Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 148 of 168
امام ذہبی شافعی رحمہ اللہ:
٭ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ امامِ اعظم ہیں ، فقیہِ عراق ہیں ۔ ()
٭رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ وَاَرْضَاہُ۔ ان سے اللہ تعالیٰ راضی ہو اور وہ آپ کو راضی کرے۔ ()

باب شش دہم (16) مذہبِ حنفی کی وجہِ ترجیح
امامِ اعظم ابوحنیفہص کا ملتِ اسلامیہ پر احسانِ عظیم ہے کہ آپ نے سب سے پہلے قواعدِ اجتہاد اور اصولِ فقہ کی بنیاد رکھی اور مسلمانوں کی راہنمائی کے لیے فقہ کو مرتب کیا جسے ہم فقہ حنفی یا مذہبِ حنفی کے نام سے جانتے ہیں ۔
حنفی مذہب کو دیگر مذاہبِ ثلاثہ پر جو فوقیت اور برتری حاصل ہے اس کے چند اہم نکات پیشِ خدمت ہیں ۔
1۔ حنفی مذہب، حدیث ہے:
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ شرح مشکوٰۃ کے مقدمہ میں فرماتے ہیں ،
’’ جمہور محدثین کے نزدیک نبی کریم ﷺ کا قول حدیثِ قولی ہے، آپ ﷺکا فعل حدیثِ فعلی ہے اور اسی طرح جو کام آپ ﷺ کے سامنے کسی نے کیا اور آپ نے اس سے نہ روکا اور سکوت فرمایا، وہ حدیثِ تقریری ہے۔ اسی طرح صحابہ کرام اور تابعین کے اقوال، افعال اور ان کا کسی کام سے نہ روکنا بھی احادیث ہیں ‘‘۔
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ تابعی کا قول حدیثِ قولی ہے، اس کا فعل حدیثِ فعلی ہے اور اس کا کسی کے قول یا فعل پر سکوت فرمانا حدیثِ تقریری ہے، تو امامِ اعظم ابوحنیفہص کا قول ، فعل اور سکوت بھی حدیث قرار پایا کیونکہ آپ تابعی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ائمہ اربعہ میں سے یہ فضیلت صرف امامِ اعظم علیہ الرحمۃ ہی کو عطا فرمائی۔
آپ۷۰ھ یا ۷۷ھ یا۸۰ ھ میں پیدا ہوئے،کئی صحابہ کا زمانہ پایا، بیس سے زائد صحابہ کرام کی زیارت کی اور یہ بات بھی صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ نے سات صحابہ کرام سے بلا واسطہ احادیث سنی ہیں ۔اس پر تفصیلی گفتگو پہلے ہی کی جا چکی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مذہبِ حنفی درحقیقت حدیث ہی ہے۔
2 ۔ حضرت علی کی دعا:
یہ بات کتاب کے آغاز ہی میں تحریر کی گئی کہ امامِ اعظم صکے دادا اپنے نومولود بیٹے ثابت کو لے کر سیدنا علی صکی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان کے لیے اور ان کی اولاد کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ امام ابوحنیفہص کے پوتے اسماعیل بن حماد رحمہ ا ﷲ علیہماکہتے ہیں ، نحن نرجوا ان یکون اللہ تعالیٰ قد استجاب لعلی فینا۔’’ ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علیص کی دعا ہمارے حق میں ضرورقبول فرمائی ہے‘‘۔ ()
یہ حضرت علیصکی دعاؤں کا ثمر ہے کہ حضرت ثابت رحمہ ا ﷲکے گھر امام ابوحنیفہص پیدا ہوئے اور امام الاولیاء شیرِ خدا سیدناعلی المرتضیٰص کی دعائے برکت کی مقبولیت کی دلیل ہے کہ رب تعالیٰ نے مذہب حنفی کو عالمِ اسلام کا سب سے بڑا مذہب بنا دیا۔محدث علی قاری نے گیارھویں صدی ہجری میں حنفی مذہب کے مقلدین کو تمام اہلِ اسلام کا دوتہائی قرار دیا ہے۔ ()
امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی رحمہ ا ﷲ فرماتے ہیں ،
’’کسی تکلف اور تعصب کے بغیر کہا جا سکتا ہے کہ کشف کی نظر میں مذہب حنفی ایک عظیم دریا کی صورت میں نظر آتا ہے اور دوسرے مذاہب نہروں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں ۔ ظاہری نظر سے بھی دیکھا جائے تو امتِ مسلمہ کا سوادِاعظم امامِ اعظم ابوحنیفہصکاپیروکار ہے‘‘۔ ()
3 ۔ نبوی بشارات:
امامِ اعظم صکے مذہب کی فضیلت اور فوقیت کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ آپ کے علم و فضل کی تعریف میں احادیثِ مبارکہ موجود ہیں جن کا تفصیلی ذکر کتاب کے آغاز ہی میں کیا جا چکا ہے۔اس کا خلاصہ ملاحظہ ہو:-
بخاری و مسلم میں آقا ومولیٰ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے،لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ عِنْدَالثُّرَیَّا لَتَنَاوَلَہٗ رِجَالٌ مِنْ فَارِسَ۔()
Share:
keyboard_arrow_up