Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 142 of 168
۱۸۔ امام ہیشم بن بشیر السلمی رحمۃ اللہ علیہ متو فی ۱۸۳ھ
۱۹۔امام یحییٰ بن زکر یا رحمۃ اللہ علیہ متو فی۱۸۴ھ
۲۰۔امام فضیل بن عیا ض رحمۃ اللہ علیہ متو فی۱۸۷ھ
۲۱۔امام اسد بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ متو فی ۱۸۸ھ
۲۲۔امام محمد بن الحسن رحمۃ اللہ علیہ متو فی۱۸۹ھ
۲۳۔ امام علی ابن مسہر رحمۃ اللہ علیہ متو فی ۱۸۹ھ
۲۴۔امام یوسف بن خا لد رحمۃ اللہ علیہ متو فی۱۸۹ھ
۲۵۔امام عبد اللہ بن اد ر یس رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۹۲ھ
۲۶۔ امام فضل بن مو سیٰ رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۹۲ھ
۲۷۔امام علی بن ظبیان رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۹۲ھ
۲۸۔امام حفص بن غیا ث رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۹۴ھ
۲۹۔ امام وکیع بن الجرا ح رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۹۷ھ
۳۰۔ امام ہشام بن یو سف رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۹۷ھ
۳۱۔امام یحییٰ بن سعید القطان رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۹۸ھ
۳۲۔ امام شعیب بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۹۸ھ
۳۳۔امام حفص بن عبد الر حمن رحمۃ اللہ علیہمتو فی ۱۹۹ھ
۳۴۔امام ابو مطیع بلخی رحمۃ اللہ علیہ متو فی ۱۹۹ھ
۳۵۔ امام خالد بن سلیمان رحمۃ اللہ علیہمتو فی۱۹۹ھ
۳۶۔امام حسن بن زیا د رحمۃ اللہ علیہ متو فی۲۰۴ھ
۳۷۔امام یزید بن ہارون رحمۃ اللہ علیہمتو فی۲۰۶ھ
۳۸۔امام عبدالرزاق بن ھمام رحمۃ اللہ علیہمتو فی ۲۱۱ھ
۳۹۔ امام ابو عا صم الضحاک بن مخلد رحمۃ اللہ علیہمتو فی۲۱۲ھ
۴۰۔ امام مکی بن ابرا ہیم رحمۃ اللہ علیہمتو فی۲۱۵ھ

باب پانزدہم (15)امامِ اعظم ،ائمہ دین کی نظر میں
اما م اعظم کے با ر ے میں جلیل القد را ئمہ دین و محد ثین کرام کے ارشادا ت پیشِ خدمت ہیں :
امام محمد باقر:
٭آپ ایک ملاقات میں امامِ اعظم ص کی گفتگو سے خوش ہوئے ،ان کی پیشانی کو چوما اورانہیں اپنے سینے سے لگالیا۔ ()
٭دوسرے موقع پر فرمایا، ابوحنیفہ کے پاس ظاہری علوم کے خزانے ہیں اور ہمارے پاس باطنی اورروحانی علوم کے ذخائر ہیں ۔ ()
٭ایک اور موقع پر فرمایا،’’ابوحنیفہ کا طریقہ کیا ہی اچھا اور ان کی فقہ کیا ہی زیادہ ہے‘‘۔ ()
امام جعفر صادق:
٭اے ابوحنیفہ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میرے نانا جان رسول کریم ﷺ کی سنتیں زندہ کرو گے… تمھاری رہنمائی سے لوگوں کو صحیح راستہ ملے گا، تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ توفیق حاصل ہو گی کہ زمانے بھر کے علمائے ربانی تمہاری وجہ سے صحیح مسلک اختیار کریں گے۔ ()
٭ایک مرتبہ آپ کی بارگاہ میں امام ابوحنیفہ ص تشریف لائے تو آپ نے اٹھ کر امام صاحب کو گلے لگایا ان کی خیریت پوچھی اور بڑی عزت سے بٹھایا۔ جب امامِ اعظم اٹھ کر چلے گئے تو کسی نے پوچھا، آپ انھیں جانتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا، احمق ہو ؟ میں ان کی خیریت پوچھ رہا ہوں اور تم پوچھ رہے ہو کہ میں انھیں جانتا ہوں یا نہیں ۔ یاد رکھو! یہ شخص اپنے ملک کا بہت بڑا فقیہ ہے۔ ()
٭ایک اورموقع پر ارشاد فرمایا، ’’یہ بڑا عالم و فاضل اور فقیہ ہے‘‘۔ ()
اما م مالک :٭ اما م ا بو حنیفہص ا یسے ذ ہین عا لم تھے کہ اگر وہ یہ دعو یـ کر تے کہ یہ ستون سونے کا بنا ہوا ہے تو وہ دلا ئل سے ثا بت کر سکتے تھے کہ یہ واقعی سونے کا ہے۔ و ہ فقہ میں نہا یت بلند مقام پر فا ئز تھے۔ ()
اما م شا فعی :
٭کسی ما ں نے اما م ا بو حنیفہ سے بڑھ کر عقل و د ا نش و ا لا بیٹا نہیں جنا۔ ()
٭جو شخص دین کی سمجھ حا صل کر نا چاہے اسے چاہیے کہ اما م ابوحنیفہص اور ان کے شاگردوں سے فقہ سیکھے کیو نکہ تما م لو گ فقہ میں اما م اعظم کے بچے ہیں ۔ ()
٭لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ صکے محتاج ہیں ،میں نے ان سے زائد فقیہ کوئی نہیں دیکھا۔ جس نے امامِ اعظم کی کتب میں غوروفکر نہ کی، نہ وہ علم میں ماہر ہو سکتا ہے اور نہ ہی فقیہ بن سکتا ہے۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up