حضرت سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللّٰہ:
اللّٰہ تعالیٰ نے امام ابوحنیفہ کی وساطت سے علم کی روشنیاں لوگوں کے دلوں میں بھر دی ہیں۔ فقہ کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جسے آپ نے احادیث کی روشنی میں بیان نہ کیا ہو۔
حضرت محمد بن المروزی رحمہ اللّٰہ:
اللّٰہ تعالیٰ امامِ اعظم ابوحنیفہ پر رحمت فرمائے، اُن کی زبان جب کھلتی ہے، حق بولتی ہے۔
حضرت نضر بن شمیل رحمہ اللّٰہ :
لوگ فقہ کے معاملے میں خواب غفلت میں تھے یہاں تک کہ امام ابو حنیفہ نے ان کو بیدار کیا اور فقہ کو خوب واضح کر کے بیان فرمادیا۔
حضرت سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللّٰہ:
آپ جب ارشاد فرماتے تو یوں محسوس ہوتا کہ سمندر کی تہہ سے موتی نکالنے والے غوطہ خور نے لوگوں کے سامنے موتیوں کے ڈھیر سجا دیے ہیں۔
حضرت ابن زیاد حسن رحمہ اللّٰہ:
امامِ اعظم ابوحنیفہ فقہ کا ایسا سمندر تھے جس کا کنارہ نہ تھا اور جس کی گہرائی کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔
امام ابو یوسف رحمہ اللّٰہ :
میرا تمام علم فقہ، امام ابوحنیفہ کے علم فقہ کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے دریائے فرات کی موجوں کے مقابلے میں ایک چھوٹی سی نہر ہو میں نے احادیث کی تفسیر کرنے میں امامِ اعظم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔
امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ اپنے اسلاف کے جانشیں تھے، خدا کی قسم! انہوں نے روئے زمین پر اپنے جیسا عالم و فقیہ نہیں چھوڑا۔
حضرت شداد بن حکیم رحمہ اللّٰہ:
اگر اللّٰہ تعالیٰ ہم پر امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ اور ان کے شاگردوں کی شکل میں انعامات نہ فرماتا تو ہم عملی طور پر مفلس اور محروم رہ جاتے ۔ نہ ہم احادیث کو سمجھ پاتے اور نہ دین کے مسائل سے صحیح واقف ہوتے ۔
حضرت حماد بن سلمہ رحمہ اللّٰہ:
امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ لوگوں میں سب سے عمدہ اور احسن فتوی دینے والے تھے۔
حضرت عیسیٰ بن یونس رحمہ اللّٰہ:
جو شخص بھی امامِ اعظم ابوحنیفہ کی شان میں گستاخی کرے، تم ہرگز اس کی تصدیق نہ کرو۔ خدا کی قسم! میں نے ان سے افضل، ان سے زائد متقی اور ان سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا۔
امام سیدی علی خواص شافعی رحمہ اللّٰہ:
امام ابوحنیفہ کے علوم انتہائی دقیق ہیں، انہیں صرف بلند مرتبہ اہلِ کشف اولیاء ہی سمجھ سکتے ہیں۔
ابن خلدون رحمہ اللّٰہ:
امام ابوحنیفہ علم حدیث کے بڑے مجتہدین میں سے ہیں۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ ان کے مذہب پر اعتماد کیا جاتا ہے اور ردّ و قبول میں ان پر اعتبار کیا جاتا ہے۔
امام ابن کثیر رحمہ اللّٰہ:
وہ امام ہیں، عراق کے فقیہ، اسلام کے اماموں میں سے اور بڑی شخصیتوں میں سے ایک ہیں ۔
امام محمد غزالی رحمہ اللّٰہ:
امام ابوحنیفہ عابد و زاہد اور عارف باللّٰہ تھے۔ آپ اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے والے تھے اور اپنے علم سے صرف اُس کی رضا چاھتے تھے۔
امام شعرانی شافعی رحمہ اللّٰہ:
تم علم کے بغیر امامِ اعظم علیہ الرحمۃ کی شان میں بدگوئی کرنے والوں سے بچو ورنہ دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھاؤ گے کیونکہ امامِ اعظم قرآن و حدیث کے پابند تھے اور رائے سے بیزار تھے۔ جو امامِ اعظم کے مذہب کی تحقیق کرے گا وہ اسے سب سے زیادہ احتیاط والا پائے گا اور جو اس کے سوا کچھ اور کہے ،وہ جاہل ہے۔
حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللّٰہ:
اماموں کے امام،ا ہلسنت کے پیشوا،فقہاء کا شرف اور علماء کی عزت امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت علیہ الرحمۃ مجاہدہ و عبادت میں ثابت قدم بزرگ تھے اور تصوف و طریقت میں بھی بڑی شان کے مالک تھے۔

