Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 144 of 167

میں نے بہت سے علماء دیکھے مگر کسی کو بھی امام ابوحنیفہ سے ز یادہ عقلمند، افضل اور متقی نہیں پایا۔

میں نے ان کے جتنے ہم عصر دیکھے سب کو یہی کہتے سنا کہ انہوں نے امامِ اعظم سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا۔

آپ سے پوچھا گیا، امام مالک کی رائے زیادہ پسندیدہ ہے یا امام ابوحنیفہ کی؟ فرمایا، احادیث تو امام مالک سے لکھ لیا کرو لیکن جب حدیث کی تفسیر فقہ کی روشنی میں سمجھنی ہو تو پھر امامِ اعظم ابوحنیفہ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔

حضرت عبدﷲ بن داؤد خریبی رحمہ اللّٰہ:

تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اپنی نمازوں کے بعد امام اعظم ابو حنیفہ کے لیے ﷲ تعالیٰ سے دعائے خیر کر یں کیو نکہ اُنہوں  نے مسلمانوں کے لیے سنت و فقہ کی حفاظت فرمائی ہے۔

حضرت خلف بن ایوب رحمہ اللّٰہ:

ﷲ تعالیٰ نے حضور اکرم کو علم عطا فرمایا پھر آپ نے اپنے صحابہ کو علم سے سرفراز کیا پھر وہ علم تا بعین میں منتقل ہوا، اس کے بعد علم سے امام ابو حنیفہ اور ان کے تلامذہ بہرہ ور ہیں۔ اب جس کا دل چاہے خوش ہو اور جس کا دل چا ہے ناراض ہو۔

حضرت حسن بن سلیما ن رحمہ اللّٰہ:

حضور کی حد یث

لا تقوم ا لسا عۃ حتی یظہر ا لعلم

( قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک علم خو ب ظا ہر نہ ہو جائے) کی تفسیر یہ ہے کہ جب تک امام ابوحنیفہ کے علم کی تشہیر نہ ہوجائے، قیامت نہیں آ ئے گی۔

حضرت حسن بن عمارہ رحمہ اللّٰہ:

میں نے مسائل فقہ میں ان سے ز یادہ بلیغ گفتگو کر نے والا کسی کو نہ پایا اور نہ ان سے بڑھ کر مختصر کسی کا جواب د یکھا۔ بلا شبہ یہ اپنے ز ما نے کے متکلمین کے سردا ر ہیں ۔ جو کو ئی ان کی بد گو ئی کر تا ہے وہ حسد ہی کے باعث کرتا ہے۔

حضرت علی بن عاصم رحمہ اللّٰہ:

اگر نصف د نیا والوں کی عقل ایک پلہ میں اور امام ابو حنیفہ کی عقل ترازو کے دوسرے پلے میں رکھی جا ئے تو امام ابو حنیفہ کی عقل ز یادہ وزنی ہو گی۔

حضرت سہل بن مزاحم رحمہ اللّٰہ:

جس  نے بھی امامِ اعظم کی مخالفت کی، اس کا سبب یہ تھا کہ وہ آپ کی بات کو نہ سمجھ سکا۔

حضرت بکر بن حبیش رحمہ اللّٰہ:

اگر امام ابو حنیفہ اور ان کے تمام معاصرین کی عقلوں کا موازنہ کیا جائے تو امامِ اعظم ہی کی عقل وزنی نکلے گی۔

حضرت ابو مطیع بلخی رحمہ اللّٰہ:

٭میں نے حد یث و فقہ میں سفیا ن ثوری سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا تھا مگر جب میں نے امام ابوحنیفہ کو دیکھا تو مجھے تسلیم کرنا پڑا کہ فقہ میں امامِ اعظم سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔

حضرت ابن جر یج رحمہ اللّٰہ:

امامِ اعظم کے وصال کی خبر سن کر کہا۔انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔آج عالم اسلام سے علم چلا گیا۔ فقہ کا آ فتا ب غروب ہوگیا۔

بیشک وہ فقیہ ہیں ، بیشک وہ فقیہ ہیں ، بیشک وہ فقیہ ہیں ۔

حضرت ابو عاصم حسن رحمہ اللّٰہ:

آپ سے پو چھا گیا، امام ابو حنیفہ بڑے فقیہ ہیں یا سفیا ن ثوری؟فر ما یا،امامِ اعظم کا شا گرد اور غلام بھی سفیان ثوری سے زیادہ فقیہ ہے۔

خدا کی قسم! وہ میرے نزدیک ابن جریج سے بھی زیادہ فقیہ ہیں ،میں  نے کسی شخص کو ان سے زیادہ فقہ پر قادر نہ پایا۔

حضرت وکیع بن الجراح رحمہ اللّٰہ:

میں نے امام ابوحنیفہ سے بڑھ کر کو ئی فقیہ نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ سے بڑھ کر کوئی عا بد و متقی دیکھا ہے۔

میں جتنے لوگوں سے ملا ہوں ، ان میں مجھے امامِ اعظم کے فیصلے بھاری نظر آئے ہیں۔

حضرت یحییٰ بن معین رحمہ اللّٰہ:

میرے نزدیک حمزہ کی قرأت اور امامِ اعظم کی فقہ نہایت پسندیدہ ہیں اور میری اس را ئے سے تما م اہل علم متفق ہیں ۔

Share:
keyboard_arrow_up