Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 164 of 168
اَرَءَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہُ ھَوٰہُ ۔()’’کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنے جی کی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا‘‘۔
بعض مسائل میں ایک امام کی اور بعض میں دوسرے امام کی پیروی کرنے میں ایک حرج یہ بھی ہے کہ یہ نصِ قرآنی کے خلاف ہے۔ قرآن کریم یہ حکم دیتا ہے کہ ایک راستے پر چلو اور کئی راستوں پر نہ چلو۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے، لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ۔ ’’چند راہیں نہ چلو کہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کر دیں گی، یہ تمہیں حکم فرمایا کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے‘‘۔ ()
آخر میں غیر مقلدوں کے متعلق صدرُ الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی قادری رحمہ اللہ کا فتویٰ ملاحظہ کیجیے۔ وہ فرماتے ہیں ،
’’تمام مسلمانوں سے الگ غیر مقلدوں نے ایک راہ نکالی کہ تقلید کو حرام وبدعت کہتے اور ائمہ دین کو سبّ وشتم سے یاد کرتے ہیں مگر حقیقت میں تقلید سے خالی نہیں ۔ ائمہ دین کی تقلید تو نہیں کرتے مگر شیطان لعین کے ضرور مقلد ہیں ۔ یہ لوگ قیاس کے منکر ہیں اور قیاس کا مطلقاً انکار کفر ہے۔ یہ تقلید کے منکر ہیں اور تقلید کا مطلقاً انکار کفر ہے۔مطلق تقلید فرض ہے اور تقلیدِ شخصی واجب ہے‘‘۔()
امامِ اعظم کا ادب :
سیدناامامِ اعظم کا ادب نزولِ برکات کا ذریعہ اور اُن کی بے ادبی دونوں جہان میں نقصان اوربُرے خاتمے کا باعث ہے۔ مشہور غیرمقلد مولوی محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی وارداتِ قلبی کا حال انہی کی زبانی ملاحظہ فرمائیں ۔وہ لکھتے ہیں ،
’’ہرچند کہ میں گناہگار ہوں لیکن یہ ایمان رکھتا ہوں اور اپنے صالح اساتذہ جناب مولانا ابوعبداللہ غلام حسن صاحب مرحوم سیالکوٹی اور جناب مولانا حافظ عبدالمنان صاحب مرحوم محدث وزیرآبادی کی صحبت وتلقین سے یہ بات یقین کے رتبے تک پہنچ چکی ہے کہ بزرگانِ دین خصوصاً حضرات ائمہ متبوعین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین سے حسنِ عقیدت نزولِ برکات کا ذریعہ ہے۔ اس لیے بعض اوقات خدا تعالیٰ اپنے فضلِ عمیم سے کوئی فیض اس ذرۂ بے مقدار پر نازل کردیتا ہے۔ اس مقام پر اس کی صورت یوں ہے کہ جب میں نے اس مسئلہ کی تحقیق کے لیے کتب متعلقہ الماری سے نکالیں اور حضرت امام صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے متعلق تحقیقات شروع کی تو مختلف کتب کی ورق گردانی سے میرے دل پر کچھ غبار آ گیا جس کا اثر بیرونی طور پر یہ ہواکہ دن دوپہر کے وقت جب سورج پوری طرح روشن تھا، یکایک میرے سامنے گھپ اندھیرا چھا گیا، گویا ’’ظلمت بعضھا فوق بعض ‘‘کا نظارہ ہو گیا۔
معاً خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ ڈالا کہ ’’یہ حضرت امام صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بدظنی کا نتیجہ ہے اس سے استغفار کرو‘‘۔ میں نے کلماتِ استغفار دہرانے شروع کیے تو وہ اندھیرے فوراً کافور ہو گئے اور ان کی بجائے ایسا نور چمکا کہ اس نے دوپہر کی روشنی کو مات کر دیا۔ اس وقت سے میری حضرت امام صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حسنِ عقیدت اور زیادہ بڑھ گئی اور میں ان شخصوں (یعنی غیرمقلدوں ) سے جن کو حضرت امام صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حسنِ عقیدت نہیں ،کہا کرتا ہوں کہ ’’میری اور تمہاری مثال اس آیت کی مثال ہے کہ حق تعالیٰ منکرینِ معارجِ قدسیہ آنحضرت ﷺ سے خطاب کر کے فرماتا ہے،
اَفَتُمَارُوْنَہٗ عَلیٰ مَا یَرٰی۔’’میں نے جو کچھ عالمِ بیداری اور ہوشیاری میں دیکھ لیا، اس میں مجھ سے جھگرا کرنا بے سُود ہے۔ ھٰذاواللہ ولی الہدایۃ۔
اب میں اس مضمون کو ان کلمات پر ختم کرتا ہوں اور اپنے (غیرمقلد) ناظرین سے امید رکھتا ہوں کہ وہ بزرگانِ دین سے خصوصاً ائمہ متبوعین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے حسنِ ظن رکھیں اور گستاخی اور شوخی اور بے ادبی سے پرہیز کریں کیونکہ اس کا نتیجہ ہر دوجہان میں موجبِ خسران ونقصان ہے۔… …الخ
Share:
keyboard_arrow_up