Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 98 of 168
اس کی ایک اور واضح مثال نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین کا مسئلہ ہے جو صحیح احادیث کی رو سے منسوخ ہو چکاہے ۔ اگر صرف صحاح ستہ کو دیکھا جائے تو ناسخ حدیثیں صحیح مسلم ، نسائی، ترمذی، ابو داؤد اور بخاری میں بھی موجود ہیں ۔صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ باب سنۃ الجلوس فی التشھد میں حضرت ابو حمید ساعدی رضی اﷲ عنہ نے حضور ﷺ کی نماز کا طریقہ بیان کیا اور رفع یدین کا ذکر نہیں کیا اس سے بھی معلوم ہوا کہ رفع یدین منسوخ ہو چکاتھا۔ رفع یدین ، آمین بالجھر ، قراٰۃ خلف الامام و دیگر مسائل پر ہم علیحدہ سے ایک باب میں گفتگو کریں گے ۔
’’ مسائل فقہ میں متعدد مثالیں موجود ہیں جن میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہنے حدیث و اثر کی وجہ سے قیاس کومطلقاً ترک کر دیاہے مثلاً نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یہ قیاس کے خلاف ہے امام مالک رضی اﷲ عنہ وغیرہ کا مذہب بھی یہ ہے کہ یہ ناقضِ وضو نہیں ۔ امام محمدرضی اﷲ عنہ اس بارے میں استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قیاس وہی ہے جو اہلِ مدینہ کہتے ہیں لیکن حدیث کے ہوتے ہوئے قیاس کوئی چیز نہیں ۔امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ حدیث میں وارد ہے کہ ’’ روزے میں بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا‘‘۔ حالانکہ یہ قیاس کے خلاف ہے ۔ کیونکہ قیاس یہ کہتا ہے کہ جب کھا پی لیا تو روزہ ختم ۔ امام نے فرمایا، ’’اگر اس بارے میں احادیث نہ ہوتی تو میں روزہ قضا کرنے کا حکم دیتا‘‘۔ ()
اسی طرح امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ قرعہ اندازی کو جائز سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ قیاس کی رو سے تو قرعہ اندازی درست معلوم نہیں ہوتی لیکن ہم قیاس کو حدیث اور سنتِ نبوی کی وجہ سے ترک کر دیتے ہیں ۔ ()
علی بن عاصم رحمہ اﷲ فرماتے ہیں کہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ پہلے عطا ء بن ابی رباح رضی اﷲ عنہ کے قول پر فتویٰ دیا کرتے تھے کہ حیض کی مدت پندرہ د ن ہے مگر جب آپ کے سامنے حضرت انس رضی اﷲ عنہ کی روایت آئی کہ’’ حیض کی مدت تین دن سے دس دن تک ہے باقی ایام اگر خون آئے تو استحاضہ ہے ‘‘ تو آپ نے سابقہ فتویٰ سے رجوع کر لیا اور قیاس ترک کر دیا ۔()
جب آپ کی امام باقررضی اﷲ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا، سنا ہے تم قیاس کی بناء پر ہمارے نانا رسول کریم ﷺ کی احادیث کی مخالفت کرتے ہو؟ آپ نے عرض کی، یہ سراسر بہتان ہے۔ دیکھیے! عورت مرد سے کمزور ہے لیکن وراثت میں اس کا حصہ مرد سے نصف ہے ۔ اگر میں قیاس کرتا تو فتویٰ دیتا کہ عورت کو مرد سے دوگنا حصہ ملنا چاہیے لیکن میں ایسا نہیں کرتا۔ اسی طرح نماز، روزے سے افضل ہے جبکہ حائضہ عورت پر روزے کی قضا ہے، نماز کی نہیں ۔ اگر میں قیاس کرتا تو حیض سے پاک ہونے والی عورت کو نماز کی قضاء کا بھی حکم دیتا مگر میں حدیث کے مطابق روزے ہی کی قضاء کا حکم دیتا ہوں ۔ یونہی پیشاب منی سے زیادہ نجس ہے۔ اس لیے اگر میں قیاس کرتا تو پیشاب کرنے والے کو غسل کا حکم دیتا اور احتلام والے کو صرف وضو کے لیے کہتا۔ لیکن میں احادیث کے مقابل قیاس نہیں کرتا۔یہ سن کر امام باقر رضی اﷲ عنہ اسقدر خوش ہوئے کہ انہوں نے آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا۔()
اسی طرح شرعی احکام والی روایت کا ایک سے زیادہ صحابہ سے منقول ہونا ضروری ہے۔ اس لیے عضو خاص کو چھونے سے وضو ٹوٹنے والی حدیث پر عمل نہیں کیا گیا جس کو صرف حضرت بسرہ رضی اﷲ عنہنے تنہا روایت کیا حالانکہ اس کا جاننا عام لوگوں کے لیے ضروری تھا۔ ()
امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ اس حدیث پر بھی عمل نہیں کرتے جو کسی فنی سقم کی بنا پر نا مقبول ہو اور اس کے مقابل صحیح حدیث موجود ہو ۔ آپ چھوہاروں کے بدلے میں تازہ کھجور کی تجارت جائز قرار دیتے ہیں ۔ اہل بغداد نے یہ حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ نے تازہ کھجور وں کو چھوہا روں کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا، یہ حدیث زید بن ابی عیاش پر موقوف ہے اور ان کی روایت متروک سمجھی جاتی ہے اس لئے یہ نامقبول اور شاذ ہے۔ جبکہ صحیح حدیث کی رو سے یہ تجارت جائز ہے۔()
Share:
keyboard_arrow_up