آپ سے پوچھا گیا، امام ابو حنیفہ کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟
فرمایا ، اس قدر کافی ہے کہ امیرالمومنین فی الحدیث، امام شعبہ نے ان کو حدیث و روایت کی اجازت دی اور امام شعبہ آخر امام شعبہ ہی ہیں ۔
ہمارے زمانے میں فقہاء صرف چارہیں۔
1۔ امام ابوحنیفہ،
2۔ امام مالک،
3۔ امام سفیان ثوری
4۔اور امام اوزاعی۔
امام ابوحنیفہ حدیث اور فقہ میں ثقہ تھے، صادق تھے اور اللّٰہ تعالیٰ کے دین پر امین تھے ۔
امام ابو داؤد رحمہ اللّٰہ:
ﷲتعالیٰ کی رحمت ہو امام ابوحنیفہ پر کیو نکہ و ہ امام تھے۔
حضرت عبدالعزیز بن ابی رواد رحمہ اللّٰہ:
ہمارے زمانے میں تمام لوگوں میں امام ابوحنیفہ ہی حق کا معیار تھے جو ان سے محبت کرتا ہم اس سے محبت کرتے ۔جو ان سے دوستی کرتا ہم اس کے دوست بن جاتے مگر جو ان سے بغض کرتا تو ہمیں یقین ہو جاتا کہ یہ بدعتی اور گمراہ ہے۔
شفیق بن عتیبہ :
میری آ نکھوں نے امام ابو حنیفہ کی مثل کسی کو نہ د یکھا۔
حضرت ابو عبدالرحمٰن المقری رحمہ اللّٰہ:
آپ حدیث روایت کرتے وقت یوں فرماتے، حدثنا ابوحنیفۃ شاہ مردان۔
جب ہم امام اعظم ابو حنیفہ سے مروی کسی حد یث کو بیان کر تے تو ہم کہتے، حدثنا شاہنا۔ ہما رے بادشاہ نے ہم سے حد یث بیان فرمائی ۔
حضرت ابو حمزہ رحمہ اللّٰہ:
امام ابو حنیفہ پر مجھے تعجب ہوتا ہے کہ رات بھر اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت میں کھڑے رہتے ہیں اور دن بھر لوگوں کی مشکلات حل کرنے میں اور حدیث سکھانے میں مشغول رہتے ہیں۔
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللّٰہ:
امامِ اعظم اپنے وقت کے فقیہ ہی نہیں بلکہ فقہا ء کے امام تھے۔ تقویٰ اور ورع میں آپ بے مثال تھے ۔اپنے مال کے ذریعے غریبوں کی مدد کرتے، جو سائل آتا اسے خالی نہ جانے دیتے۔ شب و روز عبادت میں اور علم سکھانے میں مصروف رہتے۔ کم گو اور خاموش طبع تھے۔ حلا ل و حرام کے مسائل پر تفصیل سے گفتگو فرماتے اور بادشاہ اور امراء کے مال سے دور رہتے تھے۔
امام اعمش رحمہ اللّٰہ:
اے فقہا ئے اسلام! آپ لوگ عطار ہیں اور ہم دوا فروش مگر اے ابوحنیفہ! تم نے تو دونوں کنارے گھیر لیے۔
اگر علم فقہ صرف طلب اور ملاقات سے حاصل ہوتا تو میں آپ سے زیادہ فقیہ ہوتا لیکن فقہ تو اللّٰہ کی عطا ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔
امامِ اعظم نے کچھ ایسی علمی چیزیں پیش کی ہیں جو لوگ سمجھتے ہیں اور کچھ ایسی علمی چیزیں پیش کی ہیں جو لوگ نہیں سمجھتے اس لئے ان سے حسد کرتے ہیں ۔ ان کے علم میں برکت دی گئی ہے۔
امام مغیرہ رحمہ اللّٰہ:
اما م ابوحنیفہ کے درس میں بیٹھا کرو تم فقیہ بن جاؤ گے۔ اگر آج امام ابراھیم نخعی زندہ ہوتے تو وہ بھی آپ کی صحبت اختیار کرتے ۔
حضرت مسعر بن کدام رحمہ اللّٰہ:
میں نے امام ابوحنیفہ جیسا کوئی فقیہ نہیں دیکھا۔ کوفہ میں دو لوگوں سے حسد کیا جاتا ہے، امامِ اعظم سے ان کی فقہ کی وجہ سے اور حسن بن صالح سے زہد و عبادت کی وجہ سے۔
جس نے اپنے اور اللّٰہ تعالیٰ کے درمیان امام ابوحنیفہ کو ڈال دیا، مجھے امید ہے اس کو کوئی ڈر نہ ہوگا اور اسے زائد احتیاط کی حاجت باقی نہ رہے گی۔
حضرت یحییٰ بن آدم رحمہ اللّٰہ:
امام ابوحنیفہ نے فقہ میں ایسا اجتھاد کیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں صحیح راہ دکھائی اور خواص و عوام نے ان کے علوم سے استفادہ کیا۔ امام شریک اور کوفہ کے دوسرے علماء ان کے سامنے طفل مکتب نظر آتے تھے جیسے بادشاہ کے سامنے غلام۔
حضرت عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللّٰہ :
میں نے امام ابوحنیفہ کو قضاۃ العلماء پایا یعنی وہ تمام محدثین اور فقہاء کے امام یا چیف جسٹس تھے۔ اگر کوئی شخص تمھیں امامِ اعظم کے خلاف بات کرتا ہوا ملے تو اس کی فضول باتوں کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دو۔

