اسی لیے مبسوط میں امام مالک رضی ﷲ عنہ کے مذہب میں ذکر کیا گیا ہے کہ ایک عالم کی شہادت دوسرے عالم کے خلاف مقبول نہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ حسد و بغض رکھتے ہیں ۔
علماء کرام نے امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی مخالفت کے پانچ اسباب کا ذکر کیا ہے۔
اول: حسد ورقابت،
دوم:قاضی صاحبان کے فیصلوں میں غلطیوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح کرنا،
سوم: آپ کا عجمی ہونا،
چہارم : آپ کے اصولِ اجتہاد، طریقِ استنباط اوردلائل سے ناواقفیت
اور پنجم: مفسد اور فتنہ پرور لوگوں کا پروپیگنڈہ جو امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کے خلاف جھوٹی روایتیں گھڑا کرتے تھے۔
آخر الذکر کے متعلق شارح بخاری لکھتے ہیں : ’’ایسے لوگوں پر حیرت نہیں ، حیرت امام بخاری رحمہ اللّٰہ پر ہے کہ انہوں نے ایسے کذاب وضاع (مثلاً نعیم بن حماد)کی روایتوں پر اعتماد کر کے اپنی کتابوں میں اسے جگہ دی‘‘۔ حالانکہ نعیم بن حماد کے متعلق محدثین کی جرح موجود ہے۔ امام ابن حجر رحمہ اللّٰہ کے بقول، ’’یہ تقویتِ سنت کے لیے جعلی حدیثیں بنایا کرتا اور امام ابوحنیفہ کی توہین کے لیے جھوٹے قصے گھڑ کر پیش کرتا تھا‘‘۔
امام نسفی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں ،امام محمد رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایاکہ
’’حدیث درست نہیں رہتی مگر فقہ کے ساتھ، اور فقہ درست نہیں رہتی مگر حدیث کے ساتھ۔ یہان تک کہ جو دونوں میں سے ایک میں لائق ہو اور دوسری میں نہ ہو وہ منصبِ قضاء وفتوی کے لائق نہیں ۔ کیونکہ محدث جو فقیہ نہ ہو اکثر غلطی کرتا ہے‘‘۔ چنانچہ امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللّٰہ کی نسبت مروی ہے کہ ان سے دو بچوں کی بابت فتویٰ طلب کیا گیا جنہوں نے ایک بکری کا دودھ پیا۔ امام بخاری رحمہ اللّٰہ نے ان کے درمیان حرمتِ رضاعت ثابت ہونے کا فتویٰ دے دیا۔ اور یہ ان کے بخارا سے نکلنے کا سبب ہوا۔
یہ واقعہ امام ابوحفص کبیر حنفی رحمہ اللّٰہ کے زمانے میں ہوا۔ علامہ نور بخش توکلی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں ،
اسی واقعہ کے سبب امام بخاری رحمہ اللّٰہ کے دل میں حنفی علمائے کرام کی طرف سے کشیدگی پیدا ہو گئی چنانچہ انہوں نے حضرت امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کو اپنی صحیح میں اور اس سے بھی بڑھ کر اپنی تاریخ میں توہین آمیز الفاظ سے یاد کیا ہے۔ تجاوز اللّٰہ عنا وعنہ۔
() امام بخاری رحمہ اللّٰہ نے نعیم بن حماد کے علاوہ اپنے شیخ حمیدی کے حوالے سے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے متعلق ایسی لغو باتیں نقل کیں جو ان کے شایانِ شان نہ تھیں ۔انہوں نے حمیدی کے حوالے سے لکھا کہ امامِ اعظم کو مکہ میں ایک حجام سے تین سنتیں حاصل ہوئیں ۔پھر حمیدی نے کہا،’’ وہ شخص جس کو مناسکِ حج کی سنتیں معلوم نہ تھیں ،احکامِ الہٰی، وراثت، فرائض، زکوٰۃ، نماز اور دوسرے امورِ اسلام میں کس طرح اس کی تقلید کی جاسکتی ہے‘‘۔
حمیدی کے متعلق امام تاج الدین سبکی شافعی رحمہ اللّٰہ کی رائے بھی ملاحظہ فرمالیجیے۔
فرمایا،’’وہ فقہائے عراق کے بارے میں شدت پسند تھے اور ان کے خلاف بُرے کلمات استعمال کرتے تھے‘‘۔ حمیدی کے دعوے کے برخلاف جلیل القدر تابعی امام اعمش رضی اللّٰہ عنہ گواہی دیتے ہیں کہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ سے زیادہ حج کے مسائل جاننے والا کوئی نہیں ۔
امام ابن حجر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں ،
’’امام اعمش رضی اللّٰہ عنہ جب حج پر جانے لگے تو انہوں نے حج کے مسائل امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ سے لکھوائے اور فرمایا، امامِ اعظم سے مناسکِ حج لکھ لو، میں حج کے مسائل کا ان سے بڑھ کر کسی کو عالم نہیں جانتا‘‘۔

