Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 150 of 168
6۔ حدیث کی اتباع:
اسی طرح امامِ اعظم علیہ الرحمۃ حدیث کی اتباع اورسنت کی پیروی میں دیگر ائمہ سے بہت آگے ہیں ۔ اس کے دلائل یہ ہیں :-
{ ۱} امامِ اعظم صحدیثِ مرسل کو حجت مانتے ہیں اور اسے قیاس پر مقدم جانتے ہیں جبکہ امام شافعی علیہ الرحمۃ حدیث مرسل پر قیاس کو ترجیح دیتے ہیں ۔
{۲} قیاس کی چار قسمیں ہیں ۔ قیاس موثر ، قیاس مناسب، قیاس شبہہ، قیاس طرد۔ امامِ اعظم صصرف قیاسِ موثر کو حجت مانتے ہیں جبکہ امام شافعی علیہ الرحمۃ قیاس کی ان چاروں قسموں کو حجت مانتے ہیں ۔
{۳} امامِ اعظم علیہ الرحمۃ کو احادیث کی اتباع سے اسقدر محبت ہے کہ قیاس کے مقابلے میں ضعیف احادیث پر بھی عمل فرماتے ہیں ۔
7۔ فطرت کا لحاظ:
اسلام، دینِ فطرت ہے اس بناء پر ایسے مسائل میں جہاں کوئی نص موجود نہ ہو یا روایات مختلف ہوں تو مذہبِ حنفی میں عام طور پر فطری تقاضوں کو وجہ ترجیح قرار دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر مسواک کے متعلقعند کل صلاۃ کی روایت کے مقابلے میں عند کل وضوئ کو اس لیے ترجیح حاصل ہے کہ یہ روایت فطری تقاضے کے قریب تر ہے۔ چونکہ مسواک فطری طور پر منہ اور دانتوں کی صفائی کے کام آتی ہے اور صفائی طہارت کا جزو ہے اس لیے احناف کے نزدیک مسواک وضو کی سنت ہے جبکہ دیگر ائمہ کے نزدیک مسواک نماز کی سنت ہے۔
اسی طرح مذہبِ حنفی میں نماز میں قیام کے دوران ہاتھ ناف پر رکھنے کے مقابلے میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کو ترجیح حاصل ہے کیونکہ فطری طور پر انسان تعظیم کے موقع پر ہاتھ سیدھے کر کے ناف سے نیچے رکھتا ہے ۔یونہی مطلقہ بائنہ عورت کے لیے دیگر ائمہ کرام کے برعکس احناف، نان نفقہ اور رہائش کو واجب قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ فطری تقاضا ہے کہ اپنے حق میں کسی کو پابند کرنے والا، اس پابند شخص کی ضروریات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔بقول نعمانی کے، ’’حنفی فقہ جس قدر اصولِ عقلی کے مطابق ہے اور کوئی فقہ نہیں ‘‘۔تفصیل کے لیے امام طحاوی رحمہ اللہ کی شرح معانی الآثار ملاحظہ فرمائیں ۔
8۔ آسانی اور سہولت:
فرمانِ الہٰی، یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَایُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ() (اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا) کے مصداق امامِ اعظم نے فرض اور حرام کی تعریفات میں سخت قیود لگا کر لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی ہے۔ آپ کے نزدیک فرض وحرام کا اثبات ایسی نص سے ہوتا ہے جو ثبوت اور دلالت دونوں اعتبار سے قطعی ہو۔اسی طرح امامِ اعظم کے وضع کردہ دیگراصولوں کا تجزیہ کیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ حنفی فقہ دیگر فقہوں کے مقابلے میں نہایت آسان اور نرمی پر مبنی ہے۔
مثلاًقرآن میں مطلقاً رکوع اور سجدے کا ذکر ہے اس لیے رکوع کے لیے منہ کے بل جھک جانا اور سجدے کے لیے زمین پر پیشانی لگا دینا کافی ہے۔ اس سے زائد کوئی کیفیت مثلاً اطمینان کے ساتھ ٹھہرنایا اعتدال فرض نہ ہوگا۔
اسی طرح امامِ اعظم نے ہر نماز کی ادائیگی کے لیے اسی وقت کو افضل فرمایا ہے جس میں فطری طور پر انسان کے لیے سہولت ہے۔جبکہ دیگر ائمہ کے نزدیک ہر نماز میں جلدی افضل ہے۔یونہی چور کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔امام صاحب نے چوری میں ہاتھ کاٹنے کی سزا کو ایک حد تک گرانقدر مال کی چوری سے مشروط کیا ہے۔احناف کے علاوہ دیگرمذاہب کے علماء کی رائے یہی ہے،کہ لوگوں کے لیے آسانی اور سہولت امامِ اعظم ہی کی فقہ میں ہے۔ ()
9 ۔ جامعیت:
کسی ضابطے کا اپنی تمام جزئیات پر یکساں منطبق ہونا جامعیت کہلاتا ہے۔ احناف کا اصول یہ ہے کہ اگرنص کے مختلف معانی یا متعدد روایات ہوں تو اس کا وہ معنٰی یا وہ روایت قابلِ ترجیح ہو گی جس میں جامعیت ہو۔مثال کے طور پر امام کے پیچھے قرأت کرنے سے متعلق دوروایات ہیں ۔
Share:
keyboard_arrow_up