Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 146 of 167

حضرت خارجہ بن مصعب رحمہ اللّٰہ:

میں اپنی زندگی میں ہزاروں علماء و فقہاء سے ملا ہوں مگر ان میں مجھے صرف تین چار حضرات صاحبِ علم و بصیرت ملے۔ ان سب میں بلند پایا امام ابوحنیفہ ہیں آپ کے سامنے تمام فقیہانِ علم طفلِ مکتب دکھائی دیتے تھے۔ آپ کا علم، فقہی بصیرت، زہد و تقویٰ سب پرحاوی تھا۔

حضرت ابراہیم بن رستم رحمہ اللّٰہ:

جس کو اپنی زندگی میں امام ابو حنیفہ کا علم حاصل نہیں ہوا، میرے نزدیک وہ جاہل ہے۔

حضرت یزید بن ابراہیم رحمہ اللّٰہ:

آپ سے پوچھا گیا، ایک عالم کب فتویٰ دینے کے قابل ہوتا ہے؟

فرمایا، جب وہ امام ابوحنیفہ جیسا صاحبِ علم و بصیرت ہو جائے ۔عرض کی گئی ،یہ تو ممکن نہیں ۔ فرمایا، پھر ان کی کتابیں یاد کرے ،ان پر گہری نظر رکھے اور ہر مسئلہ میں ان سے رہنمائی حاصل کرے ۔

حضرت محمد بن میمون رحمہ اللّٰہ:

امام ابو حنیفہ کے زمانے میں ان سے زائد عالم، متقی، زاہد، عارف اور فقیہ کوئی نہ تھا۔ خدا کی قسم! مجھ کو ان سے علمی باتیں سننے کی بجائے کوئی شخص اگر ایک لاکھ دینار بھی دیتا تو مجھے خوشی نہ ہوتی۔

حضرت ابراہیم بن فیروز رحمہ اللّٰہ :

میرے والد نے بتایا کہ میں نے امام ابوحنیفہ کو مسجد حرام میں بیٹھے دیکھا، آپ کے ارد گرد مشرق و مغرب کے علما ء حلقہ باندھے بیٹھے تھے۔ آپ انھیں فتویٰ جار ی کر رہے تھے حالانکہ حرمین شریفین میں بڑے بڑے علماءو فقہا ء موجود تھے مگر امامِ اعظم کا فتویٰ سب کے لئے معتبر تھا۔

حضرت مقاتل بن حیان رحمہ اللّٰہ:

میں امامِ اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کی مجالس میں بیٹھا کرتا تھا، آپ جیسا صاحبِ بصیرت اور امورِ شریعت پر غور و فکر کرنے والا دوسرا کوئی نہیں دیکھا۔ مقاتل سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو آپ جواب دینے کےبعد فرماتے، یہ کوفہ و شام  کے امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کا قول ہے ۔

حضرت شقیق بلخی رحمہ اللّٰہ:

آپ امامِ اعظم کا بکثرت ذکر کرتے اور ان کی تعریف کرتے رہتے۔ لوگوں نے عرض کی، آپ ہمیں ایسی بات بتائیں جس سے ہمیں فائدہ پہنچے۔ آپ نے فرمایا ، افسوس تم  نے امام ابوحنیفہ کے ذکر کو فائدہ مند نہیں سمجھا۔ یاد رکھو امام ابو حنیفہ کا ذکر کرنا اور ان کی تعریف کرنا افضل اعمال سے ہے۔

حضرت قاضی شریک نخعی رحمہ اللّٰہ:

امام ابو حنیفہ خاموش مزاج، مفکر و مدبر، فقہ میں دقیق نظر رکھنے والے، علمی و عملی باریک استنباطات کرنے والے اور لطیف بحث کرنے والے تھے۔

حضرت ابو معاذ بلخی رحمہ اللّٰہ:

میں نے امامِ اعظم علیہ الرحمۃ سے بڑھ کر کوئی عالم و فقیہ نہ پایا۔ جسے امامِ اعظم کی مجلس میسر نہیں ہوئی وہ علم میں نا مکمل اور مفلس رہا۔

حضرت داؤد طائی رحمہ اللّٰہ:

امامِ اعظم ہدایت کا چمکتا ہوا ستارہ ہیں۔ ان سے راہ ہدایت پر چلنے والے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کا علم وہ ہے جسے اہل ایمان کے قلوب قبول کرتے ہیں۔

امام شعبہ رحمہ اللّٰہ:

جس طرح میں جانتا ہوں کہ آفتاب روشن ہے اسی یقین کے ساتھ میں کہہ سکتا ہوں کہ علم اور ابو حنیفہ ہم نشین اورساتھی ہیں۔

آپ کو امام ابوحنیفہ کے وصال کی خبر ملی تو فرمایا ۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون ۔ افسوس! کوفہ سے علم کی روشنی بجھ گئی۔ اب ان جیسا کوئی پیدا نہ ہو گا۔

خدا کی قسم! آ پ بہترین سمجھ اور اچھے حافظے والے تھے اس لئے لوگوں نے ان کی ایسی باتوں پر اعتراضات کئے جو آپ ان لوگوں سے زائد جانتے تھے۔ بخدا وہ ان کی سزا اللّٰہ تعالیٰ کے پاس پائیں گے۔ امام شعبہ ، امام ابوحنیفہ کے حق میں بہت زیادہ دعا فرماتے تھے۔

Share:
keyboard_arrow_up