Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 92 of 167

طبقاتِ شیخ الاسلام تاج الدین سبکی شافعی رحمہ اللّٰہ میں ہے کہ محدثین کے اس قاعدہ کو مطلق سمجھنے سے بچو کہ جرح تعدیل پر مقدم ہے۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ جس کی عدالت ثابت ہو جائے اور اس کی تعریف کرنے والے بہت ہوں اور اس پر جرح کرنے والے کم ہوں اور یہ قرینہ بھی موجود ہو کہ اس پر جرح کی وجہ مذہبی تعصب ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور وجہ ہے تو ایسے شخص کی جرح لائقِ التفات نہیں  پھر طویل گفتگو کے بعد فرمایا، جرح کرنے والے کی جرح اُس شخص کے متعلق قبول نہ کی جائے گی جس کی اطاعت اس کی معصیت پر غالب ہو، اور جس کی تعریف کرنے والے اس کی مذمت کرنے والوں پر غالب ہوں ، اور جس کی تعدیل کرنے والے اس کی جرح کرنے والوں پر غالب ہوں ، جبکہ وہاں ایسا قرینہ موجود ہو جو یہ ظاہر کرے کہ یہ جرح مذہبی یا دینوی تعصب کی بناء پر ہے یا کوئی اور وجہ ہو تو اس وقت سفیان ثوری وغیرہ کا کلام امام ابوحنیفہ کے متعلق ، ابن ابی ذئب وغیرہ کا امام مالک کے متعلق ، یحییٰ بن معین کا امام شافعی کے متعلق کلام لائقِ التفات نہیں ۔رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

اگر مطلقاً جرح کو تعدیل میں مقدم کریں تو کوئی امام نہ بچے گا کیونکہ ہر امام کے بارے میں طعن کرنے والوں نے طعنہ زنی کی ہے اور ہلاک ہونے والے اس میں ہلاک ہوئے ہیں ۔ بزرگوں سے ایک دوسرے کے حق میں بہت سی باتیں غصہ کی حالت میں صادر ہوگئیں ، بعض تو حسد پر محمول ہوئیں اور بعض کی تاویل کی گئی تاکہ جس کے حق میں بات کہی گئی اس پر کچھ حرف نہ آئے۔

خطیب بغدادی نے اپنی اصولِ حدیث کی کتاب ’’الکفایہ فی علم الروایہ‘‘ میں جرح کے قاعدے کے تحت امام مالک، سفیان ثوری سے لے کر یحییٰ بن معین رحمہم اللّٰہ تک ایک طبقہ قائم کر کے لکھا ہے، ’’جو اصحاب بلندیٔ ذکر، استقامتِ حال،صداقت کی شہرت اور بصیرت وفہم میں اصحابِ بالا کی مثل ہوں ، اُ ن کی عدالت کی بابت سوال نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ اور یہ روایت بھی لکھی ہے کہ امام احمد بن حنبل سے اسحق بن راہو یہ کی بابت سوال کیا گیا تو جواب میں کہا، کیا اسحق بن راہویہ کی شان کے آدمی کی نسبت سوال کیا جا سکتا ہے؟ مقامِ غور ہے کہ جب اسحق بن راہویہ جیسی شان کے آدمی کی نسبت بقول امام احمد بن حنبل سوال نہیں کیا جا سکتا تو امامِ اعظم کی شان تو اس سے بہت زیادہ ارفع اور بدرجہا بالا تر ہے۔

کسی نے عبداللّٰہ بن مبارک رحمہ اللّٰہ سے کہا ، فلاں شخص امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ پر اعتراض کرتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا، لوگوں نے امامِ اعظم سے اس لیے دشمنی کی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو وہ فضیلت عطا کی جس سے آپ شرفاء اور معززین پر فائق ہو گئے۔

شیخ طاہر پٹنی رحمہ اللّٰہ نے محدث ابن الاثیر جزری شافعی رحمہ اللّٰہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے،

’’امام ابوحنیفہ کی طرف خلقِ قرآن، قدر، اِرجاء جیسے اقوال منسوب کیے گئے جن سے ان کا دامن پاک ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا اُن کو ایسی شریعت دینا جو سارے آفاق میں پھیل گئی اور جس نے روئے زمین کو ڈھانپ لیا، اور ان کے مذہب و فقہ کا مقبولِ عام ہونا، اُن کی پاک دامنی کی دلیل ہے۔ اگر اس میں اللّٰہ تعالیٰ کا سِرّ خفی نہ ہوتا تو نصف یا اس کے قریب اسلام اُن کی تقلید کے جھنڈے کے نیچے نہ ہوتا‘‘۔

جب کوئی شخص امام یحییٰ بن معین رحمہ اللّٰہ کے سامنے امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی برائی بیان کرتا تو وہ دو اشعار پڑھتے جن کا مفہوم یہ ہے،

’’لوگوں نے اس نوجوان سے حسد کیا کیونکہ وہ اس کے رتبہ کو نہ پہنچ سکے لہٰذا لوگ اب اس کے مخالف اور دشمن بنے ہوئے ہیں ۔ جس طرح خوبصورت عورت کی سوکنیں حسد اور جلن کی وجہ سے اس کے خاوند سے کہتی ہیں کہ وہ تو بدصورت ہے‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up