Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 91 of 168
پنجم: اب آخر میں ایک امام الحدیث، ایک عظیم مورخ اور جرح و تعدیل کے ایک نامور امام کی رائے ملاحظہ فرمائیں ۔
علمِ حدیث کے امام ابو داؤد رحمہ اللہ(جن کی کتاب’’ سنن ابی داؤد‘‘ صحاح ستہ کا حصہ ہے) انہوں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کے فقہ و حدیث کے امام ہونے کی تصریح یوں فرمائی،رحم اللہ مالکاً کان اماماً رحم اللہ الشافعی کان اماماً رحم اللہ اباحنیفۃ کان اماماً۔
’’ اﷲ تعالیٰ کی رحمت ہو امام مالک پر کیونکہ وہ امام تھے،اﷲتعالیٰ کی رحمت ہو امام شافعی پر کیونکہ وہ امام تھے، اﷲتعالیٰ کی رحمت نازل ہو امام ابوحنیفہ پر کیونکہ وہ امام تھے‘‘۔ ()
امام ذہبی شافعی رحمہ اللہنے بھی امام ابوداؤد رحمہ اللہکا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے،ان ابا حنیفۃ کان اماماً۔’’بیشک ابوحنیفہ امام تھے‘‘۔()
مؤرخ شہیر علامہ ابن خلدون رحمہ اللہرقمطراز ہیں ،
ویدل علی انہ من کبار المجتہدین فی علم الحدیث اعتماد مذہبہ بینھم والتعدیل علیہ واعتبارہ ردا وقبولاً۔
’’ علمِ حدیث میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کے بڑے مجتہدین میں سے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ان کے مذہب پر اعتماد کیا جاتاہے اور ردو قبول میں ان پر اعتبار کیا جاتاہے‘‘۔ ()
اب ہم متاخر محدثین کے امام ، ماہر طبقاتِ رجال، علامہ شمس الدین ابو عبداﷲ الذہبی رحمہ اللہکی رائے لکھتے ہیں جو امام شافعی رضی اﷲ عنہ کے مذہب کے پیروکار تھے اور انہوں نے حفاظِ حدیث کے حالات میں 4 جلدوں پر مشتمل عظیم کتاب لکھی۔ محدثین کی اصطلاح میں حافظ وہ ہوتا ہے جسے کم از کم ایک لاکھ حدیثیں یاد ہوں ۔ آپ اس کتاب میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کو بھی حافظِ حدیث قرار دیتے ہوئے ان القاب سے یاد کرتے ہیں :
’’ ابو حنیفۃ الامام الاعظم فقیہ العراق الخ‘‘۔ ()
ان دلائل سے ثابت ہوگیا کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ امامِ اعظم ہیں ، کثیر الحدیث اور حافظ الحدیث ہیں ، ثقہ اور صادق ہیں نیز آپ کی مرویات صحیح احادیث ہیں ۔
جرح کا جواب:
امام ابن حجر مکی شافعی رحمہ اللہنے اپنی کتاب ’’الخیرات الحسان‘‘ میں ایک پوری فصل ان لوگوں کے رد میں تحریر کی ہے جنہوں نے امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ پر جرح کی۔ آپ لکھتے ہیں ،
’’امام ابوعمر یوسف بن عبدالبررحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کی اور ان کی توثیق کی اور ان کی تعریف کی، ان لوگوں کی تعداد ان پر جرح کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اور جن اہل حدیث نے آپ پر جرح کی، ان کی اکثر جرح یہی ہوتی ہے کہ آپ رائے اورقیاس میں منہمک تھے۔ یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ یہ کوئی عیب نہیں ۔ یہ مقولہ بھی مشہور ہے کہ آدمی کی عظمتِ شان کا اندازہ اس کے بارے میں لوگوں کے اختلافات سے ہوتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کے بارے میں دو گروہ ہلاک ہوئے۔ ایک حد سے زائد محبت کرنے والے اور دوسرے بغض کرنے والے۔
امام بخاری کے شیخ امام علی بن مدینی رحمہ اللہنے فرمایا، امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ سے سفیان ثوری، ابن مبارک، حماد بن زید، ہشام، وکیع، عباد بن عوام اور جعفر بن عون رحمہم اللہنے روایت کی ہے۔ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ ثقہ ہیں ، ان میں کوئی عیب نہیں اور امام شعبہرحمہ اللہ ان کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے۔ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہنے فرمایا، ہمارے اصحاب امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ اور ان کے اصحاب کے بارے میں زیادتی کرتے تھے تو ان سے پوچھا گیا، کیا امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے متعلق جھوٹ کی نسبت صحیح ہے؟ انہوں نے فرمایا، نہیں وہ اس عیب سے بلند تر اور پاک ہیں ۔
Share:
keyboard_arrow_up