Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 161 of 168
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے یہ خبر دی ہے کہ میرے بعد مذاہب میں فروعی اختلافات ہوں گے اور یہ اختلافات صحابہ ہی کے زمانے سے ہوں گے اور یہ زمانہ رشد و ہدایت کا زمانہ تھا جس کے خیر القرون ہونے کی گواہی دی گئی۔ تو جب صحابہ میں فروعی اختلاف ہو گا تو ان کے بعد والوں میں اختلاف کا ہونا لازمی ہے کیونکہ ہر وہ صحابی جو فقہ و روایت میں مشہور ہے، اس کا قول ایک جماعت نے قبول کیا۔ ان تمام چیزوں کے باوجودحضور ﷺ نے نہ صرف اس فروعی اختلاف پر رضا مندی کا اظہار کیا بلکہ اس اختلاف کو امت کے لیے رحمت کا باعث قرار دیا۔ اور امت کو اختیار دیا کہ صحابہ میں سے جس کے قول پر چاہیں عمل کریں ۔
اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ کے بعد مجتہدینِ امت میں سے کسی ایک کے قول کو اختیار کر لینا جائز رہا کیونکہ یہ حضرات صحابہ ہی کے نقشِ قدم پر ہیں ۔
اس بارے میں ایک دلیل صحابہ کرام کا بدر کے قیدیوں کے متعلق اختلاف ہے۔ حضرت ابوبکر صاور ان کے ساتھیوں نے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دینے کا مشورہ دیا جبکہ حضرت عمر صنے قیدیوں کو قتل کرنے کی رائے دی۔ رسول کریم ﷺ نے پہلے قول پر فیصلہ دیا ۔ جب فدیہ لیا گیا تو سورۃ الانفال کی آیت ۶۷ نازل ہوئی اور قرآن نے دوسری رائے کو پسند کرتے ہوئے اسے افضل قرار دیا۔اگرچہ دونوں آراء صحیح تھیں کیونکہ اگر پہلی رائے غلط ہوتی تو حضور ﷺ اس کے مطابق فیصلہ نہ فرماتے، البتہ بہتر وافضل دوسری رائے کو قرار دیا گیا۔ ()
مولانا سید نعیم الدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، سیدِ عالم ﷺ کا اس دینی معاملہ میں صحابہ کی رائے دریافت فرمانا مشروعیتِ اجتہاد کی دلیل ہے۔()
تابعین وتبع تابعین کے دور میں سینکڑوں مجتہدین اور ان کے مذاہب وجود میں آئے مگر آخر کارمذاہبِ اربعہ کے سوا سب معدوم ہوگئے۔یہ بارگاہِ الہٰی میں ان چاروں مذاہب کے مقبول ہونے کی دلیل ہے۔
اگر ایک اور زاویَۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ نماز میں رفع یدین کرنا آقا ومولیٰ ﷺ کی ایک ادا ہے اور اس کے منسوخ ہوجانے کے بعد، رفع یدین نہ کرنا بھی حضور ﷺ ہی کی ایک ادا ہے۔تو یہ کہنابے جا نہ ہوگا کہ رب تعالیٰ کو اپنے محبوب رسول ﷺ کی تمام ادائیں پسند تھیں اسی لیے اس نے مذاہبِ اربعہ کی صورت میں اپنے محبوب کی تمام اداؤں کو محفوظ فرما دیاہے۔
ائمہ اربعہ ہی کی تقلید کیوں :
حنفی مذہب، مالکی مذہب،شافعی مذہب اور حنبلی مذہب چاروں حق ہیں اور چاروں اہلسنت وجماعت ہیں ۔ان کے عقائد یکساں ہیں البتہ صرف اعمال میں فروعی اختلاف ہے۔ ان چاروں میں سے جس کی بھی کی تقلید کی جائے صحیح ہے کیونکہ اگر مجتہد سے اپنے اجتہادمیں خطا ہو جائے پھر بھی وہ گناہگار نہیں بلکہ اس اجتہاد میں اس کی تقلید بھی صحیح ہو گی۔
’’علامہ کردری رحمہ اللہنے امام شافعی رحمہ اللہسے روایت کی کہ دو مجتہد جو دو مختلف قول کرتے ہیں اُن کی مثال ایسی ہے جیسے دو رسول دو مختلف شریعتیں لے کر آئے، وہ دونوں صحیح اور حق ہیں ‘‘۔ ()
تبع تابعین اور ان کے بعد فرقۂ ناجیہ اہلسنت وجماعت مذکورہ چار مذاہب میں منحصر ہو گیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ، تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں ،
’’اہلسنت تین چار قرن کے بعد ان چار مذاہب پر منقسم ہو گئے اور فروعی مسائل میں ان مذاہبِ اربعہ کے سوا کوئی مذہب باقی نہ رہا‘‘۔ ()
تفسیر صاوی میں ہے کہ’’ ان چاروں مذاہب کے علاوہ کسی اور کی تقلید جائز نہیں اگرچہ وہ بظاہر صحابہ کرام کے قول اور حدیثِ صحیح اور کسی آیت کے مطابق ہی کیوں نہ ہو۔ جو ان چاروں مذاہب سے خارج ہے وہ خود گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا ہے ، بسااوقات یہ کفر تک پہنچا دیتا ہے کیونکہ قرآن وحدیث کے ظاہری معنی مراد لینا اور ان کی حقیقت کو نہ سمجھنا کفر کی جڑ ہے‘‘۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up