٭ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا، جو امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قرأت اس کی قرأت ہے۔()
٭یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی بخاری ومسلم کی شرط کے موافق ہیں ۔()
مذکورہ آیتِ قرآنی اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہوگیا کہ امام کے پیچھے قرأت کرنا جائز نہیں۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ امام کی قرأت ہی مقتدیوں کی قرأت ہے۔
4-امام اور مقتدیوں کو آمین آہستہ کہنا سنت ہے:
فرمانِ الہٰی ہے، اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّخُفْیَۃً ۔’’اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے (عاجزی سے) اور آہستہ ‘‘۔ ()
اس سے معلوم ہوا کہ دعا آہستہ آواز میں مستحب ہے۔ آمین کے معنی ہیں ’’اے اللہ ! اسے قبول فرما‘‘۔ پس آمین دعا ہے اور اسے آہستہ ہی کہنا چاہیے۔
٭حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی اس کے پچھلے تمام (صغیرہ) گناہ معاف کردیے جائیں گے۔()
اس حدیث میں فرشتوں کے موافق آمین کہنا مذکور ہے۔ سوال یہ ہے کہ فرشتوں کا آمین کہنا بلند آواز سے ہے یا آہستہ؟ یقیناً فرشتوں کا آمین کہنا آہستہ ہے اس لئے موافقت کی یہی صورت ہے کہ آمین آہستہ کہی جائے۔یہی حضور ﷺ کا طریقہ ہے۔
٭حضرت علقمہ بن وائل صاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ دوعالم ﷺ نے جب غیر المغضوب علیہم ولاالضالین پڑھا تو آپ نے آہستہ آواز میں آمین کہی۔()
٭اسے امام حاکم، امام احمد، ابوداؤد الطیالسی، ابویعلیٰ، طبرانی اور دارقطنی نے بھی روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے کہا، یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط کے موافق صحیح ہے۔()
٭حضرت عمر فاروق ص فرماتے ہیں ، امام کو چار چیزیں آہستہ کہنی چاہیئں ۔ ثناء (سبحانک اللہم)، تعوذ(اعوذ باللہ)، تسمیہ(بسم اللہ) اور آمین۔()
٭ حضرت ابراہیم نخعی ص فرماتے ہیں ، امام چار چیزیں آہستہ کہے، ثناء، تعوذ، تسمیہ اور آمین۔امام محمد بن حسن نے فرمایا، یہی امامِ اعظم ابوحنیفہ ص کا قول ہے۔()
5-نماز میں رفع یدین جائز نہیں ،منسوخ ہے:
٭حضرت جابر بن سمرہ ص فرماتے ہیں کہ آقا ومولیٰ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا،’’میں دیکھتا ہوں کہ تم نماز کے دوران رفع یدین کرتے ہو جیسے سرکش گھوڑے اپنی دُمیں ہلاتے ہیں ،نماز سکون سے ادا کیا کرو‘‘۔()
٭حضرت علقمہص سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ص نے فرمایا، کیا میں تمہیں رسول کریم ﷺ کی طرح نماز نہ پڑھاؤں ؟ پھر انہوں نے نماز پڑھائی اور سوائے تکبیر تحریمہ کے کہیں ہاتھ نہ اٹھائے۔()
٭ امام ترمذی فرماتے ہیں ، ’’یہ حدیث حسن ہے اور نبی کریم ﷺ کے متعدد صحابہ اور تابعین کرام اسی کے قائل ہیں ‘‘۔()
٭حضرت براء ص فرماتے ہیں ، رسول کریم ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو اپنے ہاتھ کانوں کے برابر تک اٹھاتے اور پھر دوبارہ ہاتھ نہیں اٹھاتے۔()
٭حضرت عبداللہ بن مسعودص فرماتے ہیں ، میں نے آقا ومولیٰ ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمررضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی، ان میں سے کسی نے بھی تکبیر تحریمہ کے سوا رفع یدین نہ کیا۔()
٭امام بخاری کے استادامام ابوبکر ابن ابی شیبہص روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی ص بھی نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور اس کے بعد رفع یدین نہیں کرتے۔ ()
امام طحاوی (م ۲۰۰ھ) نے اس کی سند کو صحیح فرمایاہے۔()
٭امام بخاری (م۲۵۶ھ) کے استاد امام حمیدی (م۲۱۹ھ) روایت کرتے ہیں ، حضرت عبداللہ بن عمرص نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ نماز شروع کرتے وقت کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے اور پھر رکوع کے وقت اور رکوع کے بعد رفع یدین نہ کرتے۔()
Page 156 of 168

