غیرمقلدوں کے امام ابن تیمیہ نے آزاد خیالی کے باوجود ایسے متعصب حاسدوں کی پُرزور تردید کی اور لکھا،
’’امام ابوحنیفہ سے بعض مسائل میں اختلاف کے باوجود کوئی شخص بھی ان کے تفقہ، فہم اور علم میں شک وشبہ نہیں کر سکتا۔ کچھ لوگوں نے ان کی توہین وتحقیر کے لیے ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو قطعاً جھوٹ ہیں جیسے خنزیربری کا مسئلہ اور اس قسم کے دیگر مسائل‘‘۔
آخر میں علامہ سخاوی رحمہ اللّٰہ کا فیصلہ نقل کر کے اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں،
’’حافظ ابن حبان نے کتاب السنۃ میں ،یا حافظ ابن عدی نے کامل میں ، یا ابوبکر خطیب نے تاریخ بغداد میں ،یا ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں ، یا بخاری اور نسائی نے بعض ائمہ کے بارے میں جو لکھا، یہ ان کی شانِ علم واتقان سے بعید ہے۔ ان باتوں میں ان کی پیروی نہ کی جائے، اس سے احتراز کیا جائے۔ بحمدہٖ تعالیٰ ہمارے مشائخ کا یہی طریقہ تھا کہ اسلاف کی اس قسم کی باتوں کو مشاجراتِ صحابہ کی قبیل سے مانتے تھے اور سب کا ذکر خیر سے کرتے تھے‘‘۔
مقامِ امامِ اعظم اور امام بخاری:
چودھویں صدی ہجری کے مجددِ برحق، شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ غیر مقلدین کے ایک اعتراض کے جواب میں کثیر دلائل دیکر آخر میں فرماتے ہیں ، ’’امام الائمہ امام اعلم اما م اعظم رضی اللّٰہ عنہ کہ امام بخاری رحمہ اللّٰہ کے امام و متبوع سیدنا امام شافعی رضی اللّٰہ عنہ جن کی نسبت شہادت دیتے ہیں کہ’’ تمام مجتہدین امام ابوحنیفہ کے بال بچے ہیں ‘‘۔
حفظِ حدیث و نقدِ رجال و تنقیحِ صحت وضعفِ روایات میں امام بخاری رحمہ اللّٰہ کا اپنے زمانے میں پایۂ رفیع والا، صاحبِ رتبۂ بالا، مقبولِ معاصرین و مقتدائے متاخرین ہونا مسلّم۔ کتبِ حدیث میں ان کی کتاب بیشک نہایت چیدہ وانتخاب جس کے تعالیق و متابعات و شواہد کو چھوڑ کر اصولِ مسانید پر نظر کیجیے تو ان میں گنجائشِ کلام تقریباً شاید ایسی ہی ملے جیسے مسائل ثانیہ امامِ اعظم میں ۔رضی اللّٰہ عنہ اور یہ بھی بحمدللّٰہ حنفیہ و شاگردانِ امام ابوحنیفہ و شاگردانِ شاگردِ امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ مثل امام عبداللّٰہ بن مبارک وامام یحییٰ بن سعید قطان و امام فضیل بن عیاض و امام مسعر بن کدام و امام وکیع بن الجراح و امام لیث بن سعد و امام معلی بن منصور رازی و امام یحییٰ بن معین وغیرہم ائمہ دین رحمۃ اللّٰہ علیہم اجمعین کا فیض تھا کہ امام بخاری رحمہ اللّٰہ نے ان کے شاگردوں سے علم حاصل کیا اور ان کے قدم پر قدم رکھا اور خود امام بخاری کے استاذِ اجل امام احمد بن حنبل ، امام شافعی کے شاگرد ہیں ، وہ امام محمد کے، وہ امام ابویوسف کے، وہ امام ابوحنیفہ کے، رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔(گویا امام بخاری، امامِ اعظم کے پانچویں درجے میں شاگرد ہوئے) مگر یہ کارِ اہم ایسا نہ تھا کہ امام بخاری رحمہ اللّٰہ اس میں ہمہ تن مستغرق ہو کر دوسرے کارِ اجل واعظم یعنی فقاہت واجتہاد کی بھی فرصت پاتے۔
اللّٰہ عزوجل نے انہیں خدمتِ الفاظِ کریمہ کے لیے بنایا تھا، خدمتِ معانی ائمہ مجتہدین خصوصاً امام الائمہ امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کا حصہ تھا۔ محدث ومجتہد کی نسبت عطار وطبیب کی مثل ہے۔ عطار دوا شناس ہے، اس کی دکان عمدہ عمدہ دواؤں سے مالامال ہے مگر تشخیصِ و معرفتِ علاج و طریقِ استعمال طبیب کا کام ہے۔ عطارِکامل اگر طبیبِ حاذق کے مدارکِ عالیہ تک نہ پہنچے، معذور ہے خصوصاً ملک اطبائے حذاق امام الائمہ آفاق جو ثریا سے علم لے آیا، جس کی دقتِ مقاصد کو اکابر ائمہ نے نہ پایا، بھلا امام بخاری رحمہ اللّٰہ تو نہ تابعین سے ہیں نہ تبع تابعین سے، بلکہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے پانچویں درجے میں جا کر شاگرد ہیں، خود حضرت امام اجل سلیمان اعمش رضی اللّٰہ عنہ کہ اجلہ تابعین و امام ائمہ محدثین سے ہیں ، حضرت سیدنا انس بن مالک انصاری رضی اللّٰہ عنہ خادمِ رسول اللّٰہ ﷺ کے شاگرد اور ہمارے امامِ اعظم کے استاد ، ان سے کچھ مسائل کسی نے پوچھے۔

