Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 153 of 168
وَ اِنْ کُنۡتُمْ مَّرْضٰۤی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْجَآءَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا ۔()
یعنی’’ اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کسی شخص غائط سے آئے یا تم نے عورت کو چھوا ہو اور تم کو پانی نہ ملے تو تم تیمم کر لو ‘‘۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ عورت کے چھونے سے جماع و مقاربت مراد ہے ۔اور یہ قرآن مجید کا عام طرز ہے کہ ایسے امور کو صریحاً تعبیر نہیں کرتا۔لطف یہ ہے کہ اسی لفظ کا ہم معنی لفظ ’مس ‘ جس کے معنی چھونے کے ہیں خدا نے اس آیت میں مَا لَمْ تَمَسُّوْ ھُنَّجماع کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ اور خود امام شافعی تسلیم کرتے ہیں کہ وہاں جماع ہی مقصود ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں ملامستہ کے ظاہری معنی لینے ایسی غلطی ہے جو ہر گز اہل زبان سے نہیں ہو سکتی۔اس آیت میں غائط کا لفظ بھی تو ہے اس کو تمام مجتھدین کنایہ قرار دیتے ہیں ورنہ ظا ہری معنی لیے جائیں تو لازم آئے کہ جو شخص نشیبِ زمین سے ہو کر آئے، اس پر وضو کرنا واجب ہے۔
میری رائے میں اگرچہ امام شافعی کا یہ مذہب ہے کہ عورت کے چھونے کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔لیکن اس کااستدلال اس آیت پر نہیں ہے کہ وہ حدیث سے استناد کرتے ہوں گے ، غالباً اُن کے بعد ان کے مقلدوں نے حنفیہ کے مقا بلے کے لیے آیت سے استدلال کیا اور اس کو امام شافعی کی طرف منسوب کر دیا۔
امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے کہ ایک تیمم سے کئی فرض ادا ہو سکتے ہیں ،امام مالک و امام شافعی کی رائے ہے کہ ہر فرض کے لیے نیا تیمم کرنا چاہیے ۔ امام صاحب کا استدلال ہے کہ جو حیثیت وضو کے حکم کی ہے وہی تیمم کی ہے۔اور جب ہر نما ز کے لیے نئے وضو کی ضرورت نہیں تو تیمم کی تجدید کی بھی ضرورت نہیں ۔البتّہ جن لوگوں کا مذہب ہے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا نہیں ہو سکتیں وہ تیمم کی نسبت بھی یہ حکم لگا سکتے ہیں لیکن وضو اور تیمم میں تفریق کرنی جیسا کہ امام شافعی وغیرہ نے کی ، محض بے وجہ ہے ۔
امام ابوحنیفہرحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ اثنائے نماز میں متیمم کو اگر پانی مل جائے توتیمم جاتا رہے گا ۔امام مالک و امام احمد بن حنبل اس کے مخالف ہیں امام صاحب کا استدلال یہ ہے کہ قرآن میں تیمم کا جواز اس قید کے ساتھ مشروط ہے کہ لَمْ تَجِدُ وْا مَآءً یعنی جب پانی نہ ملے ۔ صورتِ مذکورہ میں جب شرط باقی نہ رہی تو مشروط بھی باقی نہیں رہا‘‘۔ ()
’’امام صاحب کا مذھب ہے کہ قرأتِ فاتحہ ضروری نہیں ، امام شافعی وامام بخاری وجوب کے قائل ہیں ،امام صاحب اس آیت سے استدلال کرتے ہیں ،یعنی ’’جب قرآن پڑھاجا ئے تو سنو اور خاموش رہو‘‘ ۔
اگرچہ اس آیت سے سرّی نمازوں میں بھی ترکِ قرأت کا حکم ثابت ہوتا ہے لیکن جہری نماز کے لئے تو وہ نص قاطع ہے جس کی کوئی تاویل نہیں ہو سکتی ۔ تعجب ہے کہ شافعیہ نے ایسی صاف اور صریح آیت کے مقابلہ میں حدیثوں سے استدلال کیا ہے۔حالانکہ حدیثیں جو ا س باب میں داخل ہیں وہ خود متعارض ہیں ۔ جس درجہ کی وجوب ِ قرأت کی حدیثیں ہیں اسی درجہ کی ترک ِقرأت کی حدیثیں بھی ہیں ۔
امام بخاری نے اس بحث میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ آیت کے استدلال کا جواب دیں لیکن جواب ایسا دیا ہے جس کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے ‘‘۔()
ایک اہم مسئلہ تین طلاقوں کا ہے ۔ چاروں ائمہ مجتہدین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک ہی بار تین طلاق دے دے تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور پھر رجعت نہ ہو سکے گی۔ان میں صرف اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس طرح طلاق دینا جائز اور مشروع ہے یا نہیں ۔امام شافعی صکے نزدیک مشروع ہے اوراللہ تعالیٰ نے اس کی اجا زت دی ہے جبکہ امامِ اعظم ابوحنیفہ صکے نزدیک یہ حرام اور ممنوع ہے اور اس طرح طلاق دینے والا گنہگار ہے ۔
Share:
keyboard_arrow_up