Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 89 of 168
دوم: امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الضعفاء میں لکھا ہے کہ ’’ نعمان بن ثابت مرجی تھے اس بنا پر لوگوں نے ان کی روایت و حدیث لینے میں سکوت کیا ہے‘‘۔ (معاذ اﷲ) یہ سراسر بہتان ہے ۔ خود امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نے اپنی کتاب فقہ اکبر میں اِرْجاء کی تردید فرمائی ہے۔ علامہ سید محمد مرتضیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کی طرف ارجاء کی نسبت صحیح نہیں ہے کیونکہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے سب اصحاب مرجئہ کی رائے کے خلاف ہیں ……… یہاں تک کہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے نزدیک مرجیئہ کے پیچھے نماز جائز نہیں ‘‘۔ ()
علامہ محمد بن عبدالکریم شہرستانی شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ اور آپ کے اصحاب کو مرجیۃُ السنۃ کہا جاتا ہے۔ بہت سے اصحابِ مقالات نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کو مرجیہ میں شمار کیا ہے شاید اس کا سبب یہ ہے کہ چونکہ آپ قائل تھے کہ ایمان قلبی تصدیق کا نام ہے اور وہ کم و بیش نہیں ہوتا اس لیے انہوں نے یہ گمان کیا کہ آپ عمل کو ایمان سے مؤخر رکھتے ہیں حالانکہ آپ عمل میں اپنے مبالغہ و اجتہاد کے باوجود کس طرح ترکِ عمل کا فتویٰ دے سکتے تھے ‘‘۔ ()
اس عبارت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مشہور گمراہ فرقہ مرجیہ خالصہ ہے جبکہ مرجیۃُ السنۃ سے ایسے لوگ مراد ہیں جو اہلسنت ہیں مگر بعض ایسے مسائل کی وجہ سے جو اہلسنت کے نزدیک قابل اعتراض نہیں ، لغوی معنی میں ان پر اِرْجاء کا لفظ بولا گیا۔
شیخ ابو زہرہ مصری لکھتے ہیں ،’’ معتزلہ ہر اس شخص کو مرجئہ کہتے تھے جو کبیرہ گناہوں کے مرتکب کو دائمی جہنمی خیال نہ کرے بلکہ یہ سمجھے کہ وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر داخلِ جنت ہوگا اور خدا تعالیٰ اس کو معاف کردے گا۔ چنانچہ اس اعتبار سے امام ابوحنیفہ ، صاحبین ودیگر علماء کو بھی مرجئہ کہا گیا ہے‘‘ ۔ ()
’’محدث ابن قتیبہ نے اپنی مشہور کتابُ المعارف میں مرجیہ کے عنوان سے بہت سے فقہاء و محدثین کے نام لکھے ہیں ۔ حالانکہ ان میں سے اکثر حدیث و روایت کے امام ہیں اور صحیح بخاری و مسلم میں ان لوگوں کی سینکڑوں روایتیں موجود ہیں ۔ ہمارے زمانے کے بعض کوتاہ بین (غیر مقلد) اس پر خوش ہیں کہ امام صاحب کو بعض محدثین نے مرجیہ کہا ہے وہ ابن قتیبہ کی فہرست دیکھتے تو شاید ان کو ندامت ہوتی۔ محدث ذہبی نے میزانُ الاعتدال میں مسعر بن کدام کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ”اِرْجاء“ بہت سے علماء کبار کا مذہب ہے اور اس کے قائل پر مؤاخذہ نہیں کرنا چاہیے‘‘۔ ()
اس بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ سے تسامح ہوا ہے ۔
سوم: اگر امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے ’’ اِرْجاء‘‘ کی وجہ سے آپ کی روایات ضعیف قرار دی جاسکتی ہیں تو پھر اس الزام سے امام بخاری رحمہ اللہ بھی نہیں بچ سکتے کیونکہ انہوں نے صحیح بخاری میں ایسے سولہ (۱۶) راویوں سے روایت لی ہے جو مرجئی ہونے میں مشہور تھے۔ ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں :
1 ابراہیم بن طہمان ۔2 ایوب بن عائذ الطائی۔3 شبابہ بن سوار الفرازی۔4 عبدالحمید بن عبدالرحمٰن الحمانی۔5 عثمان بن غیاث البصری۔6 عمر بن ذر الہمدانی۔ 7 محمد بن خازم ابومعاویہ۔8 ورقاء بن عمر الیشکری۔9 یونس بن بکیر۔10 ابراہیم تیمی۔11 عبدالعزیز بن ابی رواد۔12 سالم بن عجلان۔13 قیس بن مسلم الجدلی۔14 خلاد بن یحییٰ بن صفوان۔15 بشر بن محمد السختیانی۔16 شعیب بن اسحاق بن عبدالرحمٰن۔()
صرف یہی نہیں بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ کے راویوں میں چار خارجی، چار جہمی، چار ناصبی، اُنیس شیعہ اور پچیس قدریہ فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔
Share:
keyboard_arrow_up