Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 151 of 168
ایک میں ہے، ’’سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی‘‘۔ اور دوسری میں ہے،’’جو امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قرأت اس کی قرأت ہے‘‘۔
اگر مقتدی کے لیے پہلی روایت پر عمل ضروری سمجھا جائے تو جامعیت نہ ہو گی کیونکہ جہری نماز میں فاتحہ کے بعد یا رکوع میں کوئی مقتدی جماعت میں شامل ہوا تو اس کے لیے سورہ فاتحہ پڑھنا ممکن نہیں ۔لہٰذا یہ حکم جامع نہ رہا۔اگر مقتدی کے لیے دوسری روایت پر عمل ضروری مانا جائے تو یہ حکم جامع رہے گا ۔ کیونکہ یہ فاتحہ کے دوران یا بعد یا رکوع میں شامل ہونے والے تمام افراد کو جامع ہے۔پس مقتدی کے لیے دوسری روایت کو ترجیح ہو گی۔
10۔ احتیاط اور تقویٰ:
مذاہبِ ثلاثہ کی نسبت امامِ اعظم کے مذہب میں احتیاط وتقویٰ کا پہلو بہت نمایاں ہے۔گویا جن معاملات میں ائمہ کا اجتہادی اختلاف ہے ان میں اگر امامِ اعظم کے موقف کا تجزیہ کیا جائے تو آپ کا نکتۂ نظر ہی مبنی بر احتیاط نظر آئے گا۔ مثلاً خون بہہ جانے یا نکسیر پھوٹ نکلنے سے امامِ اعظم کے نزدیک وضو ٹوٹ جاتا ہے جبکہ بعض کے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔ البتہ کسی کے نزدیک بھی خون بہنے کے بعد دوبارہ وضو کرنا منع نہیں ۔ اگر دوبارہ وضو نہ کیا جائے تو مذہبِ حنفی کے مطابق نماز نہ ہوگی۔ اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ دوبارہ وضو کر لیا جائے تاکہ سب کے نزدیک نماز ہو جائے۔
اسی طرح بعض ایک رکعت وتر پڑھتے ہیں جبکہ امامِ اعظم کے نزدیک وتر تین رکعت ہیں ۔ ایک رکعت وتر والے تین رکعت وتر کے بھی قائل ہیں ۔پس اگر کوئی ایک رکعت پڑھے تو امت کے اکثر فقہاء کے نزدیک نماز نہ ہوگی جبکہ تین رکعت پڑھنے سے سب کے نزدیک نماز وتر ہو جائے گی۔یونہی اگر کوئی آٹھ تراویح پڑھے تو صحابہ کرام اورائمہ دین کے نزدیک اس کی نماز تراویح نہ ہوگی جبکہ بیس رکعت پڑھنے سے سب کے نزدیک تراویح ادا ہو جائے گی۔
اسی طرح امامِ اعظم کے نزدیک کنویں میں کوئی جانور گر کر مر جائے تو کنواں ناپاک ہو جاتا ہے، اب وہ پانی نکالنے سے پاک ہوگا جبکہ بعض کے نزدیک کنواں ناپاک نہیں ہوتا جب تک کہ پانی کا رنگ یا بو یا ذائقہ نہ بدل جائے۔احتیاط اور تقویٰ یقینا کنویں سے پانی نکالنے میں ہے جس کو کوئی بھی ناجائز نہیں کہتا اور یوں سب کے نزدیک اس پانی سے وضو وغسل جائز ہوگا۔پس مذہبِ حنفی زیادہ احتیاط اور تقویٰ پر مبنی ہے۔
11۔ شورائی مذہب:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے، وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ۔ ’’اور اُن کا کام اُن کے آپس کے مشورے سے ہے‘‘۔ ()
قرآن مجید نے یہ بتایا ہے کہ صحابہ کرام کے معاملات باہمی مشوروں سے طے ہوتے تھے۔ حضرت امام حسنص کا ارشاد گرامی ہے،’’جو قوم مشورہ کرتی ہے وہ صحیح راہ پر پہنچتی ہے‘‘۔ ()
حضرت علی رضی اﷲ عنہکے ایک سوال کے جواب میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، شاوروا فیہ الفقھاء العابدین ولا تمضوا فیہ رای خاصۃ۔ ’’جس مسئلے میں قرآن وسنت میں واضح حکم نہ ہو، اس میں تم عبادت گذار فقہاء سے مشورہ کر لیا کرو اور کسی کی شخصی رائے پر نہ چلو‘‘۔ ()
قرآن و حدیث کے ان احکامات کی پیروی کرتے ہوئے امامِ اعظم علیہ الرحمۃ نے فقہ حنفی کی تدوین کے لیے چالیس جید فقہاء پر مشتمل ایک مجلس قائم کر رکھی تھی۔ جب کوئی مسئلہ پیش آتا تو آپ ان سے مشورہ اور تبادلۂ خیال کرتے، ان کے دلائل سنتے اور اپنے دلائل پیش کرتے یہانتک کہ مسئلہ طے ہوجاتا اور اسے تحریر کر لیا جاتا۔
امامِ اعظم ابوحنیفہ صنے اپنے مذہب کی اساس اپنے تلامذہ کی شوریٰ پر رکھی اور ان پر اپنی رائے مسلط نہ کی، اس سے آپ کا مقصد دین میں احتیاط اور اللہ عزوجل اور اس کے محبوب رسول ﷺ سے پرخلوص تعلق میں انتہائی حد تک کوشاں رہنا تھا۔
Share:
keyboard_arrow_up