٭ آپ سے پوچھا گیا، امام ابوحنیفہ کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا ،اس قدر کافی ہے کہ امیرا لمومنین فی الحدیث ،امام شعبہ نے ان کو حدیث و روایت کی اجازت دی اور امام شعبہ آخر امام شعبہ ہی ہیں ۔ ()
٭ہمارے زمانے میں فقہاء صرف چارہیں ۔ امام ابوحنیفہ ، امام مالک، امام سفیان ثوری اورامام اوزاعی۔ امام ابوحنیفہ حدیث اور فقہ میں ثقہ تھے، صادق تھے اور اللہ تعالیٰ کے دین پرامین تھے ۔ ()
امام ابو داؤدرحمہ اللہ: ٭اﷲتعا لیٰ کی رحمت ہو امام ابوحنیفہ صپر کیو نکہ و ہ امام تھے۔()
حضرت عبد العز یز بن ا بی رواد رحمہ اللہ: ٭ہما رے ز ما نے میں تمام لو گو ں میں امام ابوحنیفہص ہی حق کا معیار تھے جو ان سے محبت کرتا ہم اس سے محبت کرتے ۔جو ان سے دوستی کرتا ہم اس کے دوست بن جاتے مگر جو ان سے بغض کرتا تو ہمیں یقین ہو جاتا کہ یہ بدعتی اور گمراہ ہے۔ ()
شفیق بن عتیبہ : ٭ میر ی آ نکھو ں نے اما م ابوحنیفہ کی مثل کسی کو نہ د یکھا ۔ ()
حضرت ابو عبدالرحمٰن المقری رحمہ اللہ:
٭آپ حدیث روایت کرتے وقت یوں فرماتے، حدثنا ابوحنیفۃ شاہ مردان۔ ()
٭ جب ہم اما م اعظم ا بو حنیفہ سے مر و ی کسی حد یث کو بیا ن کر تے تو ہم کہتے ، حدثنا شاہنا۔ ہما ر ے با د شا ہ نے ہم سے حد یث بیا ن فرمائی ۔ ()
حضرت ابو حمزہ رحمہ اللہ: ٭ امام ابوحنیفہص پر مجھے تعجب ہوتا ہے کہ رات بھر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کھڑے رہتے ہیں اور دن بھر لوگوں کی مشکلات حل کرنے میں اور حدیث سکھانے میں مشغول رہتے ہیں ۔ ()
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ:
٭امامِ اعظم اپنے وقت کے فقیہ ہی نہیں بلکہ فقہا ء کے امام تھے ۔تقویٰ اور ورع میں آپ بے مثال تھے ۔اپنے مال کے ذریعے غریبوں کی مدد کرتے، جو سائل آتا اسے خالی نہ جانے دیتے۔ شب و روز عبادت میں اور علم سکھانے میں مصروف رہتے۔ کم گو اور خاموش طبع تھے۔ حلا ل و حرام کے مسائل پر تفصیل سے گفتگو فرماتے اور بادشاہ اور امراء کے مال سے دور رہتے تھے۔ ()
امام اعمش رحمہ اللہ:
٭ اے فقہا ئے اسلام ! آپ لوگ عطار ہیں اور ہم دوا فروش مگر اے ابوحنیفہ! تم نے تودونوں کنارے گھیر لیے۔ ()
٭اگر علم فقہ صرف طلب اور ملاقات سے حاصل ہوتا تو میں آپ سے زیادہ فقیہ ہوتا لیکن فقہ تو اللہ کی عطا ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔()
٭امامِ اعظم صنے کچھ ایسی علمی چیزیں پیش کی ہیں جو لوگ سمجھتے ہیں اور کچھ ایسی علمی چیزیں پیش کی ہیں جو لوگ نہیں سمجھتے اس لئے ان سے حسد کرتے ہیں ۔ ()
٭ان کے علم میں برکت دی گئی ہے۔ ()
امام مغیرہ رحمہ اللہ: ٭اما م ابوحنیفہ صکے درس میں بیٹھا کرو تم فقیہ بن جاؤ گے۔ اگر آج امام ابراھیم نخعی صزندہ ہوتے تو وہ بھی آپ کی صحبت اختیار کرتے ۔ ()
حضرت مسعر بن کدام رحمہ اللہ:
٭ میں نے امام ابوحنیفہ صجیسا کوئی فقیہ نہیں دیکھا۔ کوفہ میں دو لوگوں سے حسد کیا جاتا ہے، امامِ اعظم سے ان کی فقہ کی وجہ سے اور حسن بن صالح سے زہد و عبادت کی وجہ سے۔ ()
٭جس نے اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان امام ابوحنیفہ کو ڈال دیا، مجھے امید ہے اس کو کوئی ڈر نہ ہوگا اور اسے زائد احتیاط کی حاجت باقی نہ رہے گی۔ ()
حضرت یحییٰ بن ا ٓ دم رحمہ اللہ: ٭امام ابوحنیفہ صنے فقہ میں ایسا اجتھاد کیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں صحیح راہ دکھائی اور خواص و عوام نے ان کے علوم سے استفادہ کیا۔ امام شریک اور کوفہ کے دوسرے علماء ان کے سامنے طفل مکتب نظر آتے تھے جیسے بادشاہ کے سامنے غلام۔ ()
حضرت عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ : ٭میں نے امام ابوحنیفہص کو قضاۃ العلماء پایا یعنی وہ تمام محدثین اور فقہا ء کے امام یا چیف جسٹس تھے۔ اگر کوئی شخص تمھیں امامِ اعظم کے خلاف بات کرتا ہوا ملے تو اس کی فضول باتوں کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دو۔ ()
Page 145 of 168

