اس وقت ہمارے امامِ اعظم رضی اللہ عنہبھی وہاں تشریف فرما تھے۔ امام اعمشرضی اللہ عنہ نے ہمارے امام سے فتویٰ لیا۔آپ نے سب مسائل کا فوراً جواب دیا۔ امام اعمشرضی اللہ عنہ نے کہا، یہ جواب آپ نے کہاں سے اخذ کیے؟
آپ نے فرمایا، انہی حدیثوں سے جو میں نے آپ سے سنیں ۔اور پھر آپ نے وہ احادیث مع اسانید پڑھ کر بتا دیں ۔ امام اعمش نے فرمایا،’’ بس کیجیے، میں نے جو حدیثیں سو دن میں بیان کیں وہ آپ نے گھڑی بھر میں مجھے سنا دیں ۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ احادیث سے اسقدر مسائل اخذ کرتے ہیں ۔
یا معشر الفقھاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ وانت ایھا الرجل بکلا الطرفین۔
اے فقہاء ! تم طبیب ہو اور ہم محدثین عطار ہیں ۔اور اے ابوحنیفہ! تم نے تو دونوں کنارے گھیر لیے‘‘۔
یہ روایت امام ابن حجر مکی شافعیرحمہ اللہ وغیرہ ائمہ شافعیہ نے اپنی تصانیف الخیرات الحسان وغیرہا میں بیان فرمائی۔ یہ تو یہ ، خود ان سے بدرجہا اجل واعظم، ان کے استاذ اکرم واقدم، امام عامر شعبی رضی اللہ عنہ جنہوں نے پانچ سو صحابہ کرام کا زمانہ پایا، حضرت مولیٰ علی و سعد بن ابی وقاص وسعید بن زید و ابوہریرہ وانس بن مالک و عبداللہ بن عمر و عبداللہ بن عباس و عبداللہ بن زبیرو عمران بن حصین وجریر بن عبداللہ ومغیرہ بن شعبہ وعدی بن حاتم وامام حسن و امام حسین وغیرہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین بکثرت اصحابِ کرام رسول اللہ ﷺ کے شاگرد اور ہمارے امامِ اعظم کے استاذ جن کا پایۂ رفیع ، حدیث میں ایسا تھا کہ فرماتے ہیں ، ’’بیس سال گزرے ہیں کہ کسی محدث سے کوئی حدیث میرے کان تک ایسی نہیں پہنچتی جس کا علم مجھے اس محدث سے زائد نہ ہو‘‘۔ایسے مقام والا مقام باآں جلالتِ شان فرماتے ہیں ،’’ہم لوگ فقیہ ومجتہد نہیں ، ہم نے تو حدیثیں سن کر فقیہوں کے آگے روایت کر دی ہیں جو ان پر مطلع ہو کر کاروائی کریں گے‘‘۔ اسے شیخ زین نے تذکرۃ الحفاظ میں تحریر کیاہے۔
کاش امام اجل سیدنا امام بخاری علیہ رحمۃ الباری اگر فرصت پاتے اور زیادہ نہیں ، دس بارہ ہی برس امام حفص کبیربخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ حنفیہ سے فقہ حاصل فرماتے تو امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہکے اقوالِ شریفہ کی جلالتِ شان و عظمتِ مکان سے آگاہ ہو جاتے ، امام ابو جعفر طحاوی حنفیرحمہ اللہ کی طرح ائمہ محدثین و ائمہ فقہاء دونوں کے شمار میں یکساں آتے مگر تقسیمِ ازل جو حصہ دے ۔
ہر کسے راہبر کارے ساختند
میل او اندر دلش انداختند
یعنی جس کو کسی کام کے لیے تیار کرنا ہوتاہے اس کام کی محبت اس کے دل میں ڈال دیتے ہیں ۔
اور انصافاً یہ تمنا بھی عبث ہے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہایسے ہوتے تو امام بخاری ہی نہ ہوتے بلکہ ان ظاہر بینوں کے یہاں وہ بھی ائمہ حنفیہ کی طرح معتوب و معیوب قرار پاتے۔فالی اللہ المشتکی وعلیہ التکان(اللہ تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں فریاد ہے اور اسی پر بھروسا ہے)۔
بالجملہ ہم اہلِ حق کے نزدیک حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کو حضور پُرنور امامِ اعظم رضی اللہ عنہ سے وہی نسبت ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضورپُرنور امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا و مولٰنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الاسنی سے کہ فرقِ مراتب بے شمار اور حق بدستِ حیدر کرار، مگر معاویہ بھی ہمارے سردار، طعن ان پر بھی کارِ فجّار۔ جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں (عیاذاً باللہ)اسدُ اللہرضی اللہ عنہ کے سبقت واولیت وعظمت و اکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی، اور جوحضرت علی رضی اللہ عنہکی محبت میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت و نسبتِ بارگاہِ رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی۔
Page 95 of 168

