Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 96 of 168
یہی روشِ آداب بحمداللہ تعالیٰ ہم اہلِ توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے۔ یہی نسبت ہمارے نزدیک امام ابن الجوزی کو حضور سیدنا غوثِ اعظم اور محدث علی قاری کو حضرت خاتم ِ ولایتِ محمدیہ شیخِ اکبر سے ہے۔ نہ ہم بخاری وابن جوزی و علی قاری کے اعتراضات سے شانِ رفیع امامِ اعظم و غوثِ اعظم و شیخِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر کچھ اثر سمجھیں نہ ان حضرات سے کہ بوجہ خطا فی الفہم معترض ہوئے، الجھیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ ان کا منشائِ اعتراض بھی نفسانیت نہ تھا بلکہ اُن اکابرمحبوبانِ خدا کے مدارکِ عالیہ تک درس ادراک نہ پہنچنا لاجرم اعتراض باطل اور معترض معذور، اور معترض علیہم کی شان ارفع واقدس۔()
اَصح کتب الحدیث:
بعض اہل بدعت یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ حنفی بخاری کو ’’ اصح الکتب‘‘ مانتے ہیں تو بخاری پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ اس میں لکھا ہے کہ رفع یدین کرو، آمین بلند آواز سے کہو، امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھو وغیرہ، تو پھر حنفی ان پر عمل کیوں نہیں کرتے؟
اس کے جواب میں شارح بخاری لکھتے ہیں کہ اصح کتب بعدَ کتاب اللہ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ قرآن مجید کی طرح اس کا حرف حرف نقطہ نقطہ صحیح اور حق ہے۔ اس کا حاصل صرف یہ ہے کہ آج تک حدیث میں جتنی کتابیں لکھی گئیں بلااستثناء ان سب میں صحیح کے ساتھ ضعیف احادیث بھی درج ہیں ، اس سے بخاری بھی مستثنیٰ نہیں ۔ البتہ دوسری کتابوں کے بہ نسبت اس میں ضعیف حدیثیں کم ہیں دوسروں میں تناسب کے لحاظ سے زائد ہیں ۔ اب اصح الکتب کا مطلب یہ ہوا کہ حدیث کی دوسری تمام کتابوں کی بہ نسبت اس میں صحیح حدیثیں زیادہ ہیں ضعیف حدیثیں کم ہیں ۔ …… ……
امام بخاری سے ( بتقاضائے بشریت) اس کتاب میں کئی جگہ لغزش ہوئی ہے اس لیے اصح الکتب کا یہ مطلب لینا کہ بخاری میں جو کچھ ہے خواہ وہ حدیث نہ ہو بلکہ امام بخاری کا قول اور ان کی تحقیق ہو سب حق ہے ، یہ اصح الکتب کی معنی کی تحریف ہے ۔ جس نے بھی بخاری کو اصح الکتب کہا وہ صرف احادیث کے اعتبار سے کہا۔ امام بخاری کے فرمودات (اور اقوال) کو اس میں کسی نے داخل نہیں کیا۔ مگر کیا کیجیے باطل پرستوں کو جب کوئی دلیل نہیں ملتی تو وہ اسی قسم کی فریب کاری کرتے ہیں ‘‘۔ ()
باقی رہے نماز سے متعلقہ امور تو اس بارے میں عرض ہے کہ کئی امور کے متعلق امام بخاری رحمہ اللہنے محض اپنی رائے کو ابواب کے عنوان کے طور پر پیش کیا ہے اور کئی امور کے لیے ایسی احادیث سے استدلال کیا ہے جو منسوخ ہیں ۔ رسول کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق نماز سے متعلق ہم ایک باب میں تفصیلی گفتگو کریں گے۔
بعض کم علم وکم فہم یہ کہتے ہیں کہ’’ صرف وہ احادیث معتبر ہیں جو بخاری میں ہیں ، ان کے سوا کوئی حدیث معتبر نہیں ‘‘۔ یہ بات بھی بالکل غلط اور گمراہی ہے۔ کیا یہ نظریہ کسی آیت یا حدیث سے اخذ کیا گیا ہے یا یہ بات امام بخاری رحمہ اللہنے خود ارشاد فرمائی ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ تو کہتے ہیں کہ ’’میں نے اپنی صحیح میں صرف صحیح حدیثوں کو جمع کیا ہے لیکن کثیر تعداد میں صحیح حدیثوں کو روایت نہیں بھی کیا ہے‘‘۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’مجھے ایک لاکھ صحیح اور دو لاکھ غیر صحیح حدیثیں یاد ہیں ‘‘۔ جبکہ ان کی کتاب صحیح بخاری میں کل سات ہزار دو سو پچھتر (۲۷۵،۷) احادیث ہیں اور اگر تکرار کو حذف کر دیا جائے تو صرف چار ہزار حدیثیں باقی رہ جاتی ہیں ۔()
اگر صحیح بخاری کی کُل احادیث کو امام بخاری رحمہ اللہ کے ارشاد کے مطابق ایک لاکھ صحیح احادیث سے نکال لیا جائے تب بھی بانوے ہزار سات سو پچیس (۷۲۵،۹۲) صحیح احادیث کا عظیم ذخیرہ باقی رہ جاتا ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہنے روایت نہیں کیا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ ، امام شافعیرحمہ اللہ کے مقلد تھے اس لیے انہوں نے ایک لاکھ صحیح احادیث میں سے صحیح بخاری میں وہی احادیث جمع کیں جو مذہبِ شافعی پر دلیل ہیں ۔اسی طرح امام مسلم رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ :
Share:
keyboard_arrow_up