۱۸۔ امام ہیشم بن بشیر السلمی رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۸۳ھ
۱۹۔ امام یحییٰ بن زکر یا رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۸۴ھ
۲۰۔ امام فضیل بن عیا ض رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۸۷ھ
۲۱۔ امام اسد بن عمرو رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۸۸ھ
۲۲۔ امام محمد بن الحسن رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۸۹ھ
۲۳۔ امام علی ابن مسہر رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۸۹ھ
۲۴۔ امام یوسف بن خالد رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۸۹ھ
۲۵۔ امام عبد اللّٰہ بن ادریس رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۹۲ھ
۲۶۔ امام فضل بن مو سیٰ رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۹۲ھ
۲۷۔ امام علی بن ظبیان رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۹۲ھ
۲۸۔ امام حفص بن غیا ث رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۹۴ھ
۲۹۔ امام وکیع بن الجرا ح رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۹۷ھ
۳۰۔ امام ہشام بن یو سف رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۹۷ھ
۳۱۔ امام یحییٰ بن سعید القطان رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۹۸ھ
۳۲۔ امام شعیب بن اسحاق رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۹۸ھ
۳۳۔ امام حفص بن عبد الر حمن رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۹۹ھ
۳۴۔ امام ابو مطیع بلخی رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۱۹۹ھ
۳۵۔ امام خالد بن سلیمان رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۱۹۹ھ
۳۶۔ امام حسن بن زیاد رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۲۰۴ھ
۳۷۔ امام یزید بن ہارون رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۲۰۶ھ
۳۸۔ امام عبدالرزاق بن ھمام رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی ۲۱۱ھ
۳۹۔ امام ابو عاصم الضحاک بن مخلد رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۲۱۲ھ
۴۰۔ امام مکی بن ابرا ہیم رحمۃ اللّٰہ علیہ متو فی۲۱۵ھ
باب پانزدہم (15)
امامِ اعظم ،آئمہ دین کی نظر میں اما م اعظم کے با ر ے میں جلیل القدر آئمہ دین و محد ثین کرام کے ارشادا ت پیشِ خدمت ہیں:
امام محمد باقر:
آپ ایک ملاقات میں امامِ اعظم کی گفتگو سے خوش ہوئے ،ان کی پیشانی کو چوما اورانہیں اپنے سینے سے لگالیا۔
دوسرے موقع پر فرمایا،
ابوحنیفہ کے پاس ظاہری علوم کے خزانے ہیں اور ہمارے پاس باطنی اور روحانی علوم کے ذخائر ہیں ۔
ایک اور موقع پر فرمایا،
’’ابوحنیفہ کا طریقہ کیا ہی اچھا اور ان کی فقہ کیا ہی زیادہ ہے‘‘۔
امام جعفر صادق:
اے ابوحنیفہ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میرے نانا جان رسول کریم ﷺ کی سنتیں زندہ کرو گے تمھاری رہنمائی سے لوگوں کو صحیح راستہ ملے گا، تمھیں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے یہ توفیق حاصل ہو گی کہ زمانے بھر کے علمائے ربانی تمہاری وجہ سے صحیح مسلک اختیار کریں گے۔
ایک مرتبہ آپ کی بارگاہ میں امام ابوحنیفہ تشریف لائے تو آپ نے اُٹھ کر امام صاحب کو گلے لگایا ان کی خیریت پوچھی اور بڑی عزت سے بٹھایا۔ جب امامِ اعظم اٹھ کر چلے گئے تو کسی نے پوچھا، آپ انھیں جانتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا، احمق ہو ؟ میں ان کی خیریت پوچھ رہا ہوں اور تم پوچھ رہے ہو کہ میں انھیں جانتا ہوں یا نہیں ۔ یاد رکھو! یہ شخص اپنے ملک کا بہت بڑا فقیہ ہے۔
ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا،
’’یہ بڑا عالم و فاضل اور فقیہ ہے‘‘۔
اما م مالک:
اما م ا بو حنیفہ ایسے ذ ہین عالم تھے کہ اگر وہ یہ دعوہ کر تے کہ یہ ستون سونے کا بنا ہوا ہے تو وہ دلا ئل سے ثا بت کر سکتے تھے کہ یہ واقعی سونے کا ہے۔ وہ فقہ میں نہا یت بلند مقام پر فا ئز تھے۔
اما م شا فعی:
کسی ماں نے امام ابو حنیفہ سے بڑھ کر عقل ودانش والا بیٹا نہیں جنا۔
جو شخص دین کی سمجھ حا صل کر نا چاہے اسے چاہیے کہ امام ابوحنیفہ اور ان کے شاگردوں سے فقہ سیکھے کیونکہ تمام لوگ فقہ میں امام اعظم کے بچے ہیں۔
لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ کے محتاج ہیں، میں نے ان سے زائد فقیہ کوئی نہیں دیکھا۔ جس نے امامِ اعظم کی کتب میں غور و فکر نہ کی، نہ وہ علم میں ماہر ہو سکتا ہے اور نہ ہی فقیہ بن سکتا ہے۔

