Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 149 of 168
اور صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں ، لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ عِنْدَالثُّرَیَّا لَذَھَبَ بِہٖ رَجُلٌ مِنْ اَبْنَائِ فَارِسَ حَتّٰی یَتَنَاوَلَہٗ ۔()
’’اگر ایمان ثریا کے پاس ہو تو مردانِ فارس میں سے ایک شخص اس تک پہنچ جائے گا اور اس کو حاصل کر لے گا‘‘۔
امام سیوطی شافعی اور دیگر ائمہ محدثین رحمہم اللہ تعالیٰ نے بخاری و مسلم کی ان حادیث سے امامِ اعظم ابوحنیفہص ہی کو مراد لیا ہے کیونکہ فارس کے علاقوں سے کوئی ایک شخص بھی امامِ اعظم جیسے علم وفضل کا حامل نہ ہوااور نہ ہی کسی کو آپ جیسا بلند مقام نصیب ہوا۔
علامہ ابن حجر مکی شافعی رحمہ ا ﷲ فرماتے ہیں ،امام ابوحنیفہص کی شان میں آقا ومولیٰ ﷺ کے اس ارشاد سے بھی استدلال ہو سکتا ہے کہ: -
انہ قال ترفع زینۃ الدنیا سنۃ خمسین ومائۃ۔() ’’دنیا کی زینت ایک سو پچاس سن ہجری میں اٹھا لی جائے گی‘‘۔ اس حدیث کی شرح میں شمس الائمہ امام کردری رحمہ ا ﷲنے فرمایاکہ یہ حدیث امام ابوحنیفہص پر صادق آتی ہے کیونکہ نامور ائمہ دین میں سے آپ ہی کا انتقال اس سن میں ہوا۔()
4 ۔ صحیح حدیث مذہبِ حنفی ہے:
امامِ اعظم صکا ارشاد ہے،’’جو حدیث صحیح ہو وہی میرا مذہب ہے‘‘۔
چونکہ آپ نے بلاواسطہ صحابہ کرام سے احادیث سنیں یا تابعین کرام سے،اور ان میں کوئی راوی ضعیف نہیں اس لیے آپ تک پہنچنے والی تمام احادیث صحیح ہیں اور آپ کا مذہب صحیح احادیث کے مطابق ہے۔
مذہبِ شافعی کے مقلد امام شعرانی رحمہ ا ﷲکی گواہی ملاحظہ کیجیے۔ آپ فرماتے ہیں ،
’’اگر امامِ اعظم علیہ الرحمۃ اور رسول کریم ﷺ کے درمیان راوی صحابہ اور تابعین ہیں تو پھر امامِ اعظم کے بعض دلائل کو ضعیف احادیث پر مبنی کیوں قرار دیا گیاہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جن راویوں کو ضعیف کہا گیا ہے وہ امامِ اعظم کے وصال کے بعد کے راوی ہیں اور انہوں نے اس حدیث کو امامِ اعظم کی سند کے علاوہ کسی اور سند سے روایت کیا ہے کیونکہ امامِ اعظم کی اسانید ثلاثہ میں جتنی احادیث ہیں ، وہ سب صحیح ہیں کیونکہ اگر وہ احادیث صحیح نہ ہوتیں تو امامِ اعظم ان سے کبھی استدلال نہ کرتے۔ اور امامِ اعظم کی سند کے نچلے راویوں میں سے کسی راوی کی طرف جھوٹ کی نسبت کی گئی ہو تو اس سے امامِ اعظم کی حدیث کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے نزدیک اس حدیث کی صحت کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اس حدیث سے مجتہدو امام نے استدلال کیا ہے اس لئے ہم پر واجب ہے کہ ہم اس حدیث پر عمل کریں خواہ اس کو کسی اور نے روایت نہ کیا ہو۔
جب تک امامِ اعظم کی مسانید ثلاثہ میں ان کے مذہب کی دلیل دیکھ نہ لی جائے اور یہ یقین نہ ہوجائے کہ ان کی دلیل ان مسانید میں موجود نہیں ہے اس وقت تک ان کے مذہب کی کسی دلیل کو ضعیف نہ کہا جائے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان کے بعدکے علمائے احناف نے مذہبِ حنفی پر جو دلائل قائم کیے ہیں ان میں سے کوئی دلیل کسی ضعیف حدیث پر مبنی ہو لیکن امامِ اعظم علیہ الرحمۃ کا دامن اس سے بری ہے‘‘ ۔()
5۔ قرآن حکیم سے مطابقت:
مذہبِ حنفی کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ جو احکام قرآن و حدیث سے ماخوذ ہیں اور جن میں ائمہ کرام کا اختلاف ہے ان میں امامِ اعظم علیہ الرحمۃ جو پہلو اختیار کرتے ہیں وہ نہایت مضبوط دلائل پر مبنی اور اصولِ عقل کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ ہم اگلے عنوان ’’مذہبِ حنفی اور قرآن‘‘کے تحت یہ ثابت کریں گے کہ فقہ حنفی کے مسائل قرآنی آیات سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں اس سے یہ بھی ثابت ہوجائے گا کہ امامِ اعظم کو اجتہاد میں دیگر ائمہ کرام پر نمایاں فضیلت حاصل ہے۔
Share:
keyboard_arrow_up