جب یہ متعین ہو گیا کہ شریعت کی معرفت میں سلف کے اقوال ہی پر اعتما د ضروری ہے تو یہ بھی لازم ہوا کہ ان کے وہ اقوال جن پر اعتماد ہو، صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہوں یا مشہور کتابوں میں مدون ہوں ، اور یہ کہ منقح ہوں کہ ان محتملات میں راجح، مرجوح سے ظاہر ہو، اور عام کی تخصیص مذکور ہو،متضاد اقوال میں تطبیق ہو، احکام کی علتیں بیان کی گئی ہوں ،ورنہ ان پر اعتماد صحیح نہیں ۔ اور اس پچھلے زمانے میں ان چار مذاہب (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کے سوا کوئی مذہب ان صفات کے ساتھ موصوف نہیں ‘‘۔
اس اقتباس سے معلوم ہو گیا کہ شریعت کی معرفت، نقل اور استنباط پر موقوف ہے اور ان دونوں کے لیے اسلاف کے اقوال جاننا ضروری ہے نیز اسلاف میں سے صرف ائمہ اربعہ کے اقوال صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہیں لہٰذا انہی میں سے کسی امام کی تقلید ضروری ہے۔
مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فاضلِ جلیل علامہ سید احمد مصری طحطاوی رحمہ اللہحاشیۂ دُرِ مختار میں لکھتے ہیں ،
’’جو شخص جمہور اہلِ علم وفقہ اور سوادِ اعظم سے جدا ہو جائے تو وہ ایسی چیز کے ساتھ تنہا ہوا ،جو اسے دوزخ میں لے جائے گی۔اے مسلمانو! تم پر فرقۂ ناجیہ اہلسنت وجماعت کی پیروی لازم ہے کہ خدا کی مدد اور اس کا حافظ وکارساز رہنا اہلسنت کی موافقت میں ہے اور اس کا چھوڑ دینا اور غضب فرمانا اور دشمن بنانا سنیوں کی مخالفت میں ہے اور یہ نجات والا گروہ اب چار مذاہب میں مجتمع ہے۔ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر رحمت فرمائے، اس زمانے میں ان چار سے باہر ہونے والا بدعتی و جہنمی ہے‘‘۔ ()
ایک ہی امام کی تقلید کیوں ؟
ممکن ہے کہ بعض ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو کہ صرف ایک ہی امام کی تقلید کیوں کی جائے؟ اگر بعض مسائل میں ایک امام کی تقلید کی جائے اور بعض میں دوسروں کی تو کیا حرج ہے؟اس کے جواب میں چند باتیں پیشِ خدمت ہیں ۔
سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ امت کا اس پر اجماع ہے کہ جو کوئی جس امام کامقلد ہو، وہ تمام امور میں اسی کی تقلید کرے۔ لہٰذابعض مسائل میں ایک امام کی اور بعض میں دوسروں کی تقلید کرنا اجماعِ امت کے خلاف ہے اور گناہ ہے۔
دوسرا حرج یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں ایک امام کی تقلید چھوڑ کر دوسرے امام کی تقلید کرنا کس بناء پرہوگا؟یا تو اس کی بنیاد دلیل کے قوی وضعیف ہونے پر ہوگی، اس صورت میں تقلید کا وجود نہ رہے گا کیونکہ تقلید تو دلیل جانے بغیر امام کا قول تسلیم کرنا ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ دلیل کے قوی یاضعیف ہونے کا فیصلہ کون کرے گا ؟کیا وہ جو طہارت کے مسائل سے بھی کماحقہٗ آگاہ نہ ہو؟ ؟؟
صرف فقیہ کی تعریف سمجھ لیجیے تاکہ ائمہ مجتہدین کی عظمت سمجھ میں آسکے۔
’’فقیہ وہ ہوتا ہے جو تمام احکامِ شرعیہ فرعیہ کے استنباطِ صحیح کا ماہر ہو اور استنباطِ صحیح اور اجتہاد کی شرائط کا حامل ہو‘‘۔اب اجتہاد کی شرائط بھی جان لیجیے۔
’’قرآن اور سنت کے لغوی اور شرعی معانی پر دسترس ہو، اصولِ فقہ کے تمام ضوابط یعنی خاص، عام،امر، نہی، مشترک، مأول، ظاہر، خفی، نص، مفسر،محکم،مشکل، مجمل، متشابہ، حقیقت، مجاز،صریح، کنایہ، عبارۃ النص، دلالۃ النص،اشارۃ النص، اقتضاء النص وغیرہ کو جانتا ہو، اور ان تمام طریقوں کا علم اسے قرآن کی طرح سنت میں بھی حاصل ہو، نیز وہ قیاس کے تمام طریقے اور ان کی شرائط کو جانتا ہو‘‘۔
ایک امام کو چھوڑ کر کبھی دوسرے امام کی تقلید کرنے کی دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اپنی آسانی کو دیکھتے ہوئے کچھ مسائل میں ایک امام کی تقلید کرلی اور پھر جن مسائل میں آسانی دوسرے امام کے قول میں دیکھی تو انہیں پسند کر لیا اور ان کی تقلید کرنے لگے۔یہ شریعت کی پیروی نہیں بلکہ ہوائے نفس کی پیروی ہے۔ نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والوں کی مذمت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
Page 163 of 168

