اس سے ثابت ہوا کہ اس آیت میں ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیانیز ان علماء وفقہاء کی اطاعت کا بھی حکم دیا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے کلام کے شارح ہیں ، اسی اطاعت کا نام تقلید ہے۔
صحابَۂ کرام براہِ راست نبی کریم ﷺ سے دین کا علم حاصل کیا کرتے تھے اس لئے انہیں کسی کی تقلید کی ضرورت نہیں تھی۔ آقا ومولیٰ ﷺ کے ظاہری وصال کے بعد صحابہ کرام اور تابعین بھی اپنے درمیان موجود زیادہ صاحبِ علم صحابی کی تقلید کیا کرتے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری ص حضرت عبداللہ بن مسعود ص کے بارے میں فرماتے تھے، ’’جب تک یہ عالم تمہارے درمیان موجود ہیں ، مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو‘‘۔ ()
یہی تقلیدِ شخصی ہے جو دورِ صحابہ میں بھی موجود تھی۔’’فقہاء صحابہ کرام‘‘ کے عنوان کے تحت پہلے بیان کیا جا چکا کہ دورِ صحابہ میں فقیہ صحابہ اجتہاد کیا کرتے تھے اوردوسرے لوگ ان کی تقلید بھی کرتے تھے۔
ایک اورارشادِ باری تعالیٰ ملاحظہ فرمائیے،
فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الْذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔()
’’اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو‘‘۔
صدرُالافاضل رحمہ اللہ فرماتے ہیں ،’’کیونکہ ناواقف کو اس سے چارہ ہی نہیں کہ واقف سے دریافت کرے اور مرضِ جہل کا علاج یہی ہے کہ عالم سے سوال کرے اور اس کے حکم پر عامل ہو۔ اس آیت سے تقلید کا وجوب ثابت ہوتا ہے‘‘۔ ()
اس آیت کی تفسیر میں علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
سرکارِ دوعالم نورِ مجسم ﷺ نے فرمایا، بیشک ایک شخص نماز پڑھے گا، روزے رکھے گا، حج اور جہاد بھی کرے گا لیکن وہ منافق ہو گا۔ صحابہ کرام نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ! وہ کس وجہ سے منافق ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا،’’وہ اپنے امام پر طعنہ زنی کی وجہ سے منافق ہوگا۔ عرض کی ، امام کون ہے؟ فرمایا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، فاسئلوا اھل الذکر…الخ۔()
اس حدیث مبارکہ سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو امامِ اعظم ابوحنیفہص ودیگر ائمہ دین پر طعنہ زنی کرتے ہیں اور خود نفسِ امارہ اور شیطان ملعون کے مقلد بنے ہوئے ہیں ۔ ایسے لوگ رب تعالیٰ کے اس ارشاد کے مصداق ہیں ،
’’بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرا لیا، اور اللہ نے اسے باوصف علم کے گمراہ کیا، اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا، تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے، تو کیا تم دھیان نہیں کرتے‘‘۔ ()
آخر میں یہ سمجھ لیجیے کہ تقلید کن مسائل میں جائز ہے؟ علامہ اسماعیل حقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ،’’ آیت کریمہ میں جس تقلید کی مذمت کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ عقائد اور اصولِ دین کو دلائل کے بغیر محض کسی کے کہنے پر مان لیا جائے کیونکہ تقلید صرف فروعی مسائل اور عملیات میں ہے، اصولِ دین اور اعتقادی مسائل میں تقلید جائز نہیں بلکہ ان میں نظر واستدلال ضروری ہے‘‘۔()
چار مذاہب کیسے بنے؟
امام ابن حجر شافعیرحمہ اللہ اپنی کتاب الخیرات الحسان کے دوسرے مقدمہ میں لکھتے ہیں ، تمام ائمہ مجتہدین و علماءِ عاملین کے بارے میں یہ اعتقادرکھو کہ وہ سب ہدایت اور رضائے الٰہی پر ہیں اور ائمہ دین کا اتفاق ہے کہ وہ سب تمام حالات میں ماجور ہیں ۔
امام بیہقی رحمہ اللہنے روایت کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، جب تمہارے پاس اللہ کی کتاب آئے تو اس پر عمل کرنا ضروری ہے اور اسے چھوڑنے میں کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ۔ اگر کوئی مسئلہ کتابُ اللہ میں نہ ملے تو میری سنت پکڑ لو ورنہ میرے صحابہ کا فرمان راہنما بنالو کیونکہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ، تم جس کا دامن تھام لو گے ہدایت پاؤ گے۔ میرے صحابہ کا اختلاف تمہارے لیے باعثِ رحمت ہے۔
Page 160 of 168

