Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 141 of 168
ائمہ ثلاثہ اورصحاح ستہ کے محدثین :
ائمہ ثلاثہ اورصحاح ستہ کے تمام محدثین براہِ راست یا بالواسطہ امامِ اعظم ابوحنیفہص ہی کے شاگرد ہیں ۔مثلاًامام مالک ، امامِ اعظم کے شاگرد ہیں جبکہ امام شافعی ، امام محمد بن حسن کے اور امام احمد بن حنبل، امام ابویوسف کے شاگرد ہیں جو کہ دونوں امامِ اعظم کے نامور شاگرد ہیں ۔ اس طرح ائمہ ثلاثہ بھی براہ راست یا بالواسطہ امامِ اعظم ہی کے شاگرد ہیں ۔ رحمہم ا ﷲ تعالیٰ
یہ مذکور ہوا کہ امام احمد بن حنبل آپ کے شاگر د امام ابویوسف کے شاگرد ہیں اور امام احمد کے شاگردوں میں امام بخاری، امام مسلم اور امام ابوداؤد شامل ہیں ۔ امام ترمذی نے بخاری ومسلم سے اور امام نسائی نے امام ابوداؤد سے استفادہ کیا ہے جبکہ امام
ابن ماجہ بھی اسی سلسلے کے شاگرد ہیں رحمہم ا ﷲ تعالیٰ۔ تو گویا صحاح ستہ کے تمام محدثین بالواسطہ امامِ اعظم صہی کے شاگرد ہوئے۔ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔
اراکینِ شوریٰ:
امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کی مجلسِ شوریٰ جس نے تدوینِ فقہ کا عظیم کارنامہ سر انجام دیا، اس کے اراکین کی تعدادکے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اکثر مؤرخین نے یہ تعداد چالیس لکھی ہے جس کا ماخذ امام طحاوی ر حمہ اللہ کی مشہور روایت ہے۔
قاضی ابوعبداللہ حسین بن علی صیمری اور خطیب بغدادی ر حمہما اللہ نے اسماعیل بن حمادر حمہ اللہ کی روایت بیان کی ہے جس کے مطابق اس مجلسِ فقہ کے اراکین کی تعداد چھتیس ہے جبکہ علامہ کردری ر حمہ اللہ نے مناقب الامام الاعظم میں وکیع بن الجراح رحمہ اللہکی روایت نقل کی ہے جس میں انہوں نے امام ابویوسف ر حمہ اللہ کے ارشاد کے مطابق مجلس فقہ کے اراکین کی تعداد تیس بتائی ہے۔
گمان یہ ہے کہ ۱۲۱ھ میں جب اس کام کا آغاز ہوا تو امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کے اس وقت کے لائق وذہین ترین شاگرد اس مجلس کے رکن نامزد کیے گئے ہوں گے لیکن دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے بعض شاگردکچھ عرصہ بعد چلے گئے ہوں گے اور ان کی جگہ دوسرے ائمہ نے لی ہوگی جبکہ اکثر ائمہ اس عظیم نیکی میں آغاز سے آخر تک شامل رہے ہیں ۔ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کے آخری زمانے میں جو ائمہ کرام مجلس شوریٰ کے اراکین تھے ،انہی کے ناموں کی فہرست اکثر تذکرہ نگاروں نے تحریر کی ہے:
علامہ حافظ عبدالقادر قرشی ر حمہ اللہکی تصنیف، الجواہر المضیئہ کے حوالے سے ہم چالیس معروف اراکینِ شوریٰ کے نام سنِ وصال کے لحاظ سے تحریر کر رہے ہیں :-
۱۔ا ما م ز فر بن ہذیل ر حمۃ اللہ علیہ متو فی۱۵۸ ھ
۲۔اما م ما لک بن مغو ل رحمۃ اللہ علیہ متو فی۱۵۹ھ
۳۔اما م د ا و ُد طا ئی رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۶۵ ھ
۴۔اما م مند ل بن علی رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۶۸ھ
۵۔امام نضر بن عبد الکریم رحمۃ اللہ علیہمتو فی ۱۶۹ھ
۶۔اما م عمرو بن میمون رحمۃ اللہ علیہمتو فی ۱۷۱ھ
۷۔امام حبا ن بن علی رحمۃ اللہ علیہ متو فی ۱۷۲ھ
۸۔امام ابو عصمہ نوح رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۷۳ھ
۹۔ امام زہیر بن معا و یہ رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۷۳ھ
۱۰۔امام قا سم بن معن رحمۃ اللہ علیہمتو فی ۱۷۵ھ
۱۱۔امام حماد بن الا مام اعظم رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۷۶ھ
۱۲۔ امام ہیاج بن بسطا م رحمۃ اللہ علیہمتو فی ۱۷۷ھ
۱۳۔امام شر یک بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہمتو فی ۱۷۸ھ
۱۴۔ امام عا فیہ بن یز ید رحمۃ اللہ علیہ متو فی ۱۸۰ھ
۱۵۔ امام عبد ا للہ بن مبا رک رحمۃ اللہ علیہ متو فی۱۸۱ھ
۱۶۔امام قاضی ابو یو سف یعقوب رحمۃ اللہ علیہ متو فی۱۸۲ھ
۱۷۔امام ابو محمد نو ح النخعی رحمۃ اللہ علیہ متو فی ۱۸۲ھ
Share:
keyboard_arrow_up