Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 139 of 168
10۔ امام یزید بن ہارون:
آپ امامِ اعظم ابوحنیفہ کے شاگرد اور تدوینِ فقہ کی مجلس کے اہم رکن تھے۔ امام احمد بن حنبل، علی بن المدینی، یحییٰ بن معین جیسے بڑے بڑے ائمۂ حدیث آپ کے شاگرد تھے۔ امام جلال الدین سیوطی نے امام یزید بن ہارون کو امامِ اعظم کے تلامذہ میں شمار کیا ہے۔علامہ ذہبی فرماتے ہیں کہ یزید بن ہارون نے امامِ اعظم سے حدیثیں روایت کی ہیں ۔ رحمہم ا ﷲ تعالیٰ()
آپ کے متعلق امام بخاری کے نامور استاد امام علی بن المدینی کا ارشاد ہے، ’’میں نے یزید بن ہارون سے بڑھ کر کسی کو احادیث کا حافظ نہیں دیکھا‘‘۔ ()
امام بخاری کے ایک اور استاد ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں ،’’ یزید بن ہارون سے زیادہ ہم نے کسی کو حفظِ حدیث میں کامل نہیں دیکھا‘‘۔آپ کے درس میں ستر ہزار حاضرین کا مجمع ہوتا تھا۔ ()
یزید بن ہارون رحمہ ا ﷲ فرمایا کرتے تھے،میں بیشمار لوگوں سے ملا ہوں مگر میں نے کسی کو امامِ اعظم سے بڑھ کر عاقل، فاضل اور پرہیزگار نہیں پایا۔ ()
مقامِ غور ہے کہ امام یزید بن ہارون جو اصحابِ صحاح ستہ خصوصاً امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں ، انہوں نے امامِ اعظم کی کیسی تعریف فرمائی ہے۔ یہی نہیں بلکہ جو لوگ بغض وعناد کے باعث امامِ اعظم کا ذکر پسند نہ کرتے، آپ ان سے ناراض ہو جاتے۔
ایک دن امام یزید بن ہارون رحمہ ا ﷲ درس کے دوران امامِ اعظم کے ارشادات سنا رہے تھے کہ کسی نے کہا، ہمیں حدیثیں سنائیے اور لوگوں کی باتیں نہ کیجیے۔
آپ نے اس سے فرمایا،’’ اے احمق! یہ رسول کریم ﷺ کی حدیث کی تفسیر ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا مقصدصرف حدیثیں سننا اور جمع کرنا ہے، اگر تمہیں علم حاصل کرنا ہوتا تو تم حدیث کی تفسیر اور معانی معلوم کرتے اور امامِ اعظم ابوحنیفہ کی کتابیں اور ان کے اقوال دیکھتے جو تمہارے لیے حدیث کی تفسیر کرتے ہیں ‘‘۔ پھر آپ نے اس کو ڈانٹ کر مجلس سے نکال دیا۔()
11۔ امام عبدالرزاق بن ہمام:
آپ جلیل القدر محدث اور فقیہ ہیں ۔انہی اوصاف کی بناء پرسیدنا امامِ اعظم ص نے آپ کو تدوینِ فقہ کی مجلس میں شامل کیا تھا۔ علامہ ذہبی رحمہ ا ﷲنے آپ کا تذکرہ یوں شروع کیا ہے، احد الاعلام الثقات۔آپ نے امامِ اعظم سے احادیث روایت کی ہیں ۔()
امامِ اعظم ص کے بارے میں آپ کا ارشاد ہے، میں نے امامِ اعظم سے بڑھ کر کسی کو حلم والا نہیں دیکھا۔ ()
بڑے بڑے ائمہ حدیث مثلاً سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن معین، احمد بن حنبل، علی بن المدینی رحمہم ا ﷲ تعالیٰنے فنِ حدیث میں آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ علم حدیث میں آپ کی شہرت اس قدر تھی کہ لوگ دور دراز سے سفر کر کے آپ کی خدمت میں حدیث سیکھنے آتے تھے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد کسی شخص کے پاس اِس قدر دوردراز سے طویل فاصلے طے کر کے لوگ نہیں گئے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں آپ کی روایت سے کثیر حدیثیں موجود ہیں ۔حدیث کی ضخیم کتاب ’’مصَنَّف عبدالرزاق‘‘آپ ہی کی تصنیف ہے۔ علامہ ذہبی رحمہ ا ﷲنے اس کتاب کو علم کا خزانہ فرمایا ہے۔ امام بخاری رحمہ ا ﷲنے بھی اس کتاب سے استفادہ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
امام عبدالرزاق رحمہ ا ﷲکے بارے میں امام احمد بن حنبلرحمہ ا ﷲ سے دریافت کیا گیاکہ حدیث کی روایت میں کیا آپ نے امام عبدالرزاق سے بہتر کسی کو دیکھا؟انہوں نے جواب میں فرمایا،’’ نہیں ‘‘۔()
12۔ امام ابوعاصم النبیل:
آپ کا نام ضحاک بن مخلداور لقب نبیل ہے۔آپ امامِ اعظم ص کے خاص شاگرد اور ان کی مجلسِ فقہ کے رکن تھے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں آپ کی روایت سے بہت سی احادیث مروی ہیں۔ آپ نے امامِ اعظم سے حدیثیں روایت کی ہیں ۔()
Share:
keyboard_arrow_up