امام احمد بن حنبل :
٭اللہ تعالیٰ امام ابوحنیفہ صپر رحم فرمائے وہ بے پناہ پرہیزگار تھے۔ انھیں منصب قضاۃ قبول نہ کرنے پر حکمرانوں نے کوڑے لگائے مگر وہ صبر و استقلال کے ساتھ انکار کرتے رہے۔ ()
٭وہ علم ،ورع،زہد اور آخرت کو اپنانے میں سب سے آگے ہیں ان کے مقام کو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ ()
اما م مو سٰی کا ظم:٭آ پ نے جب پہلی مرتبہ امامِ اعظم کو دیکھا تو فرما یا،کیا تم ہی ابوحنیفہ ہو؟عرض کی، جی ہا ں ! آ پ نے مجھے کیسے پہچا نا؟فرما یا ،قرآن مجید میں ہے (ترجمہ:’’ان کی علا مت ان کے چہر و ں میں ہے سجدو ں کے نشان سے ‘‘۔ الفتح:۲۸)()اس آ یت کی رو شنی میں آپ کو پہچا ن لیا۔()
امام سفیا ن ثو ر ی :
٭ امام ابوحنیفہ صکی مخالفت وہی کر سکتا ہے جو علم وفضل اور قدرومنزلت میں ان سے بلندتر ہو، اور ایسا شخص ملنا مشکل ہے۔ ()
٭ محمد بن بشر کہتے ہیں ، میں سفیا ن ثو ر ی کے پا س حا ضرہوا۔ ا نہوں نے پو چھا، کہاں سے آ ر ہے ہو؟ میں نے عر ض کی، ا ما م ا بو حنیفہ صکے پاس سے۔ فر ما یا ، یقیناً تم ایسے شخص کے پا س سے آ ر ہے ہو جو ر و ئے ز مین پر سب سے بڑ ا فقیہ ہے۔ ()
٭ا بن مبا ر ک نے سفیا ن ثو ر ی سے د ر یا فت کیا ، کیا وہ با تیں بعید از عقل نہیں ہیں جو اما م ابوحنیفہ کے د شمن ا ن کی غیبت کے طو ر پر کر تے ہیں ؟ فر ما یا ،صحیح کہتے ہو۔ خدا کی قسم ! میں سمجھتا ہوں کہ ا ن کی نیکیوں کو کو ئی کم نہیں کر سکتا ا لبتہ وہ حسد کر نے و ا لے ا پنی ہی نیکیا ں مٹا تے ہیں ۔ ()
حضرت عبد اﷲ بن مبا ر ک :
٭کسی کے لیے منا سب نہیں کہ وہ یہ کہے کہ یہ میر ی ر ا ئے ہے لیکن امام ا بو حنیفہ ص کو ز یبا ہے کہ وہ یہ کہیں کہ یہ میری رائے ہے ۔()
٭لو گو ں میں سب سے ز یا د ہ فقیہ اما م ا بو حنیفہ صہیں ۔ میں نے فقہ میں ا ن کی مثل کسی کو نہیں دیکھا ۔ ()
٭اگر اﷲ تعا لیٰ اما م ا بو حنیفہ ا و ر سفیا ن ثو ر ی کے ذ ر یعے میر ی مد د نہ فرما تا تو میں عا م لوگو ں کی مانند ہو تا۔ ()
٭ اگر امام ابوحنیفہص تابعین کے ابتدائی دور میں ہوتے جب صحابَۂ کرام کی کثرت تھی تو کئی تابعین بھی آپ کے علوم سے بہرہ و ر ہوتے ۔امامِ اعظم کا قیاس دراصل حدیث کی تفسیر و تشریح تھا۔()
٭اثر و حدیث کو لازم پکڑو اور حدیث کی تفسیر و تشریح کے لیے امام ابوحنیفہ صکی اتباع کرو۔()
حضرت سفیا ن ابن عیینہ:
٭امام ابوحنیفہصجیسا فقیہ میری آنکھ نے آج تک نہیں دیکھا۔ ()
٭اگر فقہ کا علم حا صل کر نا ہو تو کوفہ جا کر اما م اعظم ابوحنیفہ صکی مجالس میں شرکت کرو۔()
٭کو فہ کی دو چیزوں سے سا ری دنیا نے فیض پایا ہے۔وہ ہیں حمزہ کی قرأت اور اما م ابوحنیفہ صکی فقہ۔ ()
حضرت مکی بن ا برا ہیم :٭ اما م ا بو حنیفہ اپنے ز ما نے کے سب سے بڑے عا لم تھے۔ ()
یحییٰ بن سعید فطان :
٭ خدا ہم سے جھو ٹ نہ بلو ا ئے، ہم نے ا ما م ا بو حنیفہ سے ز یا د ہ بہتر رائے کسی کی نہیں پائی ا و ر ہم نے ا ن کے بہت سے اقوال کو اختیار کیا ہے۔ ()
٭میں عمر بھر فقہی مسائل میں لوگوں پر چھایا رہا لیکن جب میں امام ابوحنیفہ سے ملا تو یوں محسوس ہوا کہ میں ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ، وہ فقہ کے بلند ترین مقام پر ہیں ۔ ()
ا ما م ا و ز ا عی:
٭اما م ابوحنیفہص مشکل سے مشکل تر مسا ئل کو سب سے ز یا د ہ جاننے و ا لے تھے ۔ ()
٭یہ مشائخ میں جلیل وعظیم شیخ ہیں ، ان سے علم حاصل کرو۔ ()
٭ میں ان کے علم کی کثرت اور عقل کی وسعت پر رشک کرتا ہوں ۔ ()
حضرت یز ید بن ہا ر و ن رحمہ اللہ:
٭کسی نے آپ سے پو چھا،سفیا ن ثو ری ز یا دہ فقیہ ہیں یا ابوحنیفہ ؟فر ما یا،سفیا ن ثو ری حا فظ حدیث ہیں اور اما م ابوحنیفہ بڑے فقیہ۔()
Page 143 of 168

