Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 90 of 168
(تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے’’ الاقوال الصحیحہ فی جواب الجرح علی ابی حنیفہ‘‘ از: علامہ پروفیسرنور بخش توکلی رحمہ اللہ ص ۲۴۸ تا ص ۲۶۳)
مذکورہ راویوں میں کئی تو ایسے ہیں جن پر خود امام بخاری رحمہ اللہنے کتاب الضفاء میں جرح بھی کی ہے۔ علامہ ذہبی رحمہ اللہاس پر تعجب کرتے ہوئے لکھتے ہیں ،
’’ایوب بن عائذ کے مرجئی ہونے کی وجہ سے امام بخاری نے اسے ضعفاء میں درج کیا۔ تعجب ہے اس پر طعن بھی کرتے ہیں اور اس کی روایت بھی لیتے ہیں ‘‘۔ ()
چہارم: مولانا عبدالحئی لکھنوی لکھتے ہیں ، ’’ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے حق میں بعض متعصب متاخرین سے بھی جرح صادر ہوئی ہے جیسے دارقطنی اور ابن عدی وغیرہ۔ اس پر بہت بھاری دلائل شاہد ہیں کہ یہ جرح حسد اور تعصب کی وجہ سے کی گئی ہے اور اس تعصب سے کوئی بشر بھی محفوظ نہیں رہ سکتا مگر جسے اﷲ تعالیٰ محفوظ رکھے اور یہ پہلے بیان ہوا کہ اس جیسی جرح مقبول نہیں ہوتی بلکہ وہ جرح کرنے والے پر بھی پڑتی ہے ‘‘ ۔()
بعض محدثین جنہوں نے حاسدوں کے پروپیگنڈے کے باعث امامِ اعظم پر جرح کی تھی، بعد میں اصل حقیقت معلوم ہو جانے پر امامِ اعظم کی مخالفت سے رجوع کر لیا تھا۔ ان محدثین میں حافظ ابن عدی رحمہ اللہبھی ہیں جن کا مذکورہ بالا حوالے میں ذکر ہے۔ انہوں نے رجوع کے بعد تلافی کے طور پر امامِ اعظم رضی اﷲ عنہکی بعض روایات ایک مسند میں جمع کر کے مرتب کیں ۔
شارح بخاری امام بدرالدین عینی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ، ’’ امام یحییٰ بن معینرحمہ اللہ سے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ، وہ ثقہ ہیں ۔ میں نے کسی کو نہیں سنا کہ آپ کو ضعیف کہتا ہو۔ شعبہ بن حجاج آپ کو لکھتے ہیں کہ آپ حدیث روایت کریں اور شعبہ اور سعید بھی آپکو روایت کے لیے فرماتے ہیں ۔ یحییٰ بن معین نے یہ بھی فرمایا ہے کہ’’ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ ثقہ اور صادق ہیں اور ان پر جھوٹ کی تہمت نہیں ۔ وہ اﷲ تعالیٰ کے دین کے امین اور حدیث میں سچے ہیں ‘‘۔ عبداﷲ بن مبارک ، سفیان ابن عیینہ، اعمش ، سفیان ثوری، عبدالرزاق، حماد بن زید اور وکیع جیسے ائمہ کبار اور ائمہ ثلاثہ امام مالک،امام شافعی، احمد بن حنبل اور بہت سے دیگر ائمہ نے امام ابوحنیفہ کی تعریف کی ہے۔ (رضی اﷲ عنہم اجمعین)
اس گفتگو سے دارقطنی کا ستم اور تعصب ظاہر ہوگیا۔ پس وہ کون ہے جو امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کو ضعیف کہتا ہے وہ تو خود اس لائق ہے کہ اسے ضعیف کہا جائے، کیونکہ اس نے اپنی مسند میں سقیم و معلول و منکر و غریب و موضوع روایات نقل کی ہیں ۔ اس لیے وہ اس کا مصداق ہے کہ ’’ جب لوگ امام صاحب کی عظمت و شان کو نہ پہنچ سکے توآپ کے مخالف و دشمن بن گئے‘‘۔
مثل سائر میں ہے کہ سمندر مکھی کے گرنے سے گدلا نہیں ہوتا اور کتوں کے پینے سے ناپاک نہیں ہوتا۔وحدیث ابی حنیفۃ حدیث صحیح۔ ’’امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کی حدیث، صحیح حدیث ہے‘‘۔()
غور فرمائیے کہ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہکے زمانہ تک تو ایک آدمی بھی امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کو ضعیف کہنے والا نہ ہوا مگر غیر مقلدین و حاسدین ان کو پھر بھی ضعیف قرار دیں ، یہ تعصب و حسد نہیں تو پھر کیا ہے؟غیر مقلدین اپنے امام ابن تیمیہ ہی کا فرمان سن لیں ۔ انہوں نے امام مالک و امام شافعی و امام احمد وغیرہ کے ساتھ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف کا ذکر کرکے انہیں بھی ائمۃ الحدیث و الفقہ یعنی ’’حدیث و فقہ کا امام‘‘ قرار دیا ہے رضی اﷲ عنہم ۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up