گویا فقہ حنفی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ انفرادی نہیں بلکہ شورائی فقہ ہے جبکہ دیگر ائمہ کرام کی فقہ ان کے انفرادی اجتہاد کا نتیجہ ہے۔
مذہبِ حنفی اور قرآن:
’’ہمارا دعویٰ ہے کہ قرآن مجید کی تمام آیتیں جن سے کوئی مسئلہ فقہی مستنبط کیا گیا ہے ان کے وہی معنی صحیح اور واجب العمل ہیں جو امام ابوحنیفہ نے قرار دیے ہیں ۔قرآن مجید میں احکام کی آیتیں سو سے متجاوز ہیں اس لیے ان کا تجزیہ تو نہیں کر سکتے البتّہ مثال کے طور پر متعدد مسائل کا ذکر کرتے ہیں جن سے ایک عام اجمالی خیال قائم ہو سکتا ہے‘‘۔
وضو کا حکم قرآن کریم کی اس آیت میں وارد ہوا ہے،
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوۡا وُجُوۡہَکُمْ وَاَیۡدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوۡا بِرُءُوْسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیۡنِ()
’’اے ایمان والو ! جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو تو اپنا منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ، اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤں دھوؤ‘‘۔
’’امام ابوحنیفہرحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ وضو میں چار فرض ہیں ،امام شافعیرحمہ اللہ دو فرض کا اور اضافہ کرتے ہیں ۔یعنی نیّت اور ترتیب ،امام مالک رحمہ اللہ بجائے ان کے موالاۃ کو فرض کہتے ہیں ۔،امام احمد بن حنبلرحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ وضو کے وقت بسم اﷲ کہنا ضروری ہے اور اگر قصداً نہ کہا تو وضو باطل ہے ۔
امام صاحب کا استدلال ہے کہ آیت میں صرف چار حکم مذکور ہیں اس لیے جو چیز ان احکام کے علاوہ ہے وہ فرض نہیں ہو سکتی۔ نیّت و موالات و تسمیہ کا تو آیت میں کہیں وجود نہیں ۔ترتیب کا گمان البتّہ واؤ کے حرف سے پیدا ہوتا ہے لیکن علمائے عربیت نے متفقاً طے کر دیا ہے کہ واؤ کے مفہوم میں ترتیب داخل نہیں ‘‘۔
علامہ عبداللہ بن احمد نسفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’رکوع وسجود کے حکم میں تعدیلِ ارکان کو فرض کے درجے میں شامل کرنا جائز نہیں ، اسی طرح آیتِ وضو میں اعضاء کو پے درپے دھونا، ترتیب کے ساتھ دھونا، آغاز میں بسم اللہ پڑھنے اور نیت کرنے کو شرط قرار دینا صحیح نہیں ہے‘‘۔ ()
اس عبارت سے واضح ہو رہا ہے کہ خبرِ واحد سے قرآنی حکم پر اضافہ فرض یا شرط کے طور پر جائز نہیں مگر وجوب اور استحباب کے درجے میں جائز ہے۔ تعدیل ارکان سے مراد رکوع، سجود، قومہ اور جلسہ میں اطمینان کے ساتھ ٹھہرنا ہے۔ احناف کے نزدیک یہ واجب ہے مگر فرض یا شرط نہیں کیونکہ یہ خبر واحد سے ثابت ہے۔
اسی طرح وضو میں ترتیب، تسمیہ اور نیت بھی خبر واحد سے ثابت ہیں اس لیے یہ وضو کی سنتوں میں سے ہیں ، فرائض یا شرائط میں سے نہیں کیونکہ ان کا ثبوت آیت قرآنی یا خبرمتواتر سے نہیں ہے۔
’’اما م رازی نے تفسیر کبیر میں ترتیب کی فرضیت کے لیے متعدد دلیلیں پیش کی ہیں لیکن انصاف یہ ہے کہ ان کا رتبہ تاویل سے بڑھ کر نہیں ۔بڑا استدلال یہ ہے کہ فاغسِلو ا وجو ھکم میں حرف فا تعقیب کے لیے ہے جس سے اس قدر ضرور ثابت ہوتا ہے کہ منہ کا پہلے دھونا فرض ہے جب ایک رکن میں ترتیب ثابت ہوئی تو باقی ارکا ن میں بھی ہونی چاہیئے ۔دوسری دلیل یہ لکھی ہے کہ وضو کا حکم خلافِ عقل حکم ہے۔اس لیے اس کی تعمیل بھی اسی ترتیب سے فرض ہونی چاہیے جس طرح آیت میں مذکور ہے کیونکہ وضو کا حکم جس طرح خلافِ عقل ہے ترتیب بھی خلافِ عقل ہے۔ امام رازی کی یہ دلیلیں جس رتبہ کی ہیں ،خود ظاہر ہیں اس پر ردّ و قدح کی ضرورت نہیں ۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہکا قول ہے کہ عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔امام شافعی رحمہ اللہاس کے مخالف ہیں اور استدلال میں یہ آیت پیش کرتے ہیں ،
Page 152 of 168

