Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 141 of 167

آئمہ ثلاثہ اور صحاح ستہ کے محدثین:

آئمہ ثلاثہ اور صحاح ستہ کے تمام محدثین براہِ راست یا بالواسطہ امامِ اعظم ابوحنیفہ ہی کے شاگرد ہیں۔

مثلاً: امام مالک، امامِ اعظم کے شاگرد ہیں جبکہ امام شافعی، امام محمد بن حسن  کے اور امام احمد بن حنبل، امام ابو یوسف کے شاگرد ہیں جو کہ دونوں امامِ اعظم کے نامور شاگرد ہیں ۔ اس طرح آئمہ ثلاثہ بھی براہ راست یا بالواسطہ امامِ اعظم ہی کے شاگرد ہیں ۔ رحمہم ا ﷲ تعالیٰ یہ مذکور ہوا کہ امام احمد بن حنبل آپ کے شاگر د امام ابو یوسف کے شاگرد ہیں اور امام احمد کے شاگردوں میں امام بخاری، امام مسلم اور امام ابوداؤد شامل ہیں۔

امام ترمذی نے بخاری و مسلم سے اور امام نسائی نے امام ابوداؤد سے استفادہ کیا ہے جبکہ امام ابن ماجہ بھی اسی سلسلے کے شاگرد ہیں رحمہم ﷲ تعالیٰ۔ تو گویا صحاح ستہ کے تمام محدثین بالواسطہ امامِ اعظم ہی کے شاگرد ہوئے۔ذلک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء۔

اراکینِ شوریٰ:

امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی مجلسِ شوریٰ جس نے تدوینِ فقہ کا عظیم کارنامہ سر انجام دیا، اس کے اراکین کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اکثر مؤرخین نے یہ تعداد چالیس لکھی ہے جس کا ماخذ امام طحاوی رحمہ اللّٰہ کی مشہور روایت ہے۔

قاضی ابوعبداللّٰہ حسین بن علی صیمری اور خطیب بغدادی رحمہما اللّٰہ  نے اسماعیل بن حماد رحمہ اللّٰہ کی روایت بیان کی ہے:

جس کے مطابق اس مجلسِ فقہ کے اراکین کی تعداد چھتیس ہے جبکہ علامہ کردری ر حمہ اللّٰہ نے مناقب الامام الاعظم میں وکیع بن الجراح رحمہ اللّٰہ کی روایت نقل کی ہے جس میں انہوں نے امام ابو یوسف رحمہ اللّٰہ کے ارشاد کے مطابق مجلس فقہ کے اراکین کی تعداد تیس بتائی ہے۔ گمان یہ ہے کہ ۱۲۱ھ میں جب اس کام کا آغاز ہوا تو امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے اس وقت کے لائق و ذہین ترین شاگرد اس مجلس کے رکن نامزد کیے گئے ہوں  گے لیکن دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے بعض شاگرد کچھ عرصہ بعد چلے گئے ہوں گے اور ان کی جگہ دوسرے آئمہ نے لی ہوگی جبکہ اکثر آئمہ اس عظیم نیکی میں آغاز سے آخر تک شامل رہے ہیں ۔

امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے آخری زمانے میں جو آئمہ کرام مجلس شوریٰ کے اراکین تھے ،انہی کے ناموں کی فہرست اکثر تذکرہ نگاروں نے تحریر کی ہے:

علامہ حافظ عبدالقادر قرشی ر حمہ اللّٰہ کی تصنیف، الجواہر المضیئہ کے حوالے سے ہم چالیس معروف اراکینِ شوریٰ کے نام سنِ وصال کے لحاظ سے تحریر کر رہے ہیں :-

۱۔ اما م ز فر بن ہذیل ر حمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۵۸ ھ

۲۔ اما م ما لک بن مغو ل رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۵۹ھ

۳۔ اما م داوُد طا ئی رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۶۵ ھ

۴۔ اما م مند ل بن علی رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۶۸ھ

۵۔ امام نضر بن عبد الکریم رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۶۹ھ

۶۔ اما م عمرو بن میمون رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۷۱ھ

۷۔ امام حبا ن بن علی رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۷۲ھ

۸۔ امام ابو عصمہ نوح رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۷۳ھ

۹۔ امام زہیر بن معا و یہ رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۷۳ھ

۱۰۔ امام قا سم بن معن رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۷۵ھ

۱۱۔ امام حماد بن الا مام اعظم رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۷۶ھ

۱۲۔ امام ہیاج بن بسطام رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۷۷ھ

۱۳۔ امام شر یک بن عبد اللّٰہ رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۷۸ھ

۱۴۔ امام عا فیہ بن یز ید رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۸۰ھ

۱۵۔ امام عبد اللّٰہ بن مبا رک رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۸۱ھ

۱۶۔ امام قاضی ابو یو سف یعقوب رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۸۲ھ

۱۷۔ امام ابو محمد نو ح النخعی رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۸۲ھ

Share:
keyboard_arrow_up