1- تکبیر تحریمہ کے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھائیں :
٭ حضرت مالک بن حویرث علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے یہاں تک کہ وہ کانوں کے برابر ہو جاتے۔()
٭ حضرت وائل بن حجر ص نے فرمایا، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے تھے۔()
٭ اس حدیث کو نسائی، طبرانی، دارقطنی اور بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔()
٭ حضرت عبدالجبار بن وائل ص فرماتے ہیں کہ میرے والد نے دیکھا کہ سرکارِ دوعالم ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسقدر بلند کرتے کہ آپ کے ہاتھوں کے انگوٹھے دونوں کانوں کی لو کے مقابل ہو جاتے۔()
٭ امام حاکم نے حضرت انس ص سے اسی طرح روایت کی اور فرمایا ، اس حدیث کی سند صحیح ہے اور یہ بخاری و مسلم کی شرط کے مطابق ہے اور اس میں کوئی ضعف نہیں ہے۔()
٭ حضرت وائلصسے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا، جب تم نماز ادا کرو تو ہاتھوں کو کانوں کے برابر کرو اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ ہاتھوں کو سینے کے برابر کریں ۔()
2-نماز میں ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھیں :
٭حضرت علی ص فرماتے ہیں ، سنت یہ ہے کہ نماز میں ایک ہتھیلی کو دوسری ہتھیلی پر ناف کے نیچے رکھا جائے۔()
٭ حضرت وائل ص فرماتے ہیں ، میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھے ہوئے ہیں ۔اس حدیث کی سند قوی ہے۔()
٭حضرت وائل بن حجر ص فرماتے ہیں ، میں نے ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ میں آقا و مولیٰ ﷺ کو ضرور دیکھوں گا کہ وہ کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں ۔
چنانچہ میں نے دیکھا کہ حضوراکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہہ کر اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اٹھایا پھر آپ نے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر اس طرح رکھا کہ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی سے بائیں ہاتھ کے جوڑ کو پکڑ لیا اور دائیں ہاتھ کی باقی تین انگلیاں کلائی پر تھیں ۔()
3-امام کے پیچھے قرأت کرنا منع اور ناجائز ہے:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم ہو‘‘۔ ()
٭ حضرت عبداللہ بن عباس ص فرماتے ہیں ،’’اس آیت کریمہ سے واضح ہے کہ جب نماز میں قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سننا اور خاموش رہنا واجب ہے‘‘۔
٭’’جمہور صحابہ و تابعین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں جو حکم مذکور ہے وہ نماز سے متعلق ہے یعنی مقتدی نماز میں امام کے پیچھے قرأت نہ کرے‘‘۔()
٭حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے کہ آقا کریم ﷺ نے فرمایا، جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔ امام مسلم نے فرمایا، یہ حدیث صحیح ہے۔()
٭حضرت ابوموسیٰ ص فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم ﷺ نے نماز سکھائی اور فرمایا،جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔()
٭حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا، امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، تو جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔[یہ حدیث صحیح ہے۔زجاجۃ المصابیح ج۱ /۶۲۸] ()()
٭امام بخاری کے استاذ الاستاذ امام عبدالرزاق ص(م۲۲۱ھ) روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم امام کے پیچھے قرأت کرنے سے منع فرماتے تھے۔ ()
٭مشہور کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابت ص فرماتے ہیں کہ امام کے پیچھے کسی بھی نماز میں قرأت نہ کی جائے (خواہ وہ نماز جہری ہو یاسِرّی)۔()
٭حضرت عبداللہ بن عمر ص فرماتے ہیں ، جب تم امام کے پیچھے نماز پڑھو تو تمہیں امام کی قرأت کافی ہے اور جب اکیلے نماز پڑھو تو قرأت کرو۔()
Page 155 of 168

