از خدا خواہیم توفیق ادب
بے ادب محروم شد از لطف رب
اس کتاب میں وہ اپنے استاد محدث عبدالمنان وزیرآبادی کے تذکرے میں جنہیں مشہور غیرمقلد مولوی ثناء اللّٰہ امرتسری نے ’’اس دور کا امام بخاری ‘‘قرار دیا تھا،لکھتے ہیں،
’’آپ ائمہ دین رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا بہت ادب کرتے تھے۔
چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ:
جو شخص ائمہ دین اور خصوصاً امام ابوحنیفہ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی بے ادبی کرتا ہے اس کا خاتمہ اچھا نہیں ہوتا‘‘ ۔
ان اقتباسات سے چار باتیں ثابت ہوئیں :-
۱۔ بزرگانِ دین خصوصاً ائمہ اربعہ سے حسنِ عقیدت برکتوں کے نزول کا ذریعہ ہے،
۲۔ ان بزرگوں کے متعلق برا خیال لانا یا ان کی گستاخی کرنا دونوں جہانوں میں نقصان اورہلاکت کا باعث ہے،
۳۔ چونکہ غیر مقلد ائمہ دین کے گستاخ اور بے ادب ہیں اس لیے وہ گستاخی اور بے ادبی سے پرہیز کریں ،
۴۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ کے بے ادب کا خاتمہ اچھا نہیں ہوتا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ حبیبِ کبریا، سید الانبیاء، سید عالم ﷺ کے ذاتِ والاصفات کے ساتھ حسنِ عقیدت نہیں رکھ سکتے اور ان کی بارگاہ میں بے ادبی و گستاخی کے جملے کہنے سے باز نہیں رہ سکتے وہ ائمہ دین اور اولیاء کرام کا کیا ادب کریں گے؟
نیز جب بزرگانِ دین کی بے ادبی دونوں جہان میں نقصان و ہلاکت کا باعث ہے تو پھر سرکارِ دو عالم نورِ مجسم ﷺ کی بے ادبی کس قدر ہلاکت و عذاب کا باعث ہو گی !!!
حدیثِ قدسی ہے کہ رب تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے،
من عادیٰ لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب۔
جس نے میرے ولی سے عداوت کی یا اسے ایذا دی، میرا اس کے خلاف اعلانِ جنگ ہے‘‘۔
اس حدیث کے تحت امام ابن حجر رحمہ اللّٰہ رقم طراز ہیں،
’’جو بھی ائمہ دین میں سے کسی کی توہین کرے گا وہ راندۂ بارگاہِ ایزدی ہوگا اور غضبِ الہٰی کا مستحق بنے گا کیونکہ ایسے شخص نے اللّٰہ تعالیٰ سے جنگ مول لی ہے اور جو اللّٰہ سے جنگ کرے گا وہ ابدی ہلاکت میں پڑے گا‘‘۔
مزید فرمایا،
’’جس میں تھوڑی سی بھی عقل ہے وہ ضرور خاصانِ خدا کی شان میں توہین و تنقیص کے شائبہ سے بھی اجتناب و احتراز کرے گا اور دیندار انسان کا تو کہنا ہی کیا؟
ایک عقل مند اُن کی ایذا رسانی سے دور اور بہت دور رہے گا کیونکہ جس سے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے اس سے وفات یافتہ لوگوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے‘‘۔
ابن ابی داؤد رحمہ اللّٰہ کا قول ہے،
’’ امامِ اعظم کے متعلق بد گوئی وہی کرے گا جو یا تو اُن کے علم سے جاہل ہو گا یا پھرحاسد‘‘۔
اس زمانے میں حاسدوں نے دور دراز کے شہروں کے محدثین کرام تک سیدنا امامِ اعظم کے متعلق بے سروپا من گھڑت باتیں پہنچا دیں تھیں تاکہ وہ آپ سے متنفر ہوجائیں۔ لیکن جب ان محدثین کی امامِ اعظم یا ان کے کسی شاگرد سے ملاقات ہو جاتی تو حاسدوں کی سازش دم توڑ جاتی۔
امام اوزاعی رحمہ اللّٰہ نے عبداللّٰہ بن مبارک رحمہ اللّٰہ سے دریافت کیا،
یہ بدعتی کون ہے جو کوفہ میں نکلا ہے جس کی کنیت ابوحنیفہ ہے؟ اس پر آپ نے اُنہیں امامِ اعظم کے کچھ مشکل مسائل دکھائے۔ جب امام اوزاعی رحمہ اللّٰہ نے ان مسائل کو نعمان بن ثابت کی طرف منسوب دیکھا تو پوچھا، یہ عالم کون ہیں ؟جواب دیا،یہ ایک شیخ ہیں جن سے میری عراق میں ملاقات ہوئی۔
امام اوزاعی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا،
یہ تو جلیل القدر عالم ہیں ، تم جاؤ اور ان سے مزید علم حاصل کرو۔ عبداللّٰہ بن مبارک رحمہ اللّٰہ نے کہا، ’’یہ وہی امام ابوحنیفہ ہیں جن سے آپ نے منع کیا تھا‘‘۔وہ حیران رہ گئے۔

