Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 154 of 167

سیدنا امامِ اعظم علیہ الرحمۃ کا استدلال اس آیت مبارکہ سے ہے،

اَلطَّلٰقُ مَرَّتَانِ۪ فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسٰنٍ۔

’’یہ طلاق دو بارتک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے( یعنی رجعت کر لینا ہے) یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے‘‘۔

امامِ اعظم کا موقف یہ ہے کہ اس آیت میں طلاق کا جو طریقہ بتایا گیا صرف یہی شرعی طلاق کا طریقہ ہے یعنی ایک وقت میں ایک یا دو بار تک طلاق دی جاسکتی ہے۔

احادیث سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت محمود بن لبید سے مروی ہے کہ:

آقا و مولیٰ کو یہ خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں ۔ آپ یہ سن کر غصہ میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا، ’’لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب سے کھیل کرتے ہیں حالانکہ میں تمہارے درمیان ابھی موجود ہوں ‘‘۔

معلوم ہوا کہ تین طلاق ایک ساتھ دینا گناہ ہے اور اللّٰہ عزوجل اور اس کے رسول کو سخت ناپسند ہے۔ حضور اسی لیے ناراض ہوئے کہ اس شخص نے قرآن و سنت کے خلاف طریقے سے طلاق دے کر گناہ کا ارتکاب کیا۔ ضمناً یہ بات عرض کرنی ضروری ہے کہ کسی کا م کا ممنوع ہونا اور چیز ہے اور نافذ ہونا دوسری چیز ہے۔ ایک ساتھ تین طلاقیں دینا گناہ ہے لیکن اگر کوئی ایسا کرے تو تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔

حضرت عویمر نے نبی کریم کے سامنے تین طلاقیں دیں تو آقاومولیٰ نے ان تینوں طلاقوں کو نافذ کر دیا۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ اپنے فتاویٰ میں رقم طراز ہیں،

’’جمہور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والے مسلمانوں کے ٓائمہ کرام کا اس پر اجماع ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں تین ہی ہونگی‘‘۔

حضرت عمر کے دور میں جو تین طلاق ایک ساتھ دیتا، آپ اسے درے مارتے تھے۔

کسی نے اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ کی خدمت میں سوال کیا، کہ اگر ایک لفظ سے تین طلاقیں یا ایک وقت میں تین طلاقیں دینا (غیرمقلدین کے بقول )کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں تو حضرت عمر کہاں سے یہ حکم لائے اور اس پر اجماع کیوں ہوا؟

تو آپ نے جواب میں فرمایا، حضرت عمر یہ حکم وہاں سے لائے جہاں اللّٰہ تعالیٰ نے سیدنا عمر فاروق کے متعلق فرمایا ہے،

لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَہٗ مِنْہُمْ۔

’’حکم کو معلوم کر لیں گے وہ لوگ جو استنباط کریں گے تم میں سے‘‘۔

باب ہفت دہم(17)

حضور کی نماز اور فقہ حنفی:

اللّٰہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے،

’’بیشک تمہیں رسول اللّٰہ کی پیروی بہتر ہے، اس کے لیے کہ اللّٰہ اور آخرت کی اُمید رکھتا ہو‘‘۔

رسولُ اللّٰہ کا فرمانِ عالیشان ہے،

’’تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتا ہوا دیکھو‘‘۔

آقا و مولیٰ کی احادیثِ مبارکہ سے شریعت اخذ کر کے ہم تک پہنچانے کا فریضہ آئمہ اربعہ نے انجام دیا جن میں امامِ اعظم سب سے اول ہیں کیونکہ آپ تابعی ہیں جیسا کہ پہلے مذکور ہو چکا۔ آپ نے چھبیس صحابہ کرام کا زمانہ پایا اور یہ بات صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ نے سات صحابہ کرام سے بلا واسطہ احادیث سنی ہیں۔

محدثِ دکن مولانا انواراللّٰہ شاہ رحمہ اللّٰہ نے: مشکوٰۃ شریف کی طرح فقہ حنفی کے مطابق احادیث جمع کر کے’’ زجاجۃ المصابیح‘‘ کے نام سے ’’حنفی مشکوٰۃ‘‘ مرتب کی ہے جس کا اردو ترجمہ فرید بک اسٹال لاہور شائع کر رہا ہے۔ حنفی فقہ کے مطابق طریقۂ نماز پر تفصیلی احادیث جاننے کے لیے زجاجۃ المصابیح کا مطالعہ فرمائیے۔ فی الوقت، اختصار کو مدِنظر رکھتے ہوئے چند احادیث پیشِ خدمت ہیں :-

Share:
keyboard_arrow_up