Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 162 of 168
جمہور علماء کا اس پر اجماع ہے کہ ان چار مذاہب کے سوا کسی اور کی تقلیدجائز نہیں ۔ اسی لیے تمام اکابر محدثین بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، نسائی، دارمی، طحاوی وغیرہ رحمہم اللہ کسی نہ کسی امام کے مقلد ہیں ۔ امام بخاری، امام ابوداؤد اور امام نسائی کا مقلد ہونا تو خود غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن بھوپالی نے ’’الحطہ‘‘ میں بیان کیا ہے۔ جب ایسے جلیل القدر محدثین، ائمہ اربعہ میں سے کسی نہ کسی کے مقلد ہیں تو پھر چند کتابیں پڑھے ہوئے اگرخود کو تقلید سے بے نیاز سمجھیں تو کیا یہ گمراہی نہیں ہے؟
غیر مقلد وں کے پیشوا مولوی محمد حسین بٹالوی نے ’’اشاعت السنۃ‘‘ میں اس حقیقت کا اعتراف یوں کیا ، ’’پچیس برس کے تجربے سے ہم کو یہ بات معلوم ہوئی کہ جو لوگ بے علمی کے ساتھ مجتہد مطلق (ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ) اور مطلق تقلید کے تارک بن جاتے ہیں وہ آخر کو اسلام کو سلام کر بیٹھتے ہیں ‘‘۔ ()
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جو شخص بھی امامِ اعظم کی تقلید نہیں کرتا وہ بہرحال کسی نہ کسی ’’مولوی صاحب‘‘ کی تقلید ضرور کرتا ہے۔ تو کیا یہ بہتر نہیں کہ موجودہ پُرفتن دور کے کسی مفاد پرست مولوی صاحب کی تقلید کرنے کی بجائے اُس جلیل القدر امامِ اعظم صکی تقلید کی جائے جس نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مبارک زمانہ میں آنکھ کھولی اور ان کی زیارت کی، اور جس کی عظمت پر اکابر ائمہ دین و محدثین کرام متفق ہیں ۔
غیر مقلدعالم مولوی وحید الزماں صاحب نے اپنے ہم مسلک لوگوں سے یہی تلخ سوال کیا تھا جسکا جوا ب اب تک ان کے ذمہ ہے،’’ہمارے اہلحدیث بھائیوں نے ابن تیمیہ اور ابن قیم اور شوکانی اور شاہ ولی اللہ اور مولوی اسماعیل کو دین کا ٹھیکیدار بنا رکھا ہے… ……… بھائیو ! ذرا غور کرو اور انصاف کرو، جب تم نے ابوحنیفہ، شافعی کی تقلید چھوڑ دی تو ابن تیمیہ یا ابن قیم اور شوکانی ، جو ان سے بہت متاخر ہیں ، ان کی تقلید کی کیا ضرورت؟‘‘۔()
اکثر غیر مقلد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ پر بڑا اعتماد کرتے ہیں اور انہیں اپنا پیشوا بھی گردانتے ہیں حالانکہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ حنفی مقلد ہیں اور فرماتے ہیں ، ’’صحابہ کرام سے مذاہبِ اربعہ کے ظہور تک لوگ بغیر انکار کیے کسی نہ کسی عالم کی ہمیشہ تقلید کرتے رہے، اگر یہ باطل ہوتا تو علماء ضرور انہیں منع کرتے‘‘۔ ان کی معروف کتاب ’’عقد الجید‘‘ سے ایک اقتباس پیشِ خدمت ہے:
؎ شاید کہ کسی دل میں اتر جائے یہی بات
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں ، ’’جاننا چاہیے کہ چاروں مذاہب میں سے کسی ایک کی تقلید میں بڑی مصلحت ہے اور ان سے روگردانی میں بہت بڑا فساد اور نقصان ہے۔ ہم اس کو چند طریقوں سے بیان کرتے ہیں :-
اول :یہ کہ امت نے اجماع کر لیا ہے کہ شریعت کی معرفت میں سلف پر اعتماد کیا جائے۔تابعین نے صحابہ پر اعتماد کیا اور تبع تابعین نے تابعین پر اور اسی طرح ہر طبقہ میں علماء نے اپنے سے پہلوں پر اعتماد کیا۔اس کی اچھائی پر عقل دلالت کرتی ہے کیونکہ شریعت نقل اور استنباط کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ نقل صرف اسی صورت میں صحیح ہو گی جبکہ ہر طبقہ اپنے سے پہلے والوں سے متصلاً شریعت حاصل کرے اور استنباط کے لیے یہ ضروری ہے کہ متقدمین کے مذاہب کو جانا جائے تاکہ ان کے اقوال سے باہر نہ جائیں کہ کہیں اجماع کے خلاف نہ ہو جائے اور تاکہ ان کے اقوال کو بنیاد بنایا جائے اور اگلوں سے اس میں مدد لی جائے۔کیونکہ تمام صنعتوں مثلاً سنار ولوہار کا کام، طب، شاعری، تجارت اور رنگ ریزی وغیرہ میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ فن کے ماہرین کے ساتھ کام کیا جائے۔
Share:
keyboard_arrow_up