’’میں نے اس کتاب میں جو احادیث جمع کی ہیں وہ صحیح ہیں لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ جن احادیث کو میں نے چھوڑ دیا ہے، وہ ضعیف ہیں ‘‘۔
امام بخاری و امام مسلم رحمہما اللہ کے ان ارشادات سے ثابت ہوا کہ کسی حدیث کا بخاری یا مسلم میں نہ ہوناہرگز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ حدیث ضعیف ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اصول وضوابط کے مطابق اگر وہ حدیث ضعیف ہے تو بخاری و مسلم میں ہونے کے باوجود ضعیف ہے اور اگر راوی قوی ہیں اور وہ حدیث صحاح ستہ کے علاوہ کسی اور کتاب میں مروی ہے تو وہ حدیث ہرگز ضعیف نہیں ہے۔
علامہ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ،’’یہ دونوں کتابیں اصح کتبُ الحدیث ہیں مگر ان میں تمام احادیثِ صحیحہ کا احاطہ نہیں کیا گیا بلکہ ان کی اپنی شرائط کے مطابق جو حدیثیں ہیں وہ سب بھی ان کتابوں میں درج نہیں ہیں ‘‘۔ ()
نیزاہلِ علم کے نزدیک یہ حقیقت بھی ثابت شدہ ہے کہ ان دونوں کتابوں میں ضعیف روایات بھی ہیں ۔ ایسے ضعیف راویوں کا ذکر کرتے ہوئے علامہ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں ،’’ جن راویوں سے روایت کرنے میں امام بخاری منفرد ہیں ان کی تعداد 435ہے جن میں سے 80 راویوں کو ضعیف کہا گیا ہے۔ اور جو راوی امام مسلم کے ساتھ مخصوص ہیں ان کی تعداد620 ہے ان میں سے 160 کو ضعیف کہاگیا ہے ‘‘۔ ()
باب نہم(9) عمل بالحدیث
بعض لوگوں نے امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ پر یہ بد گمانی کی ہے کہ وہ احادیث صحیحہ کے خلاف بِلا کسی دلیل کے عمل کرتے تھے(معاذ اﷲ)۔اس عنوان سے امام ابن حجر مکّی شافعی رحمہ اﷲ نے الخیرات الحسان میں ایک فصل تحریر کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں ،’’ جن لوگوں نے یہ گمان کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے سستی کی اور آپ کے اصول و قواعد کی پرواہ نہ کی اور ان میں غور و فکر نہ کیا کیونکہ ان میں سے جیسا کہ ابن عبدالبر وغیرہ نے کہا ہے کہ خبرِ واحد جب اجماعی اصولوں کے خلاف ہو تو وہ قابلِ قبول نہیں اس لئے امامِ اعظم رحمہ اﷲ ایسی خبر پر قیاس کو ترجیح دیتے ہیں ‘‘۔ ()
فقہ حنفی کی معتبر کتب میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ خبرِ واحد قیاس پر مقدم ہے جبکہ وہ اجماعی اصولوں کے خلاف نہ ہو۔علامہ شامی رحمہ اﷲ حنفیوں کے اصل’’ اصحابُ الحدیث‘‘ ہونے کی وجوہ یہ بیان کرتے ہیں ، ’’کیونکہ حنفی مرسل حدیث پر بھی عمل کرتے ہیں اور خبر واحد کو قیاس پر مقدم رکھتے ہیں ( اس لئے وہ اصل اہلحدیث ہیں ) ‘‘۔()
امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے نزدیک خبرِ واحد سے عمومِ قرآن میں نہ تو تخصیص ہوتی ہے اور نہ ہی نسخ ہوتا ہے کیونکہ خبرواحد ظنی ہے اور قرآن یقینی ہے اور جو دلیل زیادہ قوی ہو ،اس پر عمل کرنا چاہیے۔ چنانچہ اسی قسم کی حدیث یہ ہے کہ’’ سورۃ فاتحہ کے بغیر کوئی نماز نہیں ‘‘۔ یہ حدیث قرآن کی آیت فاقرء وا ما تیسر منہ (قرآن سے جو چاہو ، تلاوت کرو) کے مخالف ہے۔ اس موضوع پر امام ابن حجر مکی رحمہ اﷲ کی تصنیف الخیرات الحسان کی چالیسویں فصل کا ضرور مطالعہ کیجیے۔
جیسا کہ پہلے مذکور ہوا کہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ ناسخ و منسوخ احادیث کو تلاش کرتے اور ناسخ حدیث پر عمل کرتے ۔ ظاہر ہے کہ ناسخ حدیث پر عمل بھی تو حدیث پر ہی عمل ہے ۔ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ محض اپنی رائے سے تو حدیث کو منسوخ نہیں کرتے تھے۔ امام ابن حجررحمہ اﷲ لکھتے ہیں ، ’’ راوی کاا پنی روایت کے خلاف عمل کرنا اس کی روایت کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ برتن میں کتے کے منہ ڈالنے سے تین مرتبہ دھونے پر عمل کیا جاتا ہے جو کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کا عمل ہے حالانکہ انہی سے سات مرتبہ دھونے کی روایت موجود ہے‘‘۔ ()
Page 97 of 168

