امام بخاری کہتے ہیں کہ امام ابوعاصم نے فرمایا، جب سے مجھے معلوم ہوا کہ غیبت حرام ہے، اس وقت سے میں نے کبھی کسی کی غیبت نہیں کی۔ ()
علامہ ذہبی لکھتے ہیں ، ابوعاصم کے ثقہ ہونے پر سب علماء کا اتفاق ہے۔ عمر بن شیبہ کا قول ہے، اللہ کی قسم! میں نے امام ابوعاصم کا مثل نہیں دیکھا۔ ()
ایک مرتبہ آپ سے کسی نے پوچھا کہ سفیان ثوری زیادہ فقیہ ہیں یا امام ابوحنیفہ؟ فرمایا، موازنہ تو ان چیزوں میں ہوتا ہے جوایک دوسرے سے ملتی جلتی ہوں ۔ امامِ اعظم نے فقہ کی بنیاد رکھی جبکہ سفیان صرف فقیہ ہیں ۔ اللہ کی قسم! میرے نزدیک امامِ اعظم تو ابن جُریج سے بڑھ کر فقیہ ہیں ، میری آنکھ نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو فقہ میں امامِ اعظم سے بڑھ کر قدرت رکھتا ہو۔ ()
13۔ امام مکی بن ابراہیم:
آپ کا نام عمر بن ہارون ہے، بلخ کے رہنے والے ہیں ۔ امام ذہبی رحمہ ا ﷲ نے آپ کو حافظ وامام اور شیخِ خراسان فرمایا ہے۔ابتدا ء میں آپ ایک تاجر تھے۔ ایک بار آپ کی ملاقات امامِ اعظم سے ہوئی توانہوں نے فرمایا،تم تجارت تو کرتے ہو مگر علم بھی سیکھو کیونکہ جب تک انسان عالم نہ ہو اس کی تجارت میں بڑی خرابی رہتی ہے۔
یہ نصیحت آپ کے دل پر اثر کر گئی اور آپ نے امامِ اعظم سے فقہ و حدیث کا علم سیکھنا شروع کیا یہانتک کہ ان علوم میں امامت کے مقام پر فائز ہوئے۔
امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے نامور شاگرد امام مکی بن ابراہیمرحمہ اللہ ( المتوفی ۲۱۵ھ) امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین اور امام بخاری رحمہم اللہ کے بھی استاد ہیں اور صحیح بخاری میں بائیس ثلاثیات میں سے گیارہ ثلاثیات صرف امام مکی بن ابراہیم رحمہ اللہکی سند سے مروی ہیں اور نو ثلاثیات دیگر حنفی شیوخ سے۔
گویا امام بخاری رحمہ اللہ کو اپنی صحیح میں عالی سند کے ساتھ بیس ثلاثیات درج کرنے کا شرف سیدنا امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے شاگردوں ہی کا صدقہ ہے۔
امام مکی رحمہ ا ﷲ کو امامِ اعظم سے والہانہ عقیدت تھی چنانچہ آپ ہر مجلس اور ہر نماز کے بعد امامِ اعظم کے لیے دعائے خیر کرتے اور فرماتے تھے کہ انہی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے میرے لیے علوم کا دروازہ کھولا۔
ایک مرتبہ درسِ حدیث کی مجلس میں یوں روایت شروع کی، حَدَّثَنَا اَبُوْحَنِیْفَۃَ۔تو ایک طالبِ علم نے کہا، آپ ابنِ جُریج کی احادیث بیان کیجیے اور ابوحنیفہ کی روایات نہ سنائیے۔ یہ سنکر آپ کو اس قدر غصہ آیا کہ چہرے کا رنگ بدل گیا اور فرمایا،’’ ہم بیوقوفوں کو حدیث نہیں سناتے۔ تم میری مجلس سے نکل جاؤ، تمہارے لیے مجھ سے حدیث لکھنا حرام ہے‘‘۔چنانچہ جب تک اس طالبِ علم کو مجلس سے نکال نہیں دیا گیا آپ نے حدیث بیان نہیں فرمائی۔ جب اسے نکال دیا گیا تو پھر حدثنا ابو حنیفۃ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔()
امامِ اعظم کے دیگر تلامذہ میں سفیان ابن عینیہ، ابراھیم بن ادہم، حمزہ بن مقری،عباد بن العوام، علی بن مسہر،قاسم بن معن، حسن بن صالح،ابو بکر بن عیاش، عیسیٰ بن یونس ، اسحق بن یوسف، شعیب بن اسحاق، عبدالوارث بن سعید، محمد بن بشر ، حماد بن زید(رحمہم اﷲ تعالیٰ) قابلِ ذکر ہیں اور یہ سب صحاح ستہ کے محدثین کے مشائخ میں سے ہیں ۔امام نووی رحمہ ا ﷲنے سفیان ثوری رحمہ ا ﷲ کو بھی آپ کا شاگرد تحریر کیا ہے۔
علامہ سیوطی رحمہ ا ﷲ نے امامِ اعظم صسے حدیث روایت کرنے والے 95 محدثین کے نام تحریر کیے ہیں ۔ان میں مکی بن ابراہیم، ابو عاصم ضحاک کے علاوہ ابونعیم فضل بن دکین رحمہم ا ﷲ تعالیٰ بھی شامل ہیں ،یہ تینوں امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں اور ان سے صحیح بخاری و کتبِ صحاح میں بکثرت روایات موجود ہیں ۔ ()
Page 140 of 168

