Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 159 of 168
باب ہشت دہم(18) تقلید کیوں ضروری ہے؟
تقلید کے لغوی معنی ہیں ’’گردن میں پٹا ڈالنا‘‘ اور اصطلاحی معنی ہیں ’’دلیل جانے بغیر کسی کے قول و فعل کو صحیح سمجھتے ہوئے اس کی پیروی کرنا‘‘۔
انسان زندگی کے ہر شعبے میں کسی نہ کسی کی پیروی کرتا ہے۔پرائمری تعلیم کے حصول سے لے کر کسی بھی پیشہ یا ہنر کے درجۂ کمال کو پہنچنے تک ہر کوئی اپنے اساتذہ یا اس ہنر کے ماہرین کی تقلید کرنے پر مجبور ہے۔
علمِ دین کا معاملہ تو اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ہر شخص یہ اہلیت نہیں رکھتا کہ وہ قرآن وحدیث سے خود مسائل اخذ کرے کیونکہ اس کے لیے صرف عربی جاننا کافی نہیں بلکہ فقیہ و مجتہد کی شرائط کا جامع ہونا ضروری ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’جس میں اجتہاد کی شرائط موجود نہ ہوں ،اسے از خود کتابُ اللہ اور سنتِ رسول ﷺ سے مسئلہ اخذ کرنا جائز نہیں ‘‘۔(ابواب الجنائز،جامع ترمذی)یہی بات غیر مقلدوں کے پیشوا ابن قیم نے اعلام الموقعین میں تحریر کی ہے۔
حضرت جابرص فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں تھے کہ پتھر لگنے سے ہمارے ایک ساتھی کا سرزخمی ہوگیا۔ رات کواس پر غسل واجب ہوا تو اس نے اپنے دیگر ساتھیوں سے پوچھا، کیا آپ لوگ مجھے تیمم کی رخصت دیتے ہیں ؟ انہوں نے کہا، نہیں کیونکہ آپ تو پانی استعمال کر سکتے ہیں ۔ اس نے غسل کیا تو اس کی موت واقع ہو گئی۔
جب ہم آقا ومولیٰ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے یہ واقعہ عرض کیا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا، قتلوہ قتلھم اللہ الا سالوا اذا لم یعلموا فانما شفاء العی السوال۔انہوں نے اسے قتل کردیا، اللہ تعالیٰ انہیں قتل کرے۔ جب وہ نہیں جانتے تھے تو پوچھ لیتے۔ بیشک سوال کرنا (لاعلمی کی) بیماری کے لیے شفاء ہے۔ ()
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب مجتہدین صحابہ سے فتویٰ نہ لینے کی وجہ سے عام صحابہ کرام رسول کریم ﷺ کے عتاب کے ایسے مرتکب ہوئے کہ آپ نے ان کے لیے قتلھم اللہ فرمادیا تو ایسے جاہل مولویوں کا کیا حال ہوگا جو سیدنا امامِ اعظم ص اور دیگر ائمہ دین کے ارشادات سے منہ موڑ کر قرآن وحدیث کے من مانی معانی ومطالب بیان کرتے ہیں ، خود تو گمراہ ہیں ، سادہ لوح سنیوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔پس ثابت ہوا کہ تقلید بہت ضروری ہے۔
کسی فقیہ کے قول پر شرعی دلیل کے تحت عمل کرنا تقلیدِ شرعی ہے جس کا فرض ہونا اس آیت کریمہ سے ثابت ہے۔
ارشاد ہوا،’’اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آ کر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں ‘‘۔ ()
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہرشخص پر عالم وفقیہ بننا ضروری نہیں لہٰذا غیر مجتہد یا غیر عالم کو مجتہد یا عالم کی تقلید کرنی چاہیے۔
دوسری جگہ فرمایا:یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوْاﷲ واَطِیْعُوْالرَّسُوْلَ وَاُوْلیِ الْاَمْرِمِنْکُمْ۔’’اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی اور ان کی جو تم میں سے حکم والے ہوں‘‘۔ () دارمی باب الاقتدا بالعلماء میں ہے، ’’اولیِ الامرسے مراد علماء اور فقہاء ہیں ‘‘۔
امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’اولیِ الامر‘‘ سے مسلمان حاکم یا فقہاء یا دونوں مراد ہیں۔()
امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اس سے مراد علماء لینا اولیٰ ہے۔()
اس آیت کے تحت تفسیر جمل میں ہے، یہ آیت شریعت کے چاروں دلائل کی قوی دلیل ہے یعنی کتابُ اللہ، سنتِ رسول ﷺ، اجماع اور قیاس۔
Share:
keyboard_arrow_up