Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 158 of 168
٭حضرت ابی بن کعب ص فرماتے ہیں ، سرکارِ دوعالم ﷺ نماز وتر کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ، دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھتے اور تینوں رکعتوں کے آخر میں سلام پھیرتے تھے۔()
٭ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں ، آقا ومولیٰ ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور تینوں رکعتوں کے آخر میں سلام پھیرتے تھے۔امام حاکم نے کہا ، یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔()
7-نماز تراویح بیس رکعت ہیں :
ماہ رمضان المبارک میں روزانہ بعد عشاء بیس رکعت نماز تراویح ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ ’’تراویح‘‘ ترویحہ کی جمع ہے جس کے معنی استراحت وآرام کے ہیں ۔ چونکہ تراویح میں ہر چار رکعت کے بعد کچھ دیر آرام کیا جاتا ہے اس لیے اسے تراویح کہتے ہیں ۔ عربی میں جمع کا اطلاق دو سے زائد پر ہوتا ہے۔ نماز تراویح اگر آٹھ رکعت ہوتی تو دو ترویحے ہونے کے باعث اسے ’’ترویحتین‘‘کہا جاتا لیکن چونکہ یہ بیس رکعت یعنی پانچ ترویحے ہیں اس لیے انہیں تراویح کہا جاتا ہے۔جن روایات میں یہ آیا ہے کہ حضور ﷺ نے گیارہ رکعت نماز ادا کی، اس سے مراد آٹھ رکعت تہجد اور تین وتر ہیں ۔
٭ حضرت یزید بن رومان ص فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق صکے دور میں رمضان میں لوگ تیئس(۲۳) رکعت (۲۰ تراویح اور ۳ وتر)ادا کرتے تھے۔()
٭حضرت سائب بن یزید ص فرماتے ہیں ، ہم لوگ حضرت عمر کے زمانہ میں ماہ رمضان میں بیس رکعت تراویح ادا کرتے تھے۔ان دونوں احادیث کی اسناد صحیح ہیں ۔ ()
٭ حضرت عبداللہ بن عباس صنے فرمایا، رسول معظم ﷺ ماہ رمضان میں بغیر جماعت کے بیس رکعت تراویح اور نماز وتر ادا فرماتے تھے۔()
٭حضرت حسن ص فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ص نے حضرت ابی بن کعب ص کو لوگوں کا امام مقرر کیا اور وہ بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔()
٭ امام ترمذی فرماتے ہیں ، اکثر اہل علم کا مذہب بیس رکعت تراویح ہے جو حضرت علیص، حضرت عمر ص اور رسول کریم ﷺ کے دیگر صحابہ سے مروی ہے۔()
بخاری کی جس روایت کو غیر مقلد آٹھ تراویح کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے گیارہ رکعت ادا کیں ، اس سے مراد آٹھ رکعت تہجد اور تین وتر ہیں ۔ ہمارے موقف کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ امام بخاری نے یہ حدیث تہجد کے عنوان کے تحت درج کی نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا، رمضان اور غیر رمضان میں آپ نے گیارہ رکعت سے زائد ادا نہیں کیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ آٹھ رکعت وہ ہیں جو آقا ومولیٰ ﷺ تمام سال ادا فرماتے تھے۔
8- نماز جنازہ میں قرأت جائز نہیں :
نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ یا کوئی اور سورت بطور قرأت جائز نہیں ، اس میں ثناء، درود اور دعائے مغفرت کرنا سنت ہے۔ اگر سورہ فاتحہ بطور حمد وثناء پڑھے تو حرج نہیں ۔
٭حضرت نافع صفرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرص نماز جنازہ میں قرآن کی تلاوت نہیں کرتے تھے۔()
٭امام ترمذیصفرماتے ہیں کہ بعض اہلِ علم نے فرمایا ہے کہ نماز جنازہ میں قرأت نہیں کرنی چاہیے۔ نماز جنازہ تو اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا ہے پھر نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا ہے اور پھر میت کے لیے دعا مانگنا ہے۔()
٭ حضرت عبداللہ بن مسعودص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز جنازہ میں قرآن کریم سے کچھ مقرر نہیں فرمایا۔()
٭ حضرت شعبی صنے فرمایا، میت پر نماز جنازہ پڑھتے وقت پہلی تکبیر کہہ کر ثناء پڑھی جائے، دوسری تکبیر پر آقا ومولیٰ ﷺ پر درود اور تیسری تکبیر پر میت کے لیے دعا پڑھی جائے اور چوتھی تکبیر پر سلام پھیر لیا جائے۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up