٭حضرت مجاہد صسے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرص کے پیچھے نماز پڑھی ہے وہ تکبیر تحریمہ کے سوا نماز میں کہیں بھی رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
امام طحاوی نے فرمایا، یہی عبداللہ بن عمرص ہیں جنہوں نے رسول اکرم ﷺ کو رفع یدین کرتے دیکھا ()(جس کا ذکر بخاری ومسلم میں ہے) پھر خود انہوں نے رفع یدین ترک کر دیا کیونکہ وہ منسوخ ہو گیا تھا۔()
٭حضرت عبداللہ بن عباس صفرماتے ہیں ، وہ دس صحابہ کرام جنہیں آقا ومولیٰ ﷺ نے جنت کی بشارت دی یعنی عشرہ مبشرہ میں سے کوئی بھی تکبیر تحریمہ کے سوا رفع یدین نہیں کرتا تھا۔()
٭حضرت محمد بن عمرو بن عطاء ص فرماتے ہیں ، میں صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ہم نے رسولِ کریم ﷺ کی نماز کا ذکر کیا تو ابوحمید ساعدی ص فرمانے لگے، میں تم سب سے زیادہ آقا ومولیٰ ﷺ کی نماز کو جانتا ہوں ۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ تکبیر کہتے تو دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے، جب رکوع کرتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور کمر کو برابر کرتے پھر رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے یہانتک کہ ہر عضو اپنی جگہ آ جاتا۔
پھر آپ سجدہ کرتے تو ہاتھوں کو زمین پر بچھائے بغیر رکھتے اور ان کو پہلوؤں سے نہ ملاتے اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رُو رکھتے۔آپ جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا کر لیتے۔ ()
صحیح بخاری کی اس حدیث میں صحابیٔ رسول ﷺ نے حضور ﷺ کی نماز کا طریقہ بیان کیا اور رفع یدین کا ذکر نہیں کیا۔ پس معلوم ہوا کہ رفع یدین منسوخ ہو چکا تھا۔
٭ حضرت عبدالرحمن بن غنم صفرماتے ہیں کہ حضرت ابومالک اشعریص نے اپنی قوم کو جمع کر کے فرمایا، میں تمہیں رسول کریم ﷺ کی نماز سکھاؤں گا جو آپ ہمیں مدینہ منورہ میں پڑھایا کرتے تھے…… پس مردوں نے ان کے نزدیک صف باندھی پھر مردوں کے پیچھے بچوں نے صف باندھی پھر ان کے پیچھے عورتوں نے صف باندھی۔ پھر کسی نے اقامت کہی تو آپ نے ہاتھ اٹھا کر تکبیر تحریمہ کہی۔ پھر سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورت خاموشی سے پڑھی پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا اور تین بار تسبیح پڑھی۔
پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر سیدھے کھڑے ہو گئے پھر تکبیر کہہ کر سجدے میں گئے پھر تکبیر کہہ کر سجدے سے سر اٹھایا پھر تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا اور پھر تکبیر کہہ کر کھڑے ہو گئے،
اس طرح پہلی رکعت میں چھ تکبیریں ہوئیں ۔پس جس وقت نماز پڑھا چکے تو لوگوں سے فرمایا، میری تکبیروں کو یاد کر لو اور میرے رکوع وسجود سیکھ لو کیونکہ یہ آقا کریم ﷺ کی وہ نماز ہے جو آپ ہمیں دن کے اس حصہ میں پڑھایا کرتے تھے۔()
اس حدیث شریف میں بھی جلیل القدر صحابی نے رسول کریم ﷺ کی نماز کا طریقہ بیان کیا اور فرمایا، یہ مدینے والی نماز ہے۔ اس میں رفع یدین کا کہیں ذکر نہیں جس سے ثابت ہوا کہ رفع یدین منسوخ ہو چکا تھا۔
6-نماز وتر تین رکعت ہیں :
٭ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں ، رسول کریم ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زائد ادا نہیں فرماتے تھے۔ آپ چار رکعت (تہجد) ادا کرتے، ان کا حسن اور طوالت نہ پوچھو پھر آپ چار رکعت(تہجد) ادا کرتے پھر آپ تین رکعت (وتر) ادا فرماتے۔ ()
٭حضرت عبداللہ بن عباس ص ایک طویل حدیث میں فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ دو دو رکعت کر کے چھ رکعت (تہجد) پڑھی اور اس کے بعد آپ نے تین رکعت وتر ادا کیے۔()
٭ حضرت علی ص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔امام ترمذی نے کہا، اہل علم صحابہ و تابعین کرام کا یہی مذہب ہے۔()
Page 157 of 168

