Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 144 of 168
٭میں نے بہت سے علماء دیکھے مگر کسی کو بھی امام ابوحنیفہص سے ز یادہ عقلمند ،افضل اور متقی نہیں پا یا۔ ()
٭ میں نے ان کے جتنے ہم عصر دیکھے سب کو یہی کہتے سنا کہ انہوں نے امامِ اعظم سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا۔ ()
٭ آپ سے پوچھا گیا،امام مالک کی رائے زیادہ پسندیدہ ہے یا امام ابوحنیفہ کی؟ فرمایا، احادیث تو امام مالک سے لکھ لیا کرو لیکن جب حدیث کی تفسیر فقہ کی روشنی میں سمجھنی ہو تو پھر امامِ اعظم ابوحنیفہ سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔ ()
حضرت عبدا ﷲ بن د ا ؤد خریبی رحمہ اللہ:
٭تما م مسلما نو ں پر و ا جب ہے کہ وہ ا پنی نما ز و ں کے بعد ا ما م ا عظم ابوحنیفہ صکے لیے اﷲ تعالیٰ سے دعائے خیر کر یں کیو نکہ ا نہو ں نے مسلمانوں کے لیے سنت و فقہ کی حفاظت فر ما ئی ہے۔ ()
حضرت خلف بن ا یوب رحمہ اللہ: ٭اﷲتعا لیٰ نے حضو راکرم ﷺ کو علم عطا فر ما یا پھر آپﷺ نے اپنے صحا بہ کو علم سے سرفر ا ز کیا پھر وہ علم تا بعین میں منتقل ہوا ،اس کے بعد علم سے امام ا بو حنیفہص ا و ر ا ن کے تلامذہ بہرہ ور ہیں ۔ ا ب جس کا دل چا ہے خو ش ہو ا و ر جس کا دل چا ہے نا ر ا ض ہو۔ ()
حضرت حسن بن سلیما ن رحمہ اللہ: ٭حضو ر ﷺ کی حد یث لا تقوم ا لسا عۃ حتی یظہر ا لعلم ( قیا مت ا س و قت تک قا ئم نہ ہو گی جب تک علم خو ب ظا ہر نہ ہو جائے) کی تفسیر یہ ہے کہ جب تک اما م ابوحنیفہ کے علم کی تشہیر نہ ہو جا ئے، قیا مت نہیں آ ئے گی۔ ()
حضرت حسن بن عما ر ہ رحمہ اللہ: ٭میں نے مسا ئل فقہ میں ا ن سے ز یا د ہ بلیغ گفتگو کر نے والا کسی کو نہ پایا او ر نہ ا ن سے بڑھ کر مختصر کسی کا جواب د یکھا۔ بلا شبہ یہ اپنے ز ما نے کے متکلمین کے سردا ر ہیں ۔ جو کو ئی ان کی بد گو ئی کر تا ہے وہ حسد ہی کے با عث کرتا ہے۔ ()
حضرت علی بن عا صم رحمہ اللہ: ٭ا گر نصف د نیا و ا لو ں کی عقل ا یک پلہ میں ا و ر اما م ابوحنیفہص کی عقل تر ا ز و کے دوسرے پلے میں رکھی جا ئے تو اما م ابوحنیفہ کی عقل ز یا د ہ وزنی ہو گی۔()
حضرت سہل بن مزاحم رحمہ اللہ: ٭ جس نے بھی امامِ اعظم کی مخالفت کی، اس کا سبب یہ تھا کہ وہ آپ کی بات کو نہ سمجھ سکا۔ ()
حضرت بکر بن حبیش رحمہ اللہ: ٭ اگر امام ابوحنیفہص اور ان کے تمام معاصرین کی عقلوں کا موازنہ کیا جائے تو امامِ اعظم ہی کی عقل وزنی نکلے گی۔ ()
حضرت ابو مطیع بلخی رحمہ اللہ: ٭میں نے حد یث و فقہ میں سفیا ن ثوری سے بڑھ کرکسی کو نہیں دیکھا تھا مگر جب میں نے امام ابوحنیفہصکو دیکھا تو مجھے تسلیم کرنا پڑاکہ فقہ میں امامِ اعظم سے بڑھ کرکوئی نہیں ہے۔ ()
حضرت ابن جر یج رحمہ اللہ:
٭امامِ اعظم کے و صا ل کی خبر سن کر کہا۔انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔آج عا لم اسلام سے علم چلا گیا۔فقہ کا آ فتا ب غروب ہو گیا۔ ()
٭بیشک وہ فقیہ ہیں ، بیشک وہ فقیہ ہیں ، بیشک وہ فقیہ ہیں ۔ ()
حضرت ا بو عا صم حسن رحمہ اللہ:
٭ آپ سے پو چھا گیا،امام ابوحنیفہ بڑے فقیہ ہیں یا سفیا ن ثوری؟فر ما یا،امامِ اعظم کا شا گرد اور غلام بھی سفیان ثوری سے زیادہ فقیہ ہے۔ ()
٭ خدا کی قسم! و ہ میر ے نز د یک ابن جریج سے بھی زیا دہ فقیہ ہیں ،میں نے کسی شخص کو ا ن سے زیا دہ فقہ پر قا در نہ پایا۔ ()
حضرت وکیع بن الجرا ح رحمہ اللہ:
٭میں نے امام ابوحنیفہص سے بڑھ کر کو ئی فقیہ نہیں د یکھا اور نہ ہی آپ سے بڑھ کر کوئی عا بد و متقی دیکھا ہے۔ ()
٭میں جتنے لوگوں سے ملا ہوں ، ان میں مجھے امامِ اعظم ص کے فیصلے بھاری نظر آئے ہیں ۔ ()
حضرت یحییٰ بن معین رحمہ اللہ:
٭میر ے نزد یک حمزہ کی قرأت اور امامِ اعظم کی فقہ نہا یت پسند یدہ ہیں اور میری اس را ئے سے تما م اہل علم متفق ہیں ۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up