوس ہواکہ میں ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ۔ جو مقام امامِ اعظم کو حاصل تھا کوئی دوسرا اس تک نہ پہنچ سکا ‘‘۔ ()
زُہیر بن نعیم کا بیان ہے کہ آپ کے وصال کے بعد میں نے خواب دیکھا کہ یحییٰ بن سعیدقطان کے بدن پر ایک کُرتا ہے جس یہ لکھا ہے،’’ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تحریر ہے کہ یحییٰ بن سعید کے لیے جہنم سے نجات ہے‘‘۔()
9۔ امام یحییٰ بن زکریا :
حافظِ حدیث ،امام یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کو امام المحدثین بھی کہا جاتا ہے کیونکہ آپ امام احمد بن حنبل، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن معین، قتیبہ اور علی بن المدینی کے بھی استاد ہیں ۔آپ کے متعلق امام بخاری کے استاد، امام علی بن المدینی فرمایا کرتے تھے،’’یحییٰ کے زمانہ میں یحییٰ پر علم کا خاتمہ ہو گیا‘‘۔()
یہ امام علی بن المدینی رحمہ ا ﷲ خود اتنے بڑے عالم تھے کہ ان کے متعلق امام بخاری رحمہ ا ﷲ فرماتے تھے، ’’میں نے علی بن المدینی کے سوا کسی کے سامنے اپنے آپ کو چھوٹا نہیں سمجھا‘‘۔ ()
گویا امام بخاری جن کے سامنے خود کو چھوٹا سمجھتے تھے وہ امامِ اعظم کے ایک شاگرد امام یحییٰ بن زکریا کے متعلق گواہی دیتے ہیں کہ ان پر علم کا خاتمہ ہو گیا۔ اب آپ فیصلہ کیجیے کہ جس کے شاگردکا یہ مقام ہے اس امامِ اعظم کا کس قدر اعلیٰ مقام ومرتبہ ہو گا؟
امام یحییٰ بن زکریا رحمہ اﷲ، امامِ اعظم کے ایسے خاص شاگردوں میں سے ہیں کہ علامہ ذہبی شافعی رحمہ ا ﷲنے آپ کو ’’صاحبِ ابی حنیفہ‘‘ قرار دیتے ہوئے آپ کا تذکرہ ان الفاظ میں کیاہے، الحافظ الثبت المتقن الفقیہ ابوسعید الھمدانی الوداعی مولاھم الکوفی صاحب ابی حنیفۃ۔()
آپ امامِ اعظم کے محبوب شاگردوں میں سے ہیں اور مجلسِ فقہ کے علاوہ بارہ رکنی ذیلی مجلس کے بھی رکن ہیں ۔ آپ کو طویل عرصہ تک مجلسِ فقہ کے کاتب یعنی تحریر و تصنیف کی خدمت انجام دینے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔صحاح ستہ خصوصاً صحیح بخاری میں آپ کی روایت سے کثیر تعداد میں احادیث موجود ہیں ۔ آپ مدائن میں قاضی کے منصب پر فائز رہے۔ ۱۸۲ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
Page 138 of 168

