Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 166 of 168
جب امام اوزاعیص کی ملاقات امامِ اعظم صسے مکہ میں ہوئی توانہی مسائل میں آپ سے بحث کی۔ امامِ اعظم ص نے اس مسائل کی ایسی تشریح فرمائی کہ ملاقات کے اختتام پر امام اوزاعی نے فرمایا، ’’میں اس شخص کے علم کی کثرت اور عقل کی وسعت پر رشک کرتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہتا ہوں کیونکہ میں غلطی پر تھا۔تم ان کی صحبت اختیار کرو کیونکہ وہ ان صفات سے مختلف ہیں جو مجھ سے (حاسدوں نے) بیان کی تھیں ‘‘۔ ()
امام ابن حجر شافعی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ خواب میں سنا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں ابوحنیفہ کے علم کے پاس ہوں یعنی اس کی حفاظت اور قبول کرنا، راضی ہونا اور برکت نازل کرنا ان پر اور ان کے شاگردوں میں میرے ذمہ ہے۔ ()
امامِ اعظم ابوحنیفہ ص کی شان وعظمت اپنی کتاب میں تفصیلاً لکھنے کے بعد امام ابن حجر یوں تنبیہ کرتے ہیں ،’’ڈریے! کہیں آپ کا قدم بھی لغزش کھانے والوں میں اور آپ کی سمجھ بھی گمراہ ہونے والوں کے ساتھ گمراہ نہ ہو جائے کیونکہ اس طرح آپ خاسرین یعنی نقصان پانے والوں میں ہو جائیں گے اور آپ کا ذکر بھی ان کے ساتھ ہو گا جن کو رسوائی اور فضیحت سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور آپ ایسی چیز(عذاب) کے اٹھانے والے ہوں گے کہ جس کا بوجھ اور تکلیف آپ برداشت نہیں کر سکیں گے اور آپ ایسے تاریک چٹیل میدان میں پھنس جائیں گے جس کے خطرات سے نجات مشکل ہے تو جس قدر ہو سکے سلامتی کی جانب سبقت کیجیے‘‘۔
پھر فرماتے ہیں ،’’بہت سے بری صفات والے لوگ جو اس امامِ اعظم اور بڑے عالم کے مرتبہ کو پہنچنے سے عاجزہوئے وہ ان کے اہلِ زمانہ یا ان کے بعد والوں کے دلوں کو ان کی محبت، تقلید، اتباع، اعتقاد، عظمت اور امامت سے ہٹانے میں ناکام رہے۔ امامِ اعظم پر ان کی تنقید اور انگشت نمائی کسی بھی مسلک کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے اور اس کی وجہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ آپ کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تھا، کسی کی تدبیر سے آپ کو یہ رفعت نہ ملی۔ اور جس کو خدا بلندی عطا فرمائے اور اپنے وسیع خزانوں سے عطا کرے تو اسے کوئی پست نہیں کر سکتا اور نہ روک سکتا ہے۔رب کریم ہمیں ائمہ کے حقوق ادا کرنے والوں میں بنائے اور ان لوگوں میں نہ بنائے جو قطع تعلق اور عاق ہو کر اپنی عزت کو گدلا کرتے ہیں ‘‘۔()
ایک مجلس میں ابن ابی عائشہرحمہ اللہ نے امامِ اعظم صکی ایک حدیث بیان کر کے کہا، تم لوگ اگر امامِ اعظم کو دیکھ لیتے توضرور ان سے محبت کرنے لگتے۔ پس تمہاری اور ان کی مثال ایسی ہے جیسا کہ یہ شعرکہا گیا ہے،(ترجمہ)
’’لوگو! تمہارا برا ہو، تمہارے باپ مر جائیں ، ان پر ملامت کی زبان کو روک لو ورنہ وہ مقام پُر کرو جسے انہوں نے پُر کیا تھا یعنی ویسے بن کر دکھاؤ‘‘۔ ()
علامہ موفق بن احمد مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ،
ھذا مذھب النعمان خیر المذاھب
کذ القمر الوضاح خیر الکواکب
تفقہ فی خیر القرون مع التقیٰ
فمذھبہٗ لا شک خیر المذاھب
’’یہ نعمان بن ثابت کا مذہب بہترین مذہب ہے جس طرح چاند خوب روشن ہے اور ستاروں سے بہتر ہے۔یہ فقہ خیرُ القرون میں تقوے کے ساتھ مرتب ہوا، تو ان کا مذہب بلاشبہ بہترین مذہب ہے‘‘۔()
محمویہ رحمہ اللہ نے جو ابدال میں سے تھے، فرمایا، میں نے امام محمد کو بعد وصال خواب میں دیکھا تو پوچھا، کیا معاملہ ہوا؟ فرمایا، ’’مجھے بخش دیا اور فرمایا، اگر تمہیں عذاب دینا ہوتا تو تمہیں علم کا خزانہ نہ دیتا‘‘۔میں نے کہا، ابویوسف کا کیا حال ہے؟ فرمایا،’’ مجھ سے اوپر کے درجہ میں ہیں ‘‘۔ میں نے پوچھا، اور امام ابوحنیفہ؟ فرمایا، ’’وہ ابویوسف سے بہت سے طبقے اوپر یعنی اعلیٰ علیین میں ہیں ‘‘۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up